• Sat, 14 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’یہی زندگی مصیبت، یہی زندگی مسرت‘‘

Updated: February 14, 2026, 1:56 PM IST | Shahid Latif | mumbai

معین احسن جذبی نے کہا تھا: ’’یہی زندگی مصیبت یہی زندگی مسرت=یہی زندگی حقیقت یہی زندگی فسانہ‘‘۔ شاعر نے ایسا اس لئے کہا کہ انسان زندگی بناتا ہے، زندگی انسان کو نہیں بناتی۔ وہی طے کرتا ہے کہ اُسے زندگی کس طرح گزارنی ہے۔

INN
آئی این این
گزشتہ  دنوں  ایک گرلز کالج میں  ’’شخصیت و کردار سازی‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے مَیں  نے وہاں  موجود طالبات سے جو باتیں  کہیں  اُن میں  سے ایک یہ تھی کہ صبح سویرے جب آپ بیدار ہوجائیں  تو پہلا کام یہ کریں  کہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر مسکرائیں ۔ یہ سن کر بیشتر طالبات بے اختیار ہنس پڑیں ۔ مَیں  نے سوچا کیا یہ لطیفہ تھا جسے مَیں  نے کبھی لطیفہ نہیں  سمجھا؟ مگر پھر خیال آیا کہ اس میں  طالبات کا قصور نہیں ۔ ممکن ہے یہ بات، جو نہ تو نئی ہے نہ ہی دور کی کوڑی، اب تک اُن سے کسی نے نہ کہی ہو!
کالج سے واپسی کے دوران مَیں  سوچتا رہا کہ ہمارا معاشرتی نظام اتنا ناقص ہے کہ گھروں  میں  تربیت کے نام پر کچھ رہ ہی نہیں  گیا ہے اور تعلیمی نظام اتنا بودا ہے کہ بڑی بڑی باتیں  سکھانے میں  محو رہ جاتا ہے اور چھوٹی چھوٹی باتیں  سکھانے کیلئے اس کے پاس وقت نہیں  رہتا جبکہ بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں ، بڑی بڑی باتوں  سے زیادہ بامعنی، طاقتور اور پُر اثر ہوتی ہیں ، مثلاً مسکرانا، سلام میں  سبقت لے جانا، خیریت پوچھنا، شکریہ ادا کرنا، معاف کرنا، مدد کردینا، آنسو پونچھنا، ہمت دلانا، مسئلہ کے مثبت رُخ کی نشاندہی کرنا، بولنے سے زیادہ سننا اور سننے سے زیادہ سمجھنا، دوسروں  کو اہمیت دینا، مناسب تعریف کرنا، اِموجی بھیجنے کے بجائے تحریری جواب دینا اور روزانہ کچھ نہ کچھ ایسا سیکھنا جو کارآمد ہو اور کسی کو سکھایا جاسکے۔
صبح کے وقت بستر سے نکلنے کے بعد آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر مسکرانے سے ذہن و دل پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں  اُن کو سمجھنے کیلئے اُن کا تجربہ کرنا ہی بہتر ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ اس سے دماغ کی کیمیائی ہیئت تبدیل ہوتی ہے کیونکہ اس دوران خارج ہونے والے ڈوپامائن اور سیروٹونین جیسے کیمیائی مادوں  سے جسم کو مثبت توانائی اور مزاج کو شگفتگی حاصل ہوتی ہے۔ عقیدہ کی رو سے بھی اس میں  فائدہ ہے۔ جب آپ صبح کے پہلے کام کے طور پر خود کو آئینہ کے سامنے لے آتے ہیں  تو پروردگار کی بے شمار نعمتوں  میں  سے کم از کم چند نعمتوں  کا شکر ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں  مثلاً یہ کہ اُس نے گزرنے والی شب میں  پُرسکون نیند اور زندگی کا مزید ایک دن عنایت فرمایا، اُس نے آزاری اور معذوری سے محفوظ رکھا، اُس نے اچھے ماں  باپ اور بھائی بہن عطا کئے، اُس نے تعلیم و ترقی کے مواقع فراہم کئے اور عسرت و تنگدستی سے محفوظ رکھا۔ شکر اس لئے بھی ادا کرنا چاہئے کہ ادائیگیٔ شکر بذات خود مثبت توانائی اور مثبت خیالی کا منبع اور سرچشمہ ہے۔ دن کا آغاز جتنی مثبت توانائی اور مثبت خیالی سے ہوتا ہے اُتنی قوت دن بھر کیلئے حاصل ہوجاتی ہے۔ 
 
 
جس طرح لمحہ لمحہ کرکے زندگی بنتی ہے اسی طرح چھوٹے چھوٹے افعال سے، جو چلتے پھرتے انجام دیئے جاتے ہیں ،  زندگی تقویت پاتی ہے۔ زندگی لطیفوں  کی کتاب نہیں  ہے جسے خوشی کے فوارے نام دیا جاسکے۔ عسر میں  اور یسر میں ، خلوت میں  اور جلوت میں ، گھر کی زندگی میں  اور گھر کے باہر کی زندگی میں  اور ذاتی زندگی میں  اور سماجی زندگی میں  خود کو ثابت قدم رکھنے اور عسر کو یسر میں  بدلنے کی جدوجہد اور یسر میں  عسر کی تیاری کا نام زندگی ہے۔ شخصیت یہ نہیں  کہ آپ نے قیمتی لباس زیب تن کرلیا، عمدہ خوشبو لگا لی اور چست اور درست دکھائی دینے میں  کامیاب ہوگئے۔ جی نہیں ، شخصیت چھوٹے چھوٹے افعال کا مجموعہ ہے جو دوسروں  کو متاثر کرتے ہیں  اور یہ پیغام دیتے ہیں  کہ زندگی گزرتی نہیں ، گزاری جاتی ہے۔ یہ کسی واقعہ سے متاثر نہیں  ہوتی بلکہ واقعہ بناتی ہے۔ آپ کا جگرگوشہ اسکول یا کالج سے واپس آئے تو پوچھئے کہ اُس کا دن کیسا گزرا۔ کبھی کبھار ہی ایسا ہوگا کہ وہ ہنستے مسکراتے ہوئے کچھ کہے گا اور کسی خوشگوار واقعہ کا ذکر کرے گا ورنہ عموماً وہ تھکا ماندہ اور بوجھل بوجھل سا گھر آئے گا کیونکہ چھ سات گھنٹوں  میں  اُس کے ساتھ ایسا کچھ ہوا ہی نہیں  جو قابل ذکر ہو۔ یہ افسوسناک ہے۔ زندگی واقعات بُنتی ہے اور واقعات ہی سے بَنتی ہے۔ لطف تو تب ہے جب آپ کے جگر کا ٹکڑا اسکول یا کالج سے گھر آئے تو اُس کے پاس سنانے کیلئے اِتنا کچھ ہو کہ آپ کے پاس سننے کیلئے وقت کم پڑ جائے۔ وہ زندگی جو بے واقعہ گزرتی ہے اُس صحرا کی طرح ہے جس میں  پھول نہیں  کھل سکتے۔ زندگی کو اُس گلستاں  کی طرح ہونا چاہئے جس میں  پیڑ ہیں ، پیڑوں  میں  شاخیں  ہیں  اور شاخوں  پر واقعات کے پھول کھلے ہیں ۔ 
غصہ آج کے دور کی علامت کیوں  بنا؟ اسی لئے کہ غصہ کو غصہ میں  تبدیل ہونے سے روکنے والے چھوٹے چھوٹے افعال روزمرہ زندگی سے نکل گئے۔ معاشرہ کے کسی ایک گھر کا تصور کیجئے۔ سب ساتھ بیٹھے ہیں  مگر سب اپنی اپنی دُنیا میں  کھوئے ہوئے ہیں ۔ اس طرح کھوئے رہنے سے ہم نے بہت کچھ کھو دیا ہے۔ والدین اور بچوں  کے درمیان بعض موضوعات پر گفتگو ہونی چاہئے، وہ گفتگو جس سے نئی نسل کو روشنی ملے، رہنمائی ملے اور اُس کی فکری تربیت ہو، وہ تقریباً ناپید ہے۔ یہ آخری بات، فکری تربیت، یہ تو جیسے کسی خاندان کے منشور کا حصہ ہی نہ ہو۔ اُٹھنے بیٹھنے کے آداب، بولنے کے آداب، سننے کے آداب، گزارش کرنے کے آداب۔ ذرا سوچئے کتنی بھری پُری ہوتی تھی زندگی، اُس میں  کتنا رچاؤ تھا، لوگوں  کے پاس کہنے سننے کیلئے کتنا کچھ ہوتا تھا۔ کہاں  گیا سب؟ موبائل ماں  باپ کی جگہ لے لے، موبائل بال بچوں  کی جگہ لے لے، موبائل عزیزوں ،  رشتہ داروں  اور پڑوسیوں  کی جگہ لے لے اور موبائل رشتوں  کی رونق کو بے رونقی میں  تبدیل کردے تو فیصلہ کرنا چاہئے کہ گھر میں  کیا رہے گا، موبائل ہی رہے گا یا کچھ اور بھی ہوگا جس سے گھر گھر کہلانے کا حقدار قرار پائے گا۔ گھر میں  رہتے ہوئے موبائل کی دُنیا میں  رہنے والوں  کو سوچنا چاہئے کہ پھر وہ گھر پر رہنے کا کیا حق ادا کررہے ہیں ۔ موبائل کی وہی دُنیا تو پلیٹ فارم، ٹرین، بس وغیرہ میں  بھی میسر ہوتی ہے، نکڑ پر بھی، چوراہے پر بھی بلکہ لفٹ میں  بھی یہ چشم گناہگار لوگوں  کو موبائل میں  سرگرداں  دیکھ چکی ہے۔ گھر گھر نہیں  رہے گا تو انسان انسان نہیں  رہے گا کیونکہ دانش گاہ کہلانے والی درس گاہ تو درس گاہ نہیں  رہ گئی ہے۔ نصاب گاہ بن گئی ہے اور معاشرہ میں  بناؤ کی شکلیں  دکھائی نہیں  دیتیں  سوائے بگاڑ کے۔ ایسے میں  گھر بھی گھر نہیں  رہ جائے گا تو نئی نسل سے شکوہ سراسر بے معنی قرار پائے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK