Inquilab Logo Happiest Places to Work

پورا پورا ہندوستان ہمارا

Updated: August 14, 2026, 5:14 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستان بھی تقسیم ہوا اس کے باوجود ہندوستان میں گورکھا لینڈ، کشمیر، میزورم کی اور پاکستان میں بلوچستان اور جے سندھ پردیش یا خود مختار ملک کے بنائے جانے کی مانگ جاری ہے۔ ہم متحدہ (اکھنڈ) ہندوستان بنائے جانے کے ہامی ہیں مگر اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ صرف پاکستان اور بنگلہ دیش کو ملا کر اکھنڈ یا متحدہ بھارت کیسے بنا سکتے ہیں؟

Picture: INN
تصویر: آئی این این

آج ۱۴؍ اگست ہے اور کل ۱۵؍ اگست۔ ۱۴؍ کو ملک تقسیم ہوا تھا اور ۱۵؍ کو آزاد۔ آزادی کے نقطۂ آغاز کے سلسلے میں ٹیپو شہید کا بھی نام لیا جاسکتا ہے اور نواب سراج الدولہ کا بھی جنہیں میر صادق اور میر جعفر کی غداریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی میں بھی غداروں کی ایک پوری فصل تیار ہوئی جو انگریزوں کے مفاد کے لئے کام کر رہی تھی مگر علامہ شبلی نعمانی، منشی پریم چند، علامہ اقبال اور مولانا آزاد وغیرہ اسی دور میں پیدا ہوئے۔ وہ تحریک بھی اسی دوران میں پروان چڑھی جس کے نتیجے میں ملک آزاد ہوا۔ آزادی کے حصول کے سلسلے میں ہم کسی جماعت، فرقہ یا گروہ کی قربانیوں کے منکر نہیں ہیں۔ تکلیف ہے تو صرف یہ کہ نام لیا جاتا ہے تو صرف مسٹر جناح کا جو تقسیم کے آلۂ کار بنے، ان مسلم رہنماؤں کے نام لوگوں کی زبانوں پر نہیں ہیں جنہوں نے ملک کی تقسیم کی مخالفت کی مثلاً عطاءاللہ شاہ بخاری، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا آزاد، مولانا مودودی وغیرہ کے نام۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی ایک شخص یا جماعت کے اصرار پر کوئی ملک آزاد یا تقسیم ہوجائے مگر ہندوستان یا بھارت کی آزادی یا تقسیم کے سلسلے میں یہی معمول اِدھر بھی ہے اُدھر بھی حالانکہ ڈاکٹر لوہیا کی کتاب موجود ہے جس کا نام ہے ’آل دی گیلٹی مین آف پارٹیشن‘ ’وی‘ (ہم) اور ’دے‘ (وہ) کے لہجے میں بات کرنے والوں کی تحریریں بھی موجود ہیں جو تقسیم کی داستان بیان کرتی ہیں مگر جب بھارت کی آزادی اور تقسیم کی بات چھڑتی ہے تو نام لیا جاتا ہے صرف ایک جماعت اور ایک شخص کا۔

یہ بھی پڑھئے: خرابی ٔ حالات کے بعد تبدیلی ٔ حالات کا دَور

۱۹۴۷ء میں جو آزادی نصیب ہوئی اس کو سمجھنے کیلئے ۱۷۵۷ء سے ۱۸۰۰ء تک کے، ۱۸۰۰ء سے ۱۸۵۷ء تک کے اور ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک کے ادوار کو سمجھنا ضروری ہے۔ تبھی یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ تجارت کی غرض سے سمندر پار سے آنے والوں نے کس طرح ملک کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ ہمارے لئے نادر شاہ کی یلغار ۱۷۳۸ء اور احمد شاہ ابدالی کا حملہ ۱۷۶۱ء بھی قابل مذمت ہے مگر ان دونوں حملہ آوروں نے ملک پر قبضہ جما کر ملک والوں کے ذہنوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انگریزوں نے ٹیپو شہید اور نواب سراج الدولہ کو شکست دینے کے بعد مراٹھا سامراج کو بھی شکست دی اور بالآخر وہ دن آیا کہ ’’خلقت خدا کی، ملک بادشاہ سلامت کا اور حکم کمپنی بہادر کا‘‘ کا نعرہ بلند کیا جانے لگا۔ اس کے بعد متعدد تحریکیں وجود میں آئیں جن کا اوّل سرا شاہ ولی اللہ کی تحریک سے جا ملتا ہے۔ ان کے یعنی شاہ ولی اللہ کے انتقال کے بعد ان کے جانشینوں نے اس تحریک آزادی کو آگے بڑھایا۔ ۱۸۰۳ء میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا۔ اس کے متوازی شنکر اچاریہ جی کے حلقہ بگوشوں کی سنیاسی تحریک بھی انگریزوں کے مظالم کے خلاف سرگرم رہی۔ ’’۱۸۵۷ء کا تاریخی روزنامچہ‘‘ میں خلیق احمد نظامی نے لکھا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل جل کر دوش بدوش انگریزوں کے خلاف یہ جنگ ِ آزادی لڑی تھی اسی لئے ملکی طاقتوں نے بہادر شاہ کی قیادت میں جنگ ِ آزادی لڑنے میں تامل کیا نہ ہی پیشواء نے بہادر شاہ کو قائد تسلیم کرنے میں کوئی عذر کیا۔ نیاز فتح پوری نے بھی لکھا ہے کہ شاہ صاحب (شاہ ولی اللہ) کی تعلیمات و ہدایات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ وہ صرف حکومت ہی کی اصلاح نہیں چاہتے تھے بلکہ عام لوگوں میں سیاسی بیداری بھی پیدا کرنا چاہتے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ کی ہمہ گیر جمہوری تحریک عدل و انصاف، تربیت نفس اور صحت و صفائی کے لئے تھی۔ صفائی میں جسم، دکان، مکان اور کمائی کی صفائی شامل ہے۔ نہیں شامل ہے تو ہاتھ کی صفائی یا بدعنوانی اور بے ایمانی۔ شاہ ولی اللہ اور ان کے جانشینوں نے ہر قسم کی صفائی پر توجہ دی تھی سوائے ہاتھ کی صفائی کے۔ نیاز فتح پوری کا نام میں نے اس لئے لیا ہے کہ تاریخ نویسوں نے جو لکھا ہے سو تو لکھا ہی ہے ادیبوں اور شاعروں نے بھی خوب لکھا ہے اور بہت لکھا ہے۔ ’’پار پرے‘‘ میں مشہور افسانہ نگار جوگندر پال نے پورٹ بلیئر کے حوالے یا توسط سے انگریزوں کی آمرانہ ذہنیت اور آزادی کے متوالے قیدیوں کی ذہنی کیفیت کو لفظوں کی صورت میں تخلیقی سطح پر پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تاریخ یقیناً ڈاکٹر سنگھ کو احترام کے ساتھ یاد رکھے گی

ان تحریروں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ویران جزیرے کا انتخاب انگریزوں کی حکمت عملی میں شامل تھا تاکہ آمریت کے لئے خوف و دہشت پیدا کی جائے اور اجرت دیئے بغیر قیدیوں سے من مانی مزدوری کرائی جائے۔ سر سیّد احمد خاں کے خیالات خاص طور سے مذہبی خیالات سے اتفاق کرنا ممکن نہیں ہے مگر ان کی اس کوشش سے انکار بھی ممکن نہیں ہے کہ دین خداوندی اور شریعت مصطفویؐ پر استقامت کے ساتھ دشمنوں سے ایک خاص حکمت عملی سے کام نکالا جائے۔ اقبال کا نام ہندوستان کی تقسیم سے جوڑا جاتا ہے حالانکہ وہ تقسیم کے تصور سے انکار اور ہندوستانی وفاق میں رہتے ہوئے ایک ریاست کے وجود کا اقرار کر چکے ہیں۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستان بھی تقسیم ہوا اس کے باوجود ہندوستان میں گورکھا لینڈ، کشمیر، میزورم کی اور پاکستان میں بلوچستان اور جے سندھ پردیش یا خود مختار ملک کے بنائے جانے کی مانگ جاری ہے۔ ہم متحدہ (اکھنڈ) ہندوستان بنائے جانے کے ہامی ہیں مگر اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ صرف پاکستان اور بنگلہ دیش کو ملا کر اکھنڈ یا متحدہ بھارت کیسے بنا سکتے ہیں؟ متحدہ یا اکھنڈ بھارت میں نیپال، سری لنکا، افغانستان، برما اور وہ تمام علاقے کیوں نہیں جو کبھی ہندوستان کا حصہ تھے؟ پورا پورا ہندوستان ہمارا کا خواب تو تبھی پورا ہوگا۔

آزاد ہندوستان کا جشن منانے والوں میں ہم بھی ہیں اور ہمیشہ سے ہیں مگر جن کے نزدیک ملک ۲۰۱۴ء میں آزاد ہوا وہ کس جشن کو مناتے یا یاد کرتے ہیں؟ یوم ِ آزادی پر مَیں نوجوانوں کو مشورہ دوں گا کہ میر جعفر اور میر صادق کے نقش قدم پر نہ چلیں کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں ایئر کنڈیشن کا خواب دکھا کر درختوں کے سائے سے بھی محروم کر دیا جائے۔ ہم آزادی کے قدر دان ہیں اور ان کی بھی قدر کرتے ہیں جنہوں نے ہندوستان کی جنگ آزادی کے لئے اپنا خون صرف کیا ہے اور ہمارے لئے ہندوستان کی جنگ آزادی میں نواب سراج الدولہ، ٹیپو شہید، ۱۸۵۷ء میں اپنی جانیں قربان کرنے والے اور ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک کسی بھی طرح قید و بند جھیلنے یا اپنی جانیں قربان کرنے والے سب شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK