دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ حالات سے گھبرانے والے اور حالات کے بدلنے کا انتظار کرنے والے۔ اِن دِنوں جبکہ حالات کا تغیر جگ ظاہر ہے، پہلی قسم کے لوگوں نے راحت کا سانس لیا ہوگا اور دوسری قسم کے لوگ اپنے اس ایقان میں پختگی محسوس کررہے ہوں گے کہ حالات کتنے ہی دگرگوں ہوجائیں، بہرحال بدلنے کیلئے ہوتے ہیں۔
دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ حالات سے گھبرانے والے اور حالات کے بدلنے کا انتظار کرنے والے۔ اِن دِنوں جبکہ حالات کا تغیر جگ ظاہر ہے، پہلی قسم کے لوگوں نے راحت کا سانس لیا ہوگا اور دوسری قسم کے لوگ اپنے اس ایقان میں پختگی محسوس کررہے ہوں گے کہ حالات کتنے ہی دگرگوں ہوجائیں، بہرحال بدلنے کیلئے ہوتے ہیں۔ جنتر منتر میں طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج نے اس ملک کی تاریخ میں ایک نئے اور سنہرے باب کا اضافہ کیا ہے۔ حالات کی تبدیلی وہیں سے شروع ہوئی ہے۔ جس حکومت کے ایک سینئر وزیر (راج ناتھ سنگھ) کے ایک قول (این ڈی اے میں استعفے نہیں ہوتے) کا ان دنوں کافی شہرہ ہوا، اسی حکومت کے ایک وزیر (دھرمیندر پردھان) کا استعفےٰ جنتر منتر کے احتجاج کی وجہ سے ہوکر رہا۔ اس کے بعد ملک کے عوام نے یہ بھی دیکھا کہ خوف کے بادل چھٹنے لگے اور لوگ کھل کر اپنی بات کہنے لگے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی - ڈھاکہ تعلقات کی پیچیدگیاں
طلبہ نے تو احتجاج کے دوران اپنی بے خوفی کی غیر معمولی مظاہرہ کیا۔ جنتر منتر سے پہلے خوف ہی خوف تھا، بے خوفی کہاں تھی! اس دوران یہ بھی ہوا کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ غیر حاضر رہے۔ حزب اختلاف نے الزام عائد کیاکہ وہ ۲۰؍ جولائی کے واقعات پر جواب نہ دے پانے کے سبب ایوان کا سامنا کرنے سے کترا رہے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ نوجوانوں کو منایا جانے لگا نیز اُنہیں مانا جانے لگا۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے نوجوانوں سے ملاقات کی اور اُن کے مظاہرہ کو اپنی جانب سے کلین چٹ دی۔ وزیر اعظم نریندر مودی آدھی رات کو ریل بنا کر طلبہ سے مخاطب ہوئے اور ایک سے زائد بار ہوئے۔ پانچ سال پہلے کسانوں کا احتجاج بھی ان معنوں میں مؤثر ثابت ہوا تھا کہ حکومت نے تین زرعی بل واپس لے لئے تھے مگر اس کیلئے کسانوں کو ایک سال سے زیادہ عرصہ تک دھرنا دینا پڑا تھا۔ اس کے برعکس نوجوانوں نے اپنا اہم مطالبہ (وزیر کا استعفےٰ) ایک ماہ میں منوا لیا۔
یہ بھی پڑھئے: تاریخ یقیناً ڈاکٹر سنگھ کو احترام کے ساتھ یاد رکھے گی
نوجوانوں کے احتجاج کی سربراہی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کررہی تھی جو اپنے آپ میں نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اپنی نوعیت کی اس پہلی آن لائن پارٹی کو ابتداء میں نظر انداز کیا جارہا تھا۔ خود حکومت اور اس کی انٹلی جنس نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔ مگر یہ پارٹی، جسے نوجوانوں کی زبردست حمایت ملی، تبدیلی کا نسخہ ثابت ہورہی ہے۔ طلبہ کے مسائل اُجاگر کرنے میں کانگریس پارٹی بالخصوص راہل گاندھی کا رول بھی بہت اہم ہے جنہوں نے پوری قوت کے ساتھ نیٹ کا پرچہ لیک ہونے اور امتحان کے منسوخ (ملتوی) ہونے کا معاملہ اُٹھایا۔ نوجوان اُن کی تحریک سے وابستہ ہوئے جس کا ثبوت کوٹا، دہرا دون اور الہ آباد کی اُن کی ریلیاں ہیں جنہیں مثالی کامیابی ملی۔ ابھی یہ دونوں تحریکیں (سی جے پی اور کانگریس) جاری ہی تھیں کہ اِدھر ۲۰؍ جولائی کے واقعات اور اُدھر چندا چوری اور چڑھاوا چوری کے واقعات نے اپوزیشن کو ایسا ہتھیار فراہم کردیا جس کا انہیں برسوں سے انتظار تھا۔ ان سب کا نتیجہ ہے کہ حالات بدل رہے ہیں اور ابھی مزید بدلیں گے، دیکھتے رہئے۔