Inquilab Logo Happiest Places to Work

قربتوں میں دوریوں کا دَور ہے ہشیار باش!

Updated: March 28, 2026, 1:51 PM IST | Shahid Latif | mumbai

وہ دور کہ جب انسان تنہا رہ کر بھی تنہا نہیں ہوپاتا تھا، لد چکا۔ اب جس کسی میں تنہائی کا احساس پیدا ہوتا ہے وہ اُسے بہت پریشان کرتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اب نوعمروں کو تنہائی کی شکایت ہے جو عام ہورہی ہے۔

INN
آئی این این
جن اہل اُردو نے منشی پریم چند کی کہانی ’’عید گاہ‘‘ نہیں  پڑھی اُنہیں  اب تک نہ پڑھنے کا افسوس کرتے ہوئے پہلی فرصت میں  پڑھنا چاہئے۔ یہ منشی جی کی نمائندہ کہانیوں  میں  سے ایک ہے جو برسوں  پہلے لکھی گئی مگر ہر دور میں  پڑھے جانے کے قابل رہی۔ موجودہ دَور میں  اس کی معنویت پہلے سے کہیں  زیادہ ہے۔ کیوں ؟ اس کا جواب آگے آئے گا۔ ’’عید گاہ‘‘ کا مرکزی کردار چار سال کا حامدؔ ہے جو یتیم ہے۔ اس کے والد والدہ دُنیا سے رخصت ہوچکے ہیں ۔ اب وہ دادی امینہؔ کی سرپرستی میں  ہے۔ حامدؔ  غریب ہے، ان معنی میں  بھی کہ اُسے اتنی عیدی نہیں  ملی جتنی کہ اُس کے دوستوں  کو ملی ہے۔ اُس کے پاس صرف تین پیسے ہیں  اور نماز سے واپسی پر سارے دوست کچھ نہ کچھ خریدنا چاہتے ہیں ۔ اس دوران اُن کی بات چیت خاصی دلچسپ ہے۔ وہ ایک دوسرے پر برتری ظاہر کرتے ہیں ۔ ایسے میں  حامدؔ کو، چونکہ اس کے پاس عیدی بہت کم ہے، احساس کمتری و محرومی کا شکار ہونا چاہئے تھا مگر وہ نہیں  ہے۔ وہ معمولی پیسوں  سے ایک دست پناہ (چمٹا) خریدتا ہے۔ اُس نے چمٹا اس لئے خریدا کہ وہ اپنی دادی کو روٹی بناتے وقت دیکھ چکا ہے کہ توے سے روٹیاں  اُتارتی ہیں  تو ہاتھ جل جاتا ہے۔ حامدؔ  دست پناہ لے کر گھر پہنچتا ہے۔ جب دادی کو علم ہوتا ہے کہ وہ دست پناہ لے کر آیا ہے تو وہ چھاتی پیٹ لیتی ہیں  کہ یہ کیسا بے سمجھ لڑکا ہے مگر پھر حامد کا جواب اُس کے غصہ کو غیر معمولی شفقت و محبت میں  بدل دیتا ہے۔ حامد کا جواب تھا: تمہاری انگلیاں  توے سے جل جاتی تھیں  کہ نہیں ! بقول منشی پریم چند’’ اُس وقت امینہ میں  ایک ایسا جذبہ پیدا ہوا کہ اس کے ہاتھ میں  دُنیا کی بادشاہت آجائے اور وہ اسے حامد کے اوپر نثار کردے۔‘‘
اب عید گاہ سے موجودہ دَور کے معاشرہ کی طرف آئیے۔ آج بھی کئی مائیں  ہوں  گی جن کا توے سے ہاتھ جلتا ہوگا مگر اُن کے بچوں  کو ہوش نہیں  رہتا ہوگا کہ اُن کا ہاتھ جلا ہے۔ حامدؔ کے تعلق سے کہا جاسکتا ہے کہ ہاتھ اس کی دادی کا جلتا تھا، تکلیف اُسے ہوتی تھی۔ آج کے معاشرہ میں  کتنے بچے ایسے ہیں  جو گھروں  میں  ماؤں  کو دیکھتے ہیں  اور اُن کا درد محسوس کرتے ہیں ؟ کیا آج کے معاشرہ میں  ایسے حامد ہوں  گے جو عید گاہ سے کھلونا نہ خریدیں ، جھولے پر نہ بیٹھنا چاہیں ، کھانے پینے کی اشیاء کو نگاہ بھر کر دیکھنے سے بھی پرہیز کریں  اور اپنی دادی کیلئے دست پناہ خرید لائیں ؟ کہنا مشکل ہے۔ اس لئے کہ آج کل کے ’’حامدوں ‘‘ کا گھر کے معاملات سے وہ رابطہ اور تعلق دکھائی نہیں  دیتا بلکہ ہوتا بھی نہیں  ہے جو رشتوں  کا احساس جگاتا اور جذبوں  کی آبیاری کرتا ہے۔ اپنے والدین اور گھر یا خاندان کے لوگوں  سے ان ’’حامدوں ‘‘ کی قربت اور اپنائیت کےبارے میں  کوئی اچھی رائے شاذو نادر ہی سننے کو ملتی ہے۔ جہاں  جائیے اور جس سے ملئے شکایت ہی کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ حقیقی دُنیا میں  رہتے ہیں  مگر مصنوعی دُنیا میں  زندگی گزارتے ہیں ۔ اُنہیں  دُنیا جہان کی باتوں  کا علم ہے مگر نہیں  ہے تو اپنے گھر کا، اپنے خاندان کا، اپنے عزیزوں  کا، اپنے پڑوسیوں  کا اور اپنے رشتہ داروں  کا۔ ذرا سوچئے ہم کیسی دُنیا میں  ہیں  جس میں  جذبے مستحکم ہونے سے پہلے ماند پڑ جاتے ہیں  اور رشتوں  پر گہرا رنگ چڑھنے نہیں  پاتا۔ وہ نیم پختہ رہ جاتے ہیں ۔ 
اگر آج کے حامد ’’عید گاہ‘‘ کے حامد جیسے نہیں  ہیں  اور اس کی شکایت بھی عام ہے تو اس سوال سے منہ چرانا سخت ناانصافی ہوگی کہ کیا آج کی امینہ ’’عید گاہ‘‘ کی امینہ جیسی ہے؟ آپ مانیں  نہ مانیں ، اکثر گھروں  میں  بظاہر اپنائیت مگر بباطن بیگانگی کا ماحول ہے جسے انگریزی میں  اموشنل ڈِٹیچمنٹ کہتے ہیں ۔ سن بلوغ کو پہنچنے والے بچوں  میں  یہ مسئلہ عام ہے مگر یک طرفہ نہیں ، دو طرفہ ہے۔ حامد حامد جیسا نہیں  ہے تو امینہ بھی امینہ جیسی نہیں  ہے۔ حامد حقیقی دُنیا میں  رہتا اور مصنوعی دُنیا جیتا ہے تو امینہ بھی حقیقی دُنیا میں  رہتی  اور مصنوعی دُنیا جیتی ہیں ۔ راستہ چلتے وقت آپ اُن خواتین کو دیکھتے ہوں  گے جو اپنے بچے کی اُنگلی تھامے چل رہی ہیں  مگر اُس گفتگو میں  گم ہیں  جو فون پر جاری ہے۔ اُنہیں  یہ بھی احساس نہیں  رہتا کہ آج کل سڑکیں  محفوظ نہیں  رہ گئی ہیں ، آپ بہت احتیاط سے چلیں  تب بھی چار پہیہ اور دو پہیہ گاڑیوں  کا بھروسہ نہیں ۔ کب
 
