زمانے کی ترقی نے آج صحت و تندرستی کیلئے بےشمار وسائل پیدا کردیئے ہیں لیکن جہاں تک بنیادی ہدایات کا تعلق ہے ، زمانہ اسلام کے اصول حفظانِ صحت پر کوئی اضافہ نہیں کر سکا حتیٰ کہ اس مقام تک بھی نہیں پہنچ سکا جو اسلام نے ۱۴۵۰؍ سال قبل متعین کردیا تھا۔
EPAPER
Updated: November 17, 2023, 1:00 PM IST | Iftikhar Ahmad Qadri Barakati | Mumbai
زمانے کی ترقی نے آج صحت و تندرستی کیلئے بےشمار وسائل پیدا کردیئے ہیں لیکن جہاں تک بنیادی ہدایات کا تعلق ہے ، زمانہ اسلام کے اصول حفظانِ صحت پر کوئی اضافہ نہیں کر سکا حتیٰ کہ اس مقام تک بھی نہیں پہنچ سکا جو اسلام نے ۱۴۵۰؍ سال قبل متعین کردیا تھا۔
مذہب اسلام نے حفظانِ صحت کے جو اعلیٰ قوانین مرتب کئے ہیں اگر ان اصول وضوابط پر عمل کیا جائے تو دنیا کی تمام تر مشکلات ومصائب کا بحسن وخوبی مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ مذہب ِ اِسلام کے علاوہ دیگر مذاہب نے یا تو انسان کی روحانی قدروں کو بلند کرنے پر زور دیا، یا زیادہ سے زیادہ ان برائیوں اور بد اعمالیوں کو دور کرنے کی ترغیب دی جو ان کے سماج اور سوسائٹی میں موجود تھیں ، لیکن اسلام نے ان دونوں کاموں کو انجام دینے کے علاوہ زندگی کے ہر گوشہ و شعبہ میں انسان کی مکمل رہنمائی کی ہے۔ پھر اس نے رہنمائی کے فوائد و خصائص کو صرف مسلمانوں ہی کیلئے مخصوص نہیں رکھا بلکہ انہیں سب کیلئے عام کر دیا ہے اور یہ دونوں باتیں اسلام کی ایسی خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے اسے بجا طور پر ایک عالم گیر مذہب اور دین فطرت ہونے کا حق ہے۔
اسلام نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کے متعلق نہایت جامع ومفید اور قابلِ عمل ہدایات دی ہیں حتیٰ کہ اس نے روزمرہ پیش آنے والی ضرورتوں کے علاوہ انسانی زندگی کے ایسے معاملات ومسائل کوبھی نظر انداز نہیں کیا جنہیں ظہورِ اسلام کے وقت کوئی تصور میں بھی نہیں لا سکتا تھا لیکن جنہیں آج کی زندگی میں غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر انسان اور صحت و تندرستی کے سوال ہی کو لے لیجئے۔ آج سے ۱۴۵۰؍ سال پہلے کا انسان اگرچہ امراض و معالجات سے قطعاً ناواقف نہ تھا لیکن وہ صحت و تندرستی کی حقیقی اہمیت وافادیت سے یقیناً بے خبر تھا مگر آج اس شعبے کو انسانی زندگی کا اہم ترین شعبہ تعیین کیا جاتا ہے اور یہ بات تسلیم کر لی گئی ہے کہ صحت و تندرستی کی بقا نہ صرف انفرادی اور قومی اعتبار سے ایک اہم ضرورت ہے بلکہ اس کے بغیر بین الاقوامی ترقی بھی ممکن نہیں ہو سکتی۔ اسی لئے عالمی ادارۂ صحت تقریباً نصف صدی سے بنی نوع انسان کے معیارِ صحت کی بلندی اور مختلف بیماریوں کے خلاف بیداری کیلئے سر توڑ کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب دیکھئے کہ پیغمبر ِ اسلام حضورِ اقدس ﷺ نے اس اہم موضوع کو اس مختصر سے جملے میں واضح فرمادیا کہ ’’جس شخص کی صحت و تندرستی اچھی نہیں ہوتی وہ الله تعالیٰ کا بہترین سپاہی نہیں بن سکتا۔‘‘ اِسلام نے روح کے تزکیہ کے علاوہ جسم کی صفائی اور لباس کی پاکیزگی پر جس درجہ زور دیا ہے وہ صحت و تندرستی کو برقرار رکھنے ہی کے تصور پر مبنی ہے۔ آپؐ نے تندرستی کو برقرار رکھنے کیلئے ان ہدایات پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی حیات ِ مبارکہ میں چند ایسے اصول بھی قائم فرما دیئے جو صحت و تندرستی کے معاملے میں بنیادی اور مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور آج کل کی طبی تحقیقات بھی ان کی افادیت و اہمیت سے انکار نہیں کر سکتی ۔ بعض مخصوص امراض کے علاوہ جس کے اسباب و محرکات دوسرے امراض سے بالکل مختلف ہوتے ہیں ، عام انسانوں کے امراض شکم اور معدہ کی ابتری کا نتیجہ تسلیم کئے گئے ہیں اور یہ انکشاف ظہورِ اسلام سے صدیوں بعد ہوا لیکن حضورِ اقدس ﷺکا یہ معمول تھا کہ کبھی بھی شکم سیر ہوکر کھانا تناول نہیں فرماتے تھے اور ارشاد فرماتے کہ شکم سیر ہوکر کھانا اس کی لذت اور مقصد کو زائل کر دیتا ہے۔
حکیم بقراط کو طب کا موجد کہا جاتا ہے۔ اس نے جو نظریات پیش کئے ہیں ان کی صداقت آج کے بحرانی دور میں قبول کی جاتی ہے۔ اس کا قول ہے کہ لوگوں نے اپنے شکم کو جانوروں کی طرح بھر کر خود کو بیمار کر لیا ہے، میں انہیں پرندوں کی غذا دے کر ٹھیک کرتا ہوں ۔ زندہ رہنے کیلئے کھاؤ نہ کہ کھانے کیلئے زندہ رہو۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ کم کھانا صحت کیلئے شفا اور سود مند ہے۔ ارکانِ اسلام میں ایک رکن روزہ ہے جو سال بھر میں ایک ماہ رکھنا فرض ہے جبکہ دیگر دنوں میں نفلی روزے رکھنے کو سنت و مستحب قرار دیا گیا ہے۔ حکماء اور جدید دورکے اطباء کا اتفاق ہے کہ روزہ رکھنے سے معدہ، جگر اور قلب کی بیماریاں نہیں ہوتیں ۔
دور حاضر میں حیاتین کی دریافت کے ساتھ ساتھ غذا کے متعلق یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ بیشتر انسانوں کی صحت کیلئے غذائیں غیر متوازن اور نامکمل ہوتی ہیں اور جب تک ان کے حیاتیاتی اجزاء میں توازن اور اعتدال پیدا نہ کیا جائے وہ نہ تو انسان کی غذائی ضرورتوں کو پورا کر سکتی ہیں اور نہ ان کے ذریعہ انسانی صحت کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ چونکہ موسم مختلف ممالک کے جغرافیائی اور طبی حالات بھی غذا پر اثر انداز ہوتے ہیں اس لئے نبی کریم ﷺ خوراک کے معاملہ میں ان باتوں کو بھی مد نظر رکھتے اور ایسی غذائیں تناول فرماتے جو موسم کے اعتبار سے سہل الہضم اور مفید ہوتی تھیں ۔ حیاتیاتی زاویہ نظر سے حضورِ اقدسؐ کی خوراک متوازن ومعتدل ہوتی تھی۔ آپؐ سرد یا گرم کھانے سے اجتناب فرماتے اور کھانا تناول فرمانے کے بعد خصوصاً رات کے کھانے کے بعد فوراً ہی سو جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔
آج اس بات کو صحت و تندرستی کی بنیادی ضرورت کہا جاتاہے کہ کھانے پینے کے برتن صاف ہونے چاہئیں اور کھانے پینے کی چیزوں کو گرد و غبار سے پاک رکھنا چاہئے اور ان پر مکھیاں نہیں بیٹھنی چاہئیں ، وغیرہ۔ اس سلسلے میں دنیا کے ہر ملک نے قانون اور ضابطے بنائے ہیں ۔ حضورِ اقدس ﷺ کھانے پینے کی چیزوں میں صفائی کو خصوصیت کے ساتھ مد نظر رکھتے، کھانے کی جگہ اور برتنوں کو صاف ستھرا رکھنے کی ہدایت دیتے اور پانی کی صفائی کا بہت زیادہ خیال فرماتے۔
اس میں شک نہیں کہ انسان تقدیر الہٰی کا پابند ہے اور الله رب العزت نے روز ازل ہی میں جس شخص کے لئے جو کچھ مقرر کردیا ہے وہ پورا ہوکر رہتا ہے اسی لئے مثلاً بعض مسلمان متعدی امراض میں مبتلا افراد سے دور یا محتاط رہنے کو ضروری سمجھتے ہیں لیکن یہ خیال نہ صرف طبی نقطہ نظر ہی کے منافی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ اس معاملہ میں حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم کا یہ عمل تھا کہ جب کبھی کسی جگہ کوئی متعدی مرض نمودار ہوتا تھا تو آپؐ لوگوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے، خصوصاً طاعون زدہ علاقوں میں لوگوں کو آنے جانے کی ممانعت فرماتے اور متعدی امراض میں مبتلا لوگوں کو کسی ایسے مقام پر بھجوا دیتے جہاں عوام کا گزر نہ ہوتا تھا۔ اس طرح مذہبِ اِسلام نے ساڑھے چودہ سو سال قبل متعدد بیماریوں کی اس خوفناک نوعیت کو تسلیم اور ظاہر کردیا تھا جو صدیوں بعد مسلسل سائنسی اور طبی تحقیقات کے ذریعے سے دنیا کے موجودہ دور میں ثابت ہوتی ہے۔
اسلام نے ۱۴۵۰؍ سال پہلے پاکی اور طہارت کی تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی جو حفظان ِ صحت کے اصولوں میں سے ایک اہم اصول ہے جبکہ دنیا آج اس بات کو بیان کرتی ہے کہ میلے اور پانی میں بھیگے ہوئے لباس کی بدولت انسان کو بہت سی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں اورصحت و تندرستی کو برقرار رکھنے کیلئے انسان کو میل کچیل سے پاک اور خشک لباس پہننا چاہئے۔ قرآن و احادیث اور اسوۂ حسنہ کا مطالعہ کرنے سے صحت و تندرستی کے متعلق مذہب اسلام کی جو ہدایات سامنے آتی ہیں اُنہیں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ زمانے کی ترقی نے آج صحت و تندرستی کی حفاظت اور بقا کیلئے بےشمار وسائل تیار کردیئے ہیں لیکن جہاں تک بنیادی ہدایات کا تعلق ہے، اسلام کے اصول حفظانِ صحت پر زمانہ کوئی اضافہ نہیں کر سکا حتیٰ کہ وہ اس مقام تک بھی نہیں پہنچ سکا جو مذہب ِ اسلام نے ساڑھے چودہ سو سال قبل متعین کردیا تھا۔
مختصر یہ کہ مذہب ِ اسلام نے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح صحت و تندرستی کے معاملے میں بھی انسانوں کی بہترین رہنمائی کی ہے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ ہم صحت و صفائی کے معاملے میں مذہبِ اسلام کی ہدایتوں پر کار بند ہوسکیں تو ہماری زندگی ہر لحاظ سے اور ہر اعتبار سے کامیاب ہوسکتی ہے۔