Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا پھر دعویٰ: ۸؍ جنگیں رکوا دیں، ہند پاک کشیدگی بھی ختم کی

Updated: March 28, 2026, 9:05 PM IST | Miami

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پھر دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آٹھ عالمی تنازعات کو روکنے میں کردار ادا کیا، جن میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ بھی شامل ہے۔ میامی میں Future Investment Initiative Summit سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خود کو ایک ’’عظیم امن ساز‘‘ کے طور پر یاد رکھوانا چاہتے ہیں۔

US President Donald Trump. Photo: X
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے میامی میں Future Investment Initiative Summit سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیاسی وراثت کو ایک ’’عظیم امن ساز‘‘ کے طور پر قائم کرنا چاہتے ہیں، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ انہوں نے دنیا بھر میں آٹھ بڑے تنازعات کو روکنے میں کردار ادا کیا، جن میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی شامل تھی۔ ٹرمپ نے کہا، ’’میں اپنی وراثت کو ایک عظیم امن ساز کے طور پر بنانا پسند کروں گا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میں ایک امن ساز ہوں… ابھی ایسا نہیں لگتا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میں ایک امن ساز ہوں۔‘‘ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے حوالے سے دعویٰ کیا، ’’میں نے ہندوستان اور پاکستان کو بھی روکا… وہ ایک ہفتے سے لڑ رہے تھے… نو طیارے مار گرائے جا چکے تھے… میں نے کہا اگر آپ لڑتے رہے تو میں ۲۵۰؍ فیصد ٹیرف لگا دوں گا… پھر انہوں نے کہا ہم نہیں لڑیں گے۔‘‘

ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم بات چیت کر رہے ہیں… لیکن انہیں اسے کھولنا پڑے گا۔‘‘ انہوں نے اپنے خطاب میں ایران کو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی کارروائیوں نے اس کی طاقت کو کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ۴۷؍ برسوں سے ایران کو خطے کا غنڈہ کہا جاتا تھا، لیکن اب وہ بھاگ رہے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا، جبکہ امریکی کارروائی کو ’’جنگ‘‘ کے بجائے ’’فوجی آپریشن‘‘ قرار دیا۔
ٹرمپ نے نیٹو پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’نیٹو ایک کاغذی شیر ہے… ہم ہمیشہ ان کی مدد کرتے ہیں لیکن وہ ہماری نہیں کرتے… اگر بڑا کچھ ہوا تو وہ وہاں نہیں ہوں گے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’اگر امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائی نہ کی ہوتی تو تہران چند ہفتوں میں جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا تھا۔ وہ اسے آپ پر، اسرائیل پر اور سب پر استعمال کرتے۔‘‘ اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں آبنائے ہرمز کو ’’ٹرمپ کی آبنائے‘‘ بھی کہا، بعد میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبصرہ مکمل طور پر غیر ارادی نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھئے: بل مہر کو کینیڈی سینٹر کا مارک ٹوین پرائز تفویض کیا جائے گا

دلچسپ طور پر، انہوں نے دیگر عالمی تنازعات جیسے آرمینیا آذربائیجان، مصر ایتھوپیا، سربیا کوسوو اور اسرائیل حماس کے تنازعات کو بھی اپنی سفارتی کامیابیوں میں شامل کیا۔ خطاب کے اختتام پر ٹرمپ نے ایک غیر متوقع بیان میں کیوبا کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’کیوبا اگلا ہے… لیکن میڈیا اس بات کو نظر انداز کرے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK