برکس گروپ کے ممالک کے درمیان جب تک آپسی قدروںکا اشتراک نہیںہوتاجوایک روشن خیال (لبرل) جمہوریت کیلئےضروری ہے،تب تک ان کاایک اتحاد بننے کا امکان کم ہے، یہی وجہ ہےکہ یورپ اور امریکہ اس گروپ کو سیاسی طورپر زیادہ اہم نہیں سمجھتے۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 3:09 PM IST | Avinash Paliwal | Mumbai
برکس گروپ کے ممالک کے درمیان جب تک آپسی قدروںکا اشتراک نہیںہوتاجوایک روشن خیال (لبرل) جمہوریت کیلئےضروری ہے،تب تک ان کاایک اتحاد بننے کا امکان کم ہے، یہی وجہ ہےکہ یورپ اور امریکہ اس گروپ کو سیاسی طورپر زیادہ اہم نہیں سمجھتے۔
یورپ اس وقت سیاسی ،سماجی اور معاشی غیر یقینی حالت سے گزررہا ہے اورعالمی طاقت کے طورپر کئی محاذوں پر امریکہ بھی ناکام نظر آرہا ہے۔ ان حالات میں برازیل ، روس ، ہندوستان ، چین اور جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک پر مشتمل برکس گروپ کاہندوستان میںاہم اجلاس ہوا اور انہی حالات کے پیش نظر یورپ میںبرکس گروپ کے تعلق سےسیاسی اہمیت و احترام کی فضانہیںپائی جاتی ۔ ایک نکتہ یہ بھی ہےکہ یورپ کو یہ احساس بھی ہےکہ برکس گروپ کے مقابلے میںوہ معاشی طورپر کہیںبرتر ہے ۔یورپ کیلئے باعث تشویش یہ نہیں ہےکہ برکس پلس گروپ کے ذریعےایک ایسا آرڈر وجود میں آرہا ہے جس کا مرکز ومحورہندوستان اور چین ہیں۔بلکہ اس کے سامنے یہ حقیقت ہےکہ ہندوستان اورچین نیز ایران اورمتحدہ عرب امارات جیسےممالک اس گروپ میں حلیف ومتحد ہونے کے باوجود (کئی پہلوؤں سے)حریفائی رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ حالیہ اجلاس میں جو نئی دہلی ڈکلیریشن منظور کیا گیا،اس میں بھی کافی نرم لہجہ اختیار کیا گیا ہےجو یورپ کیلئے کسی خاص پریشانی کا باعث نہیں ہے۔
اجلاس میںبرکس گروپ کی طاقت ، مقاصد اورامکانات پرتو بات ہوئی لیکن اس میںکچھ بنیادی طورپرچھوٹ گیا ۔ مثال کے طورپراس گروپ کے پاس مغرب کے خلاف مزاحمت اور مسابقت کیلئےکیا منصوبے ہیں۔اس گروپ کو اگر مغرب میں سیاسی کمترکے طورپردیکھا جارہاہے تویہیںسے آغاز کرنا بہتر ہوگاکیونکہ یورپ اور امریکہ میں برکس پلس کے حوالے سے طویل عرصے سے یہی رویہ پایا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فلسطین کو مٹایا یا نظرانداز نہیں کیا جاسکتا: اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر منصور
برکس گروپ کے ممالک کے درمیان جب تک آپسی قدروںکا اشتراک نہیںہوتاجوایک روشن خیال (لبرل) جمہوریت کیلئےضروری ہے،تب تک ان کاایک اتحاد بننے کا امکان کم ہے ۔
برکس پلس ممالک کا یقین اس بات پر ہے کہ ایک ہی اصول سب کے لئے موزوں نہیں ہو سکتا اوران کا نظریہ اس امر پر ٹکا ہوا ہےکہ دنیا کو زیادہ سے زیادہ کثیر قطبی ہونا چاہئے۔برکس پلس پر دوسرا الزام معاشی مفادات اور ان میں پائے جانے والے تضادات سے متعلق ہے۔ نیشنل ڈیولپمنٹ بینک (این ڈی بی) نے جسے۲۰۱۴ء میں ۱۰۰؍ ارب ڈالر کے ابتدائی سرمائے کے ساتھ قائم کیا گیا تھا، کئی افریقی، لاطینی امریکی اور ایشیائی ممالک کی ترقیاتی معاونت حاصل کرنے میں مدد کی۔ اگرچہ اس کا مقصد امریکہ کی زیر ِ قیادت مالیاتی اداروں کا متبادل فراہم کرنا تھا لیکن این ڈی بی کبھی بھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کی مالی اور سیاسی طاقت کا حقیقی مقابلہ نہیں کر سکا۔ مزید برآں، امریکی ڈالر بدستور دنیا میں سب سے زیادہ تجارت کی جانے والی کرنسی کی حیثیت سے باقی ہے ۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی برتری کے احساس نے مغرب میں اس دلیل کو تقویت دی ہے کہ برکس پلس اپنے معاشی مفادات کو ہم آہنگ کرنے اور ان کا انتظام سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔حالیہ برسوں میں یہ دلیل اکثر دی جارہی ہے۔ اول، ایک صنعتی اور تکنیکی سپر پاور کے طور پر چین کے غیر معمولی عروج نے سرد جنگ کے بعد کے جغرافیائی و معاشی توازن کو درہم برہم کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر یورپ میں، جرمن معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے کیونکہ اس کی آٹوموبائل انڈسٹری کو چینی کار ساز کمپنیوں کی جانب سے بقا کا خطرہ لاحق ہے۔ برلن کو امید ہے کہ دفاعی پیداوار کی طرف منتقلی اسے دو عالمی جنگوں کے درمیانی عرصےکی طرح درمیانی سے طویل مدتی معاشی سہارا فراہم کر سکتی ہے۔ لیکن، اسی دور کی طرح، فرانس اور پولینڈ میں شکوک و شبہات کا شکار حلقے برلن کے رخ پر سوال اٹھانے لگے ہیں، حالانکہ فی الحال وہ نیک نیتی کے ساتھ اس پر غور کررہا ہے۔ صنعتی بحران اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری پورے یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی سیاست اور اس سے وابستہ خطرات کو ہوا دے گی، انہیں کم نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے:گیانیش کمار کیخلاف کارروائی فی الفور ہو!
دوم، مغربی معاشی بالادستی کو چیلنج کرنے کیلئے برکس ممالک کو کسی مختلف کثیر جہتی ادارہ جاتی ڈھانچے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ، عالمی سپلائی لائنوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے، پابندیاں عائد کرنے اور ٹرمپ کے ٹیرف (محصولات) نے برکس پلس کے کئی رکن ممالک کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے بین الاقوامی تجارتی نیٹ ورکس اور سپلائی زنجیروں کو متنوع بنائیں، اور ایسے دو طرفہ تجارتی میکانزم تیار کریں جو ڈالر اور مغربی مالیاتی بنیادی ڈھانچے (مثلاایس ڈبلیو آئی ایف ٹی نیٹ ورک) سے آزاد ہوں۔ یہ ممالک مؤثر طریقے سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ امریکی اور یورپی نظاموں سے بچ کر نکلنے کے لیے بلاک کی سیاست کی ضرورت نہیں ہے۔ ادائیگی کے دو طرفہ میکانزم اور علاقائی کرنسیوں میںتبادلہ وغیرہ، ایسے متبادل پیش کرتے ہیں جو مغربی مالیاتی غلبے کو کمزور کرنے میں ویسا ہی اثر رکھتے ہیں جیسا کہ کوئی کثیرجہتی نظام رکھ سکتا ہے۔تیسرا ا ور آخری پہلو، مغربی دارالحکومتوں میں ’برکس پلس‘کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اسٹرٹیجک شبہات کا ہے۔ یہ خالصتاً طاقت کی سیاست کا معاملہ ہے۔ چین کا یورپ اور مغربی ایشیا میں امریکی اتحادیوں کے خلاف لڑنے کے لیے روس اور ایران کی معاونت کرنا، تجارتی جنگ کو مزید بڑھانے سے واشنگٹن کو کامیابی سے باز رکھنا، تکنیکی اور اقتصادی (اگرفوجی نہیں تو) میدانوں میں امریکہ کا ہم پلہ حریف ہونا، اور ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں نمایاں مالی اثر و رسوخ قائم کرنا، یہ اس بات کی علامات ہیں کہ بیجنگ طویل مدتی نظامی بالادستی کے لیے اپنی بنیادیں مضبوط کر رہا ہے۔ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ اس گروپنگ کو ’مغرب مخالف‘ اتحاد میں تبدیل کرنے کی چینی یا روسی کوششوں کے مقابلے میں ہندوستان اور برازیل ’توازن قائم کرنے والے‘کا کردار ادا کریں گے۔ لیکن بحر اوقیانوس کے دونوں اطراف (امریکہ اور یورپ) میں سیکوریٹی سے متعلق خدشات اتنے گہرے ہیں کہ امریکہ ان بظاہر غیر ہم آہنگ اراکین کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی اپنی کوششوں میں مزید اضافہ ہی کرے گا۔قابلِ ِذکر ہے کہ ہندوستان برکس گروپ میں چینی مداخلت کو محدود یا کمزور کرنے کے لیے اقدامات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا، جبکہ ساتھ ہی جہاں بھی ممکن ہو، اپنے مادی اور تزویراتی مفادات کے حصول کیلئے اس گروپنگ سے فائدہ بھی اٹھائے گا۔ آخر کار، چین نے بھی گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مغربی تسلط والے اداروں میں بالکل یہی طرزِ عمل اختیار کیا تھا۔ امریکہ کے خلاف چین کیا حکمت عملی اختیار کرسکتا ہے،وہ، نئی دہلی میں منعقدہ برکس اجلاس سے ظاہر ہوچکا ہے۔(بشکریہ ہندوستان ٹائمس)