ڈومبیولی کے معر وف پینڈھارکر کالج کو نوٹس، قبائلی طلبہ کی اسکالرشپ تقسیم میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری فنڈ کے غلط استعمال کا الزام۔
EPAPER
Updated: May 16, 2026, 12:49 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Dombivli
ڈومبیولی کے معر وف پینڈھارکر کالج کو نوٹس، قبائلی طلبہ کی اسکالرشپ تقسیم میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری فنڈ کے غلط استعمال کا الزام۔
معروف تعلیمی ادارے کے وی پینڈھارکرکالج ایک بار پھر تنازعات کے گھیرے میں آ گیا ہے۔ اس مرتبہ کالج انتظامیہ پر قبائلی طلبہ کی اسکالرشپ تقسیم میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری فنڈ کے غلط استعمال کے سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ ’ آدیواسی وکاس پرکلپ‘ محکمہ کے اسسٹنٹ پروجیکٹ آفیسر بی آر جادھو نے کالج انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کی وضاحت طلب کی ہے۔ جبکہ سماجی بہبود محکمہ نے بھی معلومات چھپانے کے معاملے پر سخت رخ اختیار کر لیا ہے۔
اسسٹنٹ پروجیکٹ آفیسر بی آر جادھو کے نوٹس کے مطابق سال ۲۰۱۰ء سے اسکالرشپ تقسیم میں مالی بے ضابطگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الزام ہے کہ اہل طلبہ کو بروقت اور مکمل رقم فراہم نہیں کی گئی جس کے باعث آدیواسی اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے متعدد طلبہ کو تعلیمی و مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ نوٹس میں گھپلے کی مجموعی رقم کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن محکمہ کا کہنا ہے کہ مکمل جانچ کے بعد ہی اصل مالی بے ضابطگی سامنے آسکے گی۔
اس معاملے کو منظر عام پر لانے میں کالج کے سابق طالب علم اور’ سیو پینڈھارکر‘ مہم کے سرگرم کارکن روہی داس سروسے کا اہم کردار بتایا جا رہا ہے۔ انہوں نے حق اطلاعات قانون کے تحت اسکالرشپ تقسیم سے متعلق تفصیلات طلب کی تھیں لیکن مبینہ طور پر کالج انتظامیہ نےمعلومات فراہم کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا۔ اس کے بعد سروسے نے سماجی بہبود محکمہ سے رجوع کیا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سماجی بہبود محکمہ کے اسسٹنٹ کمشنر سمادھان انگلے نے بھی کالج انتظامیہ کو علیحدہ نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ مانگی گئی تمام معلومات ۳؍ دن کے اندر فراہم کی جائیں بصورت دیگر سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل کالج انتظامیہ کی مبینہ من مانی اور غیر شفاف کارکردگی کے خلاف ’سیو پینڈھارکر‘ مہم شروع کی گئی تھی۔ اس دوران کئی ماہ تک احتجاج اورموجودہ و سابق طلبہ کی جانب سے مختلف تحریک چلائی گئیں۔ شدید عوامی دباؤ کے بعد ڈومبیولی شکشن پرسارک منڈل کے اُس وقت کے صدر کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا اور ان کی جگہ نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری عمل میں آئی تھی تاہم پرانی انتظامیہ کے دور کے مبینہ مالی گھپلوں اور بے ضابطگیوں کے الزامات اب بھی کالج کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے ہیں۔