Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراٹھی میڈیم کے ۸؍ فیصد طلبہ اپنی زبان میں ناکام

Updated: May 16, 2026, 12:52 PM IST | Mumbai

ایس ایس سی نتائج کا چونکا دینے والا انکشاف، تقریباً ایک لاکھ طلبہ مراٹھی میں فیل ہوئے۔

Concern is being expressed over a large number of students failing in Marathi. Photo: INN
بڑی تعداد میں مراٹھی زبان میں طلبہ کے فیل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تصویر: آئی این این

ایک طرف مہاراشٹر میں مراٹھی زبان کو فروغ دینےکیلئے متعدد قسم کی مہم چلائی جا رہی ہے تودوسری جانب حال ہی میں جاری ہوئے ایس ایس سی امتحانات کے نتائج میں ۹۴؍ہزار ۵۴۴؍ طلبہ کے مراٹھی میں فیل ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ ان میں ۸۰؍ ہزار ۸۰۳؍ ایسے طلبہ ہیں جنہوں نے پہلی زبان کے طورپر مراٹھی کاامتحان دیاتھا۔ مراٹھی میڈیم اسکولوں میں طلبہ کی یہ صورتحال زبان کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ 
دسویں امتحان میں مراٹھی مضمون کے نتائج میں آنے والی کمی تشویش میں اضافہ کرنے والی ہے۔ ان نتائج کے تحت ایک چونکادینے والی تصویر سامنے آئی ہے کہ اس سال مراٹھی میڈیم کے ۹۴؍ ہز ار ۵۴۴؍ طلبہ اپنی آبائی زبان مراٹھی میں فیل ہوئے ہیں، ا س لئے یہ کہنے کا وقت آگیا ہےکہ مراٹھی اپنے ہی گھر میں کمزور ہو رہی ہے۔ چونکہ مراٹھی کا نتیجہ صرف ۹۲؍فیصد آیاہے ایسے میں ۸؍ فیصد طلبہ اپنی مادری زبان میں پاس نہیں ہوسکے، اس سے ثابت ہوتا ہےکہ مراٹھی میڈیم کے طلبہ اپنی زبان کی پڑھائی کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں، ساتھ ہی اس بات کا انکشاف بھی ہوا ہے کہ کامیاب ہونے والے بیشتر طلبہ نے پاس ہونے کیلئے مطلوبہ نمبرات ہی حاصل کئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: سبھی اسپتالوں کیلئے نئے قانون کو نافذ کرنے کا منصوبہ

تعلیمی ماہرین کے مطابق ’’مراٹھی میں کامیاب ہونے والے طلبہ کی تعداد میں کمی کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں کانونٹ اور انگریزی میڈیم اسکولوں کی جانب طلبہ اور سرپرستوں کا بڑھتا رجحان اور مراٹھی زبان کا محدود استعمال شامل ہے۔ گرامر کی غلطیوں، ہجے اور قواعد سے ناواقفیت کی وجہ سے مراٹھی مضمون کے تحریری امتحان کے پرچہ میں بڑی تعداد میں نمبرات کاٹے جانے سے بھی مراٹھی کا رزلٹ متاثر ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کے دور میں پڑھنے کی عادت کے دن بدن کم ہونے سے بھی طلبہ کے پاس الفاظ کا ذخیرہ کم ہونے سے بھی مراٹھی مضمون کے امتحان میں طلبہ اچھی کارکردگی پیش نہیں کر پا رہے ہیں۔ ‘‘
ان ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ ۱۲؍ویں جماعت تک مراٹھی کو لازمی قرار دینے کے باوجود حقیقی نتائج سے صاف ظاہر ہو رہاہےکہ مراٹھی کی مقبولیت میں متواتر کمی آرہی ہے۔ صرف لازمی قوانیں کافی نہیں، اسکولوں میں تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اساتذہ کو زبان کے عملی استعمال اور طلبہ میں مراٹھی کیلئے محبت پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ مراٹھی ہماری مادری زبان اور ثقافتی شناخت ہے۔ اس کے تحفظ کیلئے تعلیمی پالیسیوں، اساتذہ کی تربیت اور والدین اور طالب علم کی آگاہی کی مسلسل ضرورت ہے ورنہ مستقبل میں مراٹھی کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK