اس سال مہاراشٹر میں دسویں کا بورڈ امتحان دینے والے طلبہ میں ۹۴؍ ہزار مراٹھی زباندانی میں فیل ہوئے جبکہ مراٹھی پر سیاست کی تاریخ نئی نہیں۔ مطلب واضح ہے کہ توجہ کہیں ہونی چاہئے مگر کہیں اور دی جاتی ہے۔
بعض اشعار مشہور ہوجاتے ہیں مگر اُن کے خالق کا نام کوئی نہیں جانتا۔ ایسا ہی ایک شعر یہ ہے: ’’سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں = ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں ‘‘۔ شاعر نے جب یہ شعر کہا ہوگا تو اس کے ذہن میں اُردو کی خستہ حالی ہی رہی ہوگی۔ مگر اب حال یہ ہے کہ اس شعر میں آپ اُردو کی جگہ کسی بھی زبان کا نام لکھ دیجئے، شعر کی معنویت پر کچھ اثر نہیں پڑے گا بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہوجائیگا۔ مثلاً آپ کہئے ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو بنگلہ بول سکتے ہیں ، ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو ہندی بول سکتے ہیں ، ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُڑیہ بول سکتے ہیں ، ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو کنڑ بول سکتے ہیں ، ابھی کچھ لوگ باقی ہیں مراٹھی بول سکتے ہیں ، وغیرہ۔ اس کی وجہ ہے۔ انگریزی کے سبب ہر ہندوستانی زبان رفتہ رفتہ حاشئے پر جارہی ہے۔ مَیں اِدھر کئی بار، کئی جلسوں میں حتیٰ کہ غیر اُردو جلسوں میں بھی کہہ چکا ہوں کہ ہم آپ، اپنی اپنی زبان کیلئے لڑتے ہیں مگر اب اس لڑائی کو تمام ہندوستانی زبانوں کی لڑائی میں تبدیل کرنے کا وقت آچکا ہے کیونکہ اب کوئی ہندوستانی زبان ایسی نہیں جس کے سر پر تلوار نہ لٹک رہی ہے۔ مگر مختلف زبانوں کے لوگ اپنی اپنی زبان کے محدود دائرہ سے باہر نکل کر تمام زبانوں کے متحدہ محاذ کے بارے میں سوچنے کی فراخدلی اپنے اندر پیدا نہیں کرسکے ہیں جبکہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور روز بہ روز مشترکہ و متحدہ جدوجہد کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے۔
گزشتہ دنوں ، جب دسویں جماعت کا نتیجہ منظر عام پر آیا تو یہ افسوسناک حقیقت بھی بے نقاب ہوئی کہ ۹۴؍ ہزار طلبہ مراٹھی زباندانی کے پرچے میں ناکامیاب ہوئے ہیں ۔ ان میں ۸۰؍ ہزار وہ ہیں جنہوں نے ’’پہلی زبان‘‘ (فرسٹ لینگویج) کے طور پر مراٹھی کا انتخاب کیا تھا جبکہ ۱۳؍ ہزار ۷؍ سو نے مراٹھی زبانی کو دوسری یا تیسری زبان کے طور پر منتخب کیا تھا۔ یہ اُس ریاست ِ مہاراشٹر کا قصہ ہے جہاں مراٹھی بولنے اور مراٹھی سیکھنے پر جب چاہتا ہے سیاست گرم کردی جاتی ہے۔ یہ سیاست برائے سیاست ہی ہے، برائے تحفظ ِ زبان نہیں ہے۔ اگر اس کا مقصد تحفظ ِ زبان ہوتا تو آٹو یا ٹیکسی والوں کے مراٹھی سیکھنے پر اصرار کرنے والے، آٹو ٹیکسی ڈرائیوروں کے پیچھے لٹھ لے کر نہ دوڑتے بلکہ اسکولوں کا رُخ کرتے کہ مراٹھی کے سرکاری اور نجی اسکولوں کا کیا حال ہے، کیا وہاں مراٹھی کی تعلیم جیسی ہونی چاہئے ویسی ہے؟ کیا اُن اسکولوں کی عمارتیں قابل قدر ہیں ؟ کیا داخلہ لینے والوں کی تعداد جتنی ہونی چاہئے اُتنی ہے یا کم ہوئی ہے؟ مگر سیاست کو مطلب سیاست ہی سے ہوتا ہے، زبان سے نہیں ہوتا، ادب سے نہیں ہوتا، تہذیب و ثقافت سے نہیں ہوتا اور عوام کی حقیقی فلاح و بہبود سے نہیں ہوتا۔ کیا اہل سیاست نہیں جانتے کہ ممبئی میں بی ایم سی کے مراٹھی اسکول تیزی سے بند ہورہے ہیں ؟
دستیاب معلومات کے مطابق ۲۰۔۲۰۱۹ء میں بی ایم سی کے مراٹھی اسکولوں کی تعداد ۴۶۰؍ تھی جو ۲۶۔۲۰۲۵ء میں ۴۲۱؍ رہ گئی۔ پانچ یا چھ سال کے قلیل عرصے میں اُس زبان کے ۳۹؍ (اور گزشتہ ۱۰؍ سال میں ۱۰۰ ) اسکول بند ہوگئے جو ریاست کی غالب زبان ہے اور جسے راجیہ بھاشا یعنی ریاست کی زبان ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ کسی بھی زبان کی ناقدری نہ ہو مگر جس ریاست کی غالب اور سرکاری زبان مراٹھی ہو، اس کی ناقدری کسی بھی زاویئے سے قابل قبول نہیں ۔ ۲۰۱۱ء کی مردم شماری سے معلوم ہوا تھا کہ مہاراشٹر میں مراٹھی کو اپنی مادری زبان کہنے والوں کی تعداد پونے آٹھ کروڑ ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مراٹھی کو مادری زبان کا درجہ دینے والوں میں اپنی ہی زبان کے تئیں بے اعتنائی پیدا ہورہی ہے اور وہ بھی ’’دام ِانگریزی‘‘ کے اسیر ہورہے ہیں ؟ ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کیونکہ مراٹھی اسکولوں میں طلبہ کی کمی مستقل مسئلہ بن گئی ہے ورنہ چند ہی سال میں ۳۹؍ بی ایم سی مراٹھی اسکول بند نہ ہوتے۔دوسری وجہ ہر زبان اور ہر قوم کے نونہالوں کی تربیت سے تعلق رکھتی ہے۔ تربیت ہی کے ذریعہ مادری زبان کی محبت کا نقش نئی نسل کے دلوں پر بٹھایا جاتا ہے مگر صورتحال یہ ہے کہ گھروں میں انگریزی کا چلن بڑھ رہا ہے۔ لوگ اپنی مادری زبان میں کشش محسوس نہیں کرتے اور انگریزی کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں ۔تیسری وجہ موبائل اور انٹرنیٹ کی دُنیا سے نئی نسل کی گہری وابستگی ہے جو اُنہیں مادری یا ہندوستانی زبانوں سے دور لے جارہی ہے۔ تکنالوجی کی ان ایجادات کی زبان انگریزی ہی ہے خواہ دیگر زبانیں بھی خود کو اس سے ہم آہنگ کرنے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کرچکی ہوں ۔
مَیں نے یہ کیوں کہا کہ تمام ہندوستانی زبانوں کی بقاء کا مسئلہ روز بہ روز تشویش کی حدوں میں داخل ہو رہا ہے؟ اس لئے کہ طلبہ کو زبانوں سے دلچسپی نہیں ہے یا کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ سی بی ایس ای بورڈ نے سینئر سیکنڈری لیول کے نتائج ظاہر کئے تو معلوم ہوا کہ لینگویجز میں ۱۰۰؍ فیصد مارکس حاصل کرنے والوں کی تعداد اُتنی نہیں جتنی دیگر مضامین مثلاً سائنس، حساب، تکنالوجی اور دیگر میں ہے۔ بورڈ کے نتائج کا تجزیہ کرنے والوں نے بتایا کہ بنگلہ میں صرف ۱۵، کنڑ میں صرف ۵، اُردو میں صرف ۵ ، تیلگو میں صرف ۳، آسامی میں صرف ۲؍ اور مراٹھی نیز منی پوری میں (صرف) ایک ایک طالب علم نے پورے ۱۰۰؍ نمبر حاصل کئے۔ قابل ذکر ہیں پنجابی، ملیالم، سنسکرت اورتمل کے علی الترتیب ۷۹۶، ۳۶۷، ۱۱۹؍ اور ۵۲؍ طلبہ جنہوں نے اپنی اپنی زبان میں ۱۰۰؍ نمبر لئے مگر کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ اِن چار پانچ زبانوں سے بھی طلبہ کی محبت کب تک رہے گی!
یہ سطور پڑھنے والے اہل اُردو سوچ سکتے ہیں کہ مسئلہ صرف اُردو کا نہیں ، تمام زبانوں کا ہے اسلئے اگر اُن میں زبان سے کچھ زیادہ بے اعتنائی پیدا ہوگئی تو کیا فرق پڑ جائیگا۔ اگر وہ ایسا ہی سوچ رہے ہیں تو مجھے کہنے دیجئے کہ وہ سخت غلطی پر ہیں ۔ اس وقت زبانوں کی حالت اُس مریض کی ہے جس پر خاطر خواہ توجہ دی گئی تو وہ صحت یاب ہوسکتا ہے۔ توجہ نہیں دی گئی تو اس کا مرض بڑھ سکتا ہے اور پھر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ زبانیں نہ تو چند سال میں پیدا ہوتی ہیں نہ ہی چند سال میں ختم ہوتی ہیں مگر خستہ حالی میں جینے اور صحتمندی میں جینے میں فرق ہے۔ زبانوں کو صحتمند رکھ کر ہی ہم تہذیبی شناخت کو صحتمند رکھ سکتے ہیں ورنہ ’’انا للہ‘‘ بھی انگریزی میں پڑھنا پڑے گا۔