ایران کے تیل کے ذخائر پر اسرائیلی حملوں کے بعد دارالحکومت تہران میں ایندھن کی فروخت محدود کردی گئی ہے، جس کے تحت ذاتی کارڈ پر ۳۰؍ لیٹر سے کم کرکے ۲۰؍ لیٹر پیٹرول کردیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 10:27 PM IST | Tehran
ایران کے تیل کے ذخائر پر اسرائیلی حملوں کے بعد دارالحکومت تہران میں ایندھن کی فروخت محدود کردی گئی ہے، جس کے تحت ذاتی کارڈ پر ۳۰؍ لیٹر سے کم کرکے ۲۰؍ لیٹر پیٹرول کردیا گیا ہے۔
ایران نے دارالحکومت تہران میں ذاتی فیول کارڈز پر ایندھن کی خریداری کا کوٹہ اتوار کو۳۰؍ لیٹر سے کم کرکے۲۰؍ لیٹر کردیا۔ واضح رہے کہ یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کی جانب سےتیل ذخائر پر حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔بعد ازاں ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، تہران حکومت کے حوالے سے بتایا گیا کہ تہران اور صوبہ البرز میں آئل ڈپوزپر حملوں کے باعث دارالحکومت میں پیٹرول اسٹیشن پر ایندھن کی خریداری میں پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے امریکی اینٹی میزائل نظام تباہ کردیا
نئے اقدام کے تحت، صوبہ تہران بھر کے اسٹیشنوں پر ذاتی کارڈز کے ذریعے ایندھن کی خریداری کا کوٹہ۳۰؍ لیٹر سے کم کرکے۲۰؍ کردیا گیا ہے۔امریکی اور اسرائیلی افواج نے گزشتہ پیر کو تہران اور صوبہ البرز کے آئل ڈپوز کو نشانہ بنایا تھا۔یاد رہے کہ ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کے بعد علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای،۱۵۰؍ سے زائد اسکولی طالبات، اور اعلی فوجی افسران شامل ہیں۔جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پورے علاقے میں امریکی اڈوں، سفارتی تنصیبات، فوجی اہلکاروں اور متعدد اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پاسداران انقلاب نے اسرائیلیوں کے فون پرعبرانی زبان میں ملک چھوڑنے کا پیغام بھیجا
یاد رہے کہ عمان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے مابین بل واسطہ مذاکرات جاری تھے، تاکہ جوہری توانائی پر کسی معاہدے پر رضامندی ہو سکے، تین دور کے مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے مثبت پیشرفت کا اشارہ دیا تھا، تاہم دوران مذاکرات ہی۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پرایران پر حملہ کرکے سپریم لیڈر علی آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کردیا، جس کے جواب میں ایران نے مشرق وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل کو بیک وقت نشانہ بنایا۔ بعد ازاں یہ کشیدگی باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے، اور پورا مشرق وسطیٰ کے اس کی لپیٹ میں آنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