ایک حالیہ عدالتی تبصرہ میں کہا گیا کہ خاتونِ خانہ کو ہوم میکر نہ کہا جائے، وہ معمارِ قوم ہوتی ہے۔ کیا اس نظریہ سے کبھی کسی نے سوچا؟ جب لوگ سوچنا اور غور کرنا چھوڑ دیں گے تو یہی ہوگا، سامنے کی بات بھی سمجھانی پڑتی ہے۔
ہفتۂ رواں کے دوران سپریم کورٹ کا یہ تبصرہ کہ خواتین ِ خانہ یا گھریلو خواتین کو ’’ہوم میکر‘‘ نہ کہو، وہ معمار قوم ہیں اس لئے بہت اہم ہے اور آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ ہندوستانی سماج اور معاشرہ میں اُن خواتین کو، جو ہاؤس وائف یا ہوم میکر کی درجہ بندی میں آتی ہیں ، قدرومنزلت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ اس کا احساس تب ہوتا ہے جب گھر کی ایک فرد خاتونِ خانہ کے طور پر گھریلو ذمہ داریاں ادا کرتی ہو اور دوسری ملازمت پیشہ ہو۔ گھر کے دیگر افراد کے ہاؤ بھاؤ، انداز گفتگو یا معاملات سے یہی تاثر ملتا ہے۔ بھلے ہی گھریلو خاتون کی ناقدری نہ ہوتی ہو مگر قدر جیسی قدر نہیں کی جاتی جبکہ ملازمت پیشہ خاتون کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ تمام گھروں میں ایسا نہیں ہوتا مگر اکثر گھروں کے ماحول میں یہی طرز عمل رَچا بسا ہوتا ہے۔
ہاؤس وائف اور ہوم میکر کی اصطلاحیں مغرب کی ہیں جو سند نہیں ہیں ۔ مغرب نے اپنے ذہن کو نسبتاً وسیع کرکے ہاؤس وائف کو ہوم میکر کہنا پسند کیا، اس طرح گھریلو خواتین کی ترقی ہوئی اور یہ تسلیم کیا گیا کہ خاتونِ خانہ ، گھر کی ترتیب و تہذیب میں ، تمام افراد خانہ کو مربوط رکھنے میں ، رشتے نبھانے میں اور نئی نسل کی ذہنی تربیت کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے والی شخصیت ہے جس کے بغیر مکان گھر نہیں بنتا۔ مکان اور گھر ؟ افتخار عارف نے کہا تھا:
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے
مَیں جس مکان میں رہتا ہوں اُس کو گھر کردے
اس شعر کی شہرت سے پہلے بہت کم لوگوں نے مکان اور گھر کے فرق کو اور اس حقیقت کو سمجھا ہوگا کہ ہر مکان گھر نہیں ہوتا اور مکان کے گھر بننے کے بعد ہی انسان معتبر ہوتا ہے۔ اچھے شعر کی یہی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے کہ بہت سی اَن کہی اور ’’اَن سمجھی‘‘ باتوں کو کہہ بھی دیتا ہے اور سمجھا بھی دیتا ہے۔ مغرب کے اکثر گھر، گھر نہیں مکان ہوتے۔ ان پر سرائے کا گمان ہوتا ہے مگر مشرقی تہذیب گھر کو گھر بناتی ہے اور گھر کو گھر مانتی ہے۔ یہ رجحان عہد قدیم سے ہے۔ ہم ہی نے مغرب کو معیار مان کر اُس کے طور طریقے سیکھ لئے اور اب نئی نسل بھی، جو اُردو سے زیادہ انگریزی جانتی ہے، قابل احترام خاتون ِ خانہ کو ہوم میکر کہتی ہے۔ پوچھئے امی کیا کرتی ہیں ، فوراً جواب ملتا ہے ہوم میکر ہیں ۔یہ اصطلاح اس قابل ہے کہ ا سے من حیث القوم ناپسند کیا جائے کیونکہ یہ، صوفہ میکر، کار میکر، آٹو میکر اور میچ میکر وغیرہ کے قبیل سے ہے۔
سپریم کورٹ نے ہوم میکر کے نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے اسے خالص ہندوستانی تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے جہاں ماں کی گود کو بچے کی اولین درس گاہ قرار دیا جاتا ہے۔ معمار قوم کہنا اُمور خانہ داری کی انجام دہی کو تسلیم کرنے سے زیادہ نسلوں کی تربیت کا اعتراف ہے۔ جن اساتذہ کو ہر خاص و عام معمار قوم مانتا ہے اُن کے سامنے حاضری سے پہلے چار پانچ سال تک تدریس و تربیت کا اہم فریضہ خاتونِ خانہ ادا کرتی ہے۔وہی اپنے جگر گوشے کو اس قابل بناتی ہے کہ درس گاہ میں اُستاد کے سامنے بیٹھنے کے قابل ہوسکے۔ نیپولین بوناپارٹ نے کہا تھا عورت وہ واحد یونیورسٹی ہے جہاں سے فارغ التحصیل افراد دُنیا کی قیادت سنبھالتے ہیں ۔ پھر ایسا نہیں کہ خاتونِ خانہ کا سلسلۂ تدریس و تربیت چار پانچ میں ختم ہوجاتا ہے۔ نہیں ، یہ سلسلہ بعد کے برسوں میں بھی جاری رہتا ہے۔
خاتونِ خانہ معمار قوم اس لئے بھی ہے کہ وہ تہذیب آشنا ہوتی ہے۔ وہ گھر کے در وبام ہی نہیں سجاتی، باورچی خانہ ہی نہیں سنبھالتی، ایک نسل یا زائد نسلوں کو سنوارتی ہے اور بالواسطہ، معاشرہ کو سنوارنے میں اپنا حصہ ادا کرتی ہے۔ اُس کا تجربہ، مشاہدہ، علم، معاملہ فہمی، دور اندیشی اور بصیرت سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ جو باتیں پڑھے لکھے لوگ نہیں جانتے وہ خاتونِ خانہ جانتی ہے۔ گھروں کی دادیوں اور نانیوں کو یا دکیجئے، ان کے سوچنے، سمجھنے، پیش آنے، معاملات سلجھانے اور تربیت کرنے کے کیا طریقے ہوا کرتے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے افلاطون یا ارسطو کی شاگردی میں رہی ہوں ۔ گھر کی اِن بزرگ خواتین کی موجودگی ہی گھر کی برکت اور اس کے نظم و نسق کی ِضمانت ہوتی تھی۔ یہ اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے کتنے قابل قدر مشورے دے دیا کرتی تھیں ۔ کتنے کام بنا دیتی تھیں ۔ کتنی نصیحتوں کے ذریعہ انسانی کردار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی تھیں ۔ رشتے ناطے جوڑنے میں انہیں ید طولیٰ حاصل تھا۔ خاتونِ خانہ سے سرپرست ِ خانہ بننے میں ان کا ایثار اور ہمہ وقت کچھ نہ کچھ سیکھتے رہنے کا وصف ہی تھا جو انہیں اعتبار عطا کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک معاشرہ تہذیب سے عاری نہیں ہوا تھا تب تک خاتونِ خانہ کو گھر کی ملکہ کہا جاتا تھا۔
مگر، کیا سپریم کورٹ کے تبصرہ سے سماج اور معاشرہ کا نظریہ بدلے گا؟ بلاشبہ لائق تعظیم وہ خواتین بھی ہیں جو ملازمت پیشہ ہونے کے باوجود اپنی گھریلو ذمہ داریاں بحسن و خوبی ادا کرتی ہیں ۔ ان کی قربانیوں کو بھی محسوس کرنا چاہئے اور ان کا اعتراف کرنا چاہئے مگر چونکہ بات تحقیر کی ہے جو عموماً خاتونِ خانہ کے ساتھ ہوتی ہے اس لئے عدالتی تبصرہ کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کو آخر یہ کیوں سمجھانا پڑا کہ خاتونِ خانہ ہوم میکر نہیں معمار ِ قوم ہے۔ شاید اس لئے کہ سماج اور معاشرہ اپنی روِش اور روایات سے ہٹ چکا ہے۔ اس نے سننا اور دیکھنا سیکھ لیا اور سوچنا، سمجھنا، محسوس کرنا اور غور کرنا ترک کردیا۔آڈیو ویژوئل دور نے اس سے کئی صلاحیتیں چھین لی ہیں ۔ ’’ماں ‘‘ کا جو تصور آج کے بچوں کے ذہنوں میں ہے وہ اُن کی اپنی ماں کا عکس کم، اُن ویڈیوز میں موجود ماں کا عکس زیادہ ہے جو وہ دیکھتے ہیں چاہے وہ کسی فلم کا ہو یا سیریل کا یا کسی شو کا۔ ماں پر چند سطریں لکھنے کیلئے کہئے، اگر دس بچے ہیں تو دسوں کی تحریریں ایک جیسی ہوں گی جبکہ سب کی ماں الگ ہے۔ ان میں کوئی خدمت گزاری کی اعلیٰ مثال ہوگی، کوئی مجسم ایثار ہوگی، کوئی ایسی ہوگی جو اپنے بچوں کے تئیں اعلیٰ جذبات رکھتی ہوگی اور کوئی ایسی جس نے گھر کو گھر ہی نہیں ، محل بنادیا مگر بچوں کی تحریریں ماؤں کی الگ الگ خصوصیات کا احاطہ نہیں کریں گی اور اس کی وجہ یہ ہوگی کہ انہوں نے خود سوچ کر اور اپنی والدہ کی خصوصیات کو محسوس کرکے نہیں لکھا بلکہ چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے جو بن پڑا لکھ دیا۔