Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کے خلاف ’’وحشیانہ کارروائیاں‘‘ کی ہیں: بین الاقوامی کمیٹی

Updated: May 09, 2026, 8:05 PM IST | London/Mexico City

انٹرنیشنل کمیٹی ٹو بریک دی سیئج آن غزہ کے سربراہ یوسف عجیسہ نے انادولو نیوز ایجنسی کو بتایا کہ رہا ہونے والے کارکنوں نے اسرائیلی حکام کی جانب سے حراست اور تفتیش کے دوران ”جنسی تشدد، مار پیٹ، گھسیٹنے، ہتھکڑیاں لگانے اور آنکھوں پر پٹیاں باندھنے“ کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے اس سلوک کو ”انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزی“ قرار دیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

’انٹرنیشنل کمیٹی ٹو بریک دی سیئج آن غزہ‘ نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے کریت (Crete) کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں غزہ جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ مشن کو روکنے کے بعد حراست میں لئے گئے کارکنوں کے خلاف ”سنگین خلاف ورزیاں“ کی ہیں۔ 

کمیٹی کے سربراہ یوسف عجیسہ نے جمعہ کو انادولو نیوز ایجنسی کو بتایا کہ رہا ہونے والے کارکنوں نے اسرائیلی حکام کی جانب سے حراست اور تفتیش کے دوران ”جنسی تشدد، مار پیٹ، گھسیٹنے، ہتھکڑیاں لگانے اور آنکھوں پر پٹیاں باندھنے“ کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ”اسرائیلی خلاف ورزیوں میں جنسی حملے اور ہراسانی شامل تھی۔“ انہوں نے اس سلوک کو ”انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزی“ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: صمود فلوٹیلا: اسرائیلی حراست میں موجود کارکن تھیاگو اپنی والدہ کی موت سے بے خبر

عجیسہ نے کہا کہ ان مظالم نے ”اسرائیلی ریاست کی اصل حقیقت، اس کی مجرمانہ فطرت اور بربریت“ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی ردِعمل، بالخصوص یورپی یونین کے کمزور رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”صیہونی ریاست کے اس اقدام پر وسیع پیمانے پر ردِعمل اور مذمت کی کمی، خاص طور پر یورپی یونین کی جانب سے، ہمارے لئے حیران کن تھی۔“ عجیسہ نے مزید کہا کہ اسرائیل کے خلاف پابندیاں اب ”ضرورت“ بن چکی ہیں کیونکہ ان کے بقول بغیر کسی جواب دہی کے خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ فلیٹلا کے ’اسپرنگ ۲۰۲۶ء‘ مشن کا مقصد غزہ پر اسرائیلی محاصرہ توڑنا اور وہاں انسانی امداد پہنچانا تھا۔ اسرائیلی بحری افواج نے ۲۹ اپریل کو اس قافلے کو غزہ سے تقریباً ۶۰۰ بحری میل دور اور یونانی سمندری حدود سے محض چند میل کے فاصلے پر روک لیا تھا۔ منتظمین کے مطابق، بین الاقوامی پانیوں میں بحری جہازوں پر اسرائیلی افواج کے قبضے کے بعد ۱۷۷ کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی پابندی کے سبب مقبوضہ مغربی کنارے میں جلدی بیماری میں اضافہ:اقوام متحدہ

کمیٹی کی جانب سے نقل کی گئی رپورٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ برازیلی کارکن تھیاگو ایویلا (Thiago Avila) اور ہسپانوی-سویڈش کارکن سیف ابو کشک اب بھی اسرائیل کی حراست میں ہیں اور انہیں تفتیش کے دوران شدید جسمانی تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عجیسہ نے دونوں کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ جانے والے مستقبل کے امدادی قافلوں کو بین الاقوامی پانیوں میں ”قزاقی“ سے بچانے کیلئے ضمانتیں فراہم کرے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے ۲۰۰۷ء سے فلسطینی علاقے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء میں شروع ہونے والے اسرائیلی فوجی حملے میں اب تک ۷۲ ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ ۷۲ ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ای یو کے سابق عہدیداروں کا مغربی کنارے کےغیر قانونی منصوبے پر پابندی کا مطالبہ

میکسیکو نے فلیٹلا کے شرکاء کیلئے تحفظ کا مطالبہ کیا

دریں اثنا، میکسیکو کی وزارتِ خارجہ نے بیان جاری کیا ہے کہ وہ صدر کلاڈیا شینبام کی ہدایات کے بعد فلوٹیلا پر سوار میکسیکن شہریوں کے تحفظ کیلئے کوششیں تیز کر رہی ہے۔ وزارت نے کہا کہ وہ کارکنوں کے خاندانوں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے اور صورتحال کی نگرانی اور قونصلر معاونت فراہم کرنے کیلئے خطے میں میکسیکن سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ میکسیکو نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل اس کے شہریوں کی ”جسمانی اور ذہنی سالمیت“ کی ضمانت دے اور بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے قوانین کی تعمیل کرے۔ وزارت نے تصدیق کی کہ سفارتی کوششوں کے بعد حراست میں لئے گئے ایک میکسیکن کارکن ۲ مئی کو میکسیکو سٹی واپس پہنچ گئے۔ دیگر ۶ میکسیکن شرکاء حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان کی حالت بہتر بتائی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK