ٹرمپ نے پرائی جنگوں میںشامل نہ ہونے کا وعدہ کیا اور سابق امریکی صدور کی مشرق وسطیٰ میں مداخلت پر تنقید کی تھی مگر رجیم چینج کے بہانے ایران پر بلاجواز حملوں اور ان کی مطلق العنانیت کیخلاف اب امریکی عوام خود سڑکوں پر آگئے ہیں۔
امریکہ میں احتحاج۔ تصویر:آئی این این
ایک ماہ تک ایران کو تاراج کرنے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کے دن اچانک یہ دعویٰ کرکے ساری دنیا کو حیران کردیا کہ ایران میں رجیم چینج ہوچکا ہے کیونکہ سیاسی، فوجی اور روحانی قیادت میں شامل تمام اعلیٰ عہدے داروں بشمول سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو جنگ کے پہلے دن ہی قتل کردیا گیا تھا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی نئی رجیم ’’زیادہ معقول‘‘ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایران میں نظام کی تبدیلی ہوچکی ہے اور جنگ کا کلیدی مقصد اور نصب العین پورا ہوچکا ہے تو پھر ایران پر ابھی تک بمباری کیوں جاری ہے؟
جس طرح جھوٹا ملزم عدالت میں بار بار اپنا بیان بدلتا ہے، ڈونالڈ ٹرمپ بھی اپنی غیر قانونی جارحیت کو جائز ٹھہرانے کیلئے بار بار جنگ کا سبب اور مقصد بدلتے رہے۔ ٹرمپ کو یقین تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے آغاز اور آیت اللہ خامنہ ای اور اعلیٰ ترین سیاسی، فوجی اور روحانی قیادت کے بہیمانہ قتل کے ساتھ ایرانی عوام اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئینگے اور امریکہ کا رجیم چینج کا دیرینہ خواب آسانی سے شرمندہ تعبیر ہوجائے گا۔ ایرا ن جنگ کو ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن عوامی بغاوت تو درکنارعوامی اضطراب کی ہلکی سی آہٹ تک سنائی نہیں دی ہے۔
ایران کے برعکس پورے امریکہ میں لاکھوں لوگ ایران جنگ اور جابرانہ امیگریشن پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔Trump must go now! کے بینر اٹھائے تقریباً ۸۰؍لاکھ لوگ ہفتے کے دن امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف ان مظاہروں میں شامل ہوئے۔ واشنگٹن، نیو یارک، شکاگو، سان فرانسسکو اوربوسٹن جیسے بڑے شہروں میں ہی نہیں امریکہ کے چھوٹے چھوٹے مضافاتی قصبوں میں بھی ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ تھی۔ کہا جارہا ہے کہ یہ امریکہ کی ڈھائی سوسالہ تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے تھے۔
ٹرمپ کی تاناشاہی اور فسطائی طرز حکمرانی کے خلاف امریکہ کے عوام کے دلوں میں ایک سال سے بدگمانی اور برہمی پل رہی تھی۔ پچھلے ہفتے یہ برہمی بغاوت بن گئی۔ No Kings تحریک کی ضرورت اس لئے آپڑی کیونکہ ٹرمپ کا طرز عمل جمہوری طور پر منتخب حکمراں کے بجائے کسی مطلق العنان شہنشاہ کا ہوگیا ہے۔نو کنگز احتجاج شروع تو ہوئے تھے ٹرمپ انتظامیہ کے اینٹی امیگریشن گرفتاریوں کے خلاف لیکن اب ایران جنگ کی مخالفت ان کا سب سے زیادہ نمایاں ایشو بن گیا ہے۔ امریکہ کے مشہور ومعروف دانشور، ہالی ووڈ اسٹارز، صنعت کار، اسٹوڈنٹس، خواتین، صحافی اور سوشل میڈیا کی نامور شخصیات نے مختلف شہروں میں ان مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جنگ کے خلاف کھل کر بولے۔ مشہور اداکار اور ہدایتکار رابرٹ ڈی نیرو نے نیویارک میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ہماری سلامتی اور آزادی کیلئے خطرہ بن چکے ہیں، انہیں روکنا ضروری ہے۔ رابرٹ ڈ ی نیرو کے مطابق اب صرف سڑکوں پر احتجاج کرنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ ریپبلیکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں ہرانا ہوگا۔ ڈی نیرو نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین فائلز میں پوشیدہ اپنی کالی کرتوتوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی خاطر ٹرمپ نے یہ جنگ چھیڑی ہے۔
ٹرمپ کو عوام کے بگڑے موڈ کا اندازہ ہوگیا ہے اوروہ بے صبری سے جنگ ختم کروانے کے جتن کررہے ہیں۔وہ ایران کو ڈیل پر آمادہ کرنے کے لئے دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن اندر اندر اس سے جنگ بندی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ درحقیقت آبنائے ہرمز پر بندش لگاکے ایران نے ٹرمپ کی ہیکڑی نکال دی ہے۔ جنگ اگر طویل ہوگئی تو ان کی مقبولیت میں مزید گراوٹ آجائے گی۔ امریکہ کی تاریخ گواہ ہے کہ حالت جنگ میں پوری قوم متحد ہوکر حکومت کی حمایت میں کھڑی ہوجاتی ہے لیکن اس بار جنگ سے عوام کی اکثریت بیزار اور برہم ہے۔ ٹرمپ نے پرائی جنگوں میں ملک کو نہ دھکیلنے کے وعدے پر الیکشن جیتا تھا۔ عراق میں بش کے ذریعہ رجیم چینج کی تباہ کن کوششوں کی ٹرمپ نے سخت مذمت کی تھی۔ پچھلے سال سعودی عرب کے دورے کے موقع پر ٹرمپ نے اپنے پیش رو امریکی صدور کی مشرق وسطیٰ میں مداخلت کی روش کی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ ان نام نہاد معماروں نے جتنے ممالک تعمیر نہیں کئے ان سے زیادہ تباہ کردیئے۔‘‘ ٹرمپ نے یہ عہد کیا تھا کہ’’ ہم اب مشرق وسطیٰ کو یہ لیکچر نہیں دیں گے کہ انہیں کیسے زندگی گزارنی ہے یا کیا عقیدہ رکھنا ہے۔‘‘ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ نہ تو کوئی نئی جنگ شروع کریں گے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کریں گے لیکن انہوں نے اپنے تمام وعدے توڑ دیئے اور اپنے MAGA حامیوں کے ساتھ نظریاتی فریب کیا۔ نئے سال کے آغاز میں ہی ٹرمپ نے وینزویلا پر چڑھائی کرکے اس کے صدر کو اغوا کرلیا اور اب ایران پر ان کی جارحیت کے نتیجے میں نہ صرف پورے مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کوتوانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اورصورتحال مزیدبگڑی تو امریکہ سمیت پوری دنیا میں کساد بازاری اور اقتصادی مندی پھیل جائے گی۔
امریکہ میں وسط مدتی انتخابا ت کو حکومت کی کارکردگی اور پالیسیوں پر ریفرینڈم سمجھاجاتا ہے۔یہ انتخابات نومبر میں ہونے والے ہیں اور سیاسی پنڈت یہ پیشن گوئی کررہے ہیں کہ ٹرمپ کی گرتی مقبولیت، خستہ حال ہوتی معیشت، گیس اور دیگر اشیائے ضروری کی آسمان چھوتی قیمتیں نہ صرف ٹرمپ کی ریپبلیکن پارٹی کے لئے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ اگر ماہرین کی پیشن گوئی کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرلیتی ہے اور ریپبلیکن کو شکست ہوجاتی ہے تو ٹرمپ کے مواخذہ کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ٹرمپ خود بھی اس صورتحال سے فکرمند ہیں۔ وہ امریکہ کے واحد صدر ہیں جن کا دو بار مواخذہ ہوچکا ہے۔ اگر تیسری بار کانگریس ان کا مواخذہ کروانے میں کامیاب ہوگیاتو ٹرمپ کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔ مشہور امریکی میگزین ’’نیوزویک‘‘نے تازہ شمارہ میں ایک مضمون شائع کیا ہے: Will Donald Trump Be Impeached a Third Time? ۔ ماہر قانون فرینک بَومین کی رائے ہے کہ ٹرمپ نے ایسے متعدد خطرناک جرائم کا ارتکاب کیا ہے جن کی بنیاد پر ان کا مواخذہ کیا جاسکتا ہے۔ امریکی عوام کی اکثریت ان سے نالاں ہوچکی ہے۔ ان کی ماہر نفسیات بھتیجی میری ٹرمپ نے ایران جنگ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے غیر ذمہ دارانہ اقدام سے ایسے حالات پیدا کردیئے ہیں کہ رجیم چینج ناگزیر ہو گیا ہے لیکن رجیم چینج تہران میں نہیں واشنگٹن میں ہوگا۔