 
کون سی گاڑی کہاں  سے نمودار ہوجائے اور ٹکر مار دے کہا نہیں  جاسکتا۔  
بیگانگی، جس کا ذکر یہاں  کیا گیا، میں  نوعمروں  کی بڑی تعداد مبتلا ہے۔ سرویز کے مطابق ۱۰؍ سے ۱۹؍ سال کے ۱۴؍ فیصد افراد کسی نہ کسی ذہنی مسئلہ کا شکار ہیں  جبکہ ۱۳؍ سے ۱۷؍ سال کے افراد تنہائی کے کرب High Levels of Loneliness  سے دوچار ہیں ۔ یہ اس لئے ہے کہ جب یہ افراد مصنوعی دُنیا میں  غیر معمولی کشش محسوس کررہے تھے تب اُنہیں  نہ تو سمجھایا بجھایا گیا نہ ہی روک ٹوک کی گئی۔امینہ غریب تھی۔ پڑھی لکھی بھی نہ رہی ہوگی کہ اُس دور کی اکثر خواتین (بلکہ مرد بھی) عصر حاضر جیسی تعلیم نہیں  حاصل کرپاتے تھے مگر اُس نے اپنے پوتے کی پرورش میں  جذباتی قربت کا احساس جگایا ہوگا۔ وہ کہانیاں  سناتی ہوگی۔ نصیحت کرتی ہوگی۔ حامد کے سر پر ہاتھ رکھتی ہوگی۔ اُسے دُعا دیتی ہوگی۔ آپ کہیں  گے اُس وقت مصنوعی دُنیا نہیں  تھی اور سارے لوگ حقیقی دُنیا ہی میں  جیتے تھے۔ درست مگر موجودہ دور میں  حقیقی اور مصنوعی دُنیا کے درمیان  توازن پیدا کرنے کی ضرورت کیوں  محسوس نہیں  کی جارہی ہے؟ 
اگر بیگانگی ہی نئی نسل کی شناخت بن گئی تو بعد کی نسلوں  کا کیا ہوگا؟ بچوں  کی تربیت سے ایسی مجرمانہ غفلت کس کو کیا فائدہ پہنچائے گی یہ سوچنا چاہئے۔ یہ بھی سوچنا چاہئے کہ باہمی قربت باہمی دوری  میں  تبدیل ہوتی رہی تو انسان، جسے سماجی جانور کہا جاتا ہے، کیا اپنے سماجی ہونے کی شناخت سے عاری ہوجائیگا؟عاری تو ہورہا ہے، ا س کا ثبوت آئے دن کی وہ خبریں  ہیں  جن میں  درج ہوتا ہے کہ کسی کو بچانے کے بجائے نوجوان ریل بنا رہے تھے۔ بعض نوجوان ریل بناتے بناتے خود ریل بن جاتے ہیں ۔ اُنہیں  دوسروں  کی زندگی کا احساس تو نہیں ، اپنی جان کی بھی پروا نہیں  ہوتی۔ زندگی اتنی سستی کسی دور میں  نہیں  تھی جتنی اب ہے۔ یہ سب اس لئے ہےکہ چھوٹی عمر یا بڑی عمر کے لوگوں  میں  اب اپنے بارے میں  اور دستیاب نعمتوں  کے بارے میں  سوچنے کا وقت نہیں  ہے، سب کسی اور دُنیا میں  گم ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK