• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یاد رہے، مستقل مزاجی کا فقدان بھی ایک غیر شرعی عمل ہے

Updated: October 09, 2026, 4:19 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

مستقل مزاجی محض ایک دنیاوی خوبی نہیں اسلامی اور اخلاقی قدر بھی ہے۔ لہٰذا اگر منزل دور دکھائی دے تو قدم نہ روکیں، اگر رفتار کم ہوجائے تو سفر نہ چھوڑیں، اگر راستے میں کانٹے آئیں تو سمت نہ بدلیں۔ پھر دیکھیے کہ وہ رب، جو مستقل نیکی کو پسند فرماتا ہے، آپ کی مسلسل کوششوں کو کس طرح اپنی رحمت، برکت اور کامیابی سے ہم کنار فرماتا ہے!

Picture: INN
تصویر: آئی این این
کامیابی بلاشبہ اللہ رب العزت عطا فرماتے ہیں، لیکن اللہ رب العزت کے مقرر کردہ اصولوں میں سے ایک اہم اصول یہ ہے کہ بندہ کامیابی کے حصول کے لئے متعلقہ اسباب اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اسباب کے نظام پر قائم فرمایا ہے؛ بیج بوئے بغیر فصل، محنت کے بغیر ہنر، حصول علم کے بغیر بصیرت اور سفر کے بغیر منزل عموماً حاصل نہیں ہوتی۔ چنانچہ اسی اصول کے تحت کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے مستقل مزاجی ایک بنیادی اور ناگزیر سبب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’اللہ کے نزدیک سب سے محبوب اعمال وہ ہیں جو ہمیشہ کیے جائیں، اگرچہ وہ تھوڑے ہی ہوں۔‘‘ (مسلم) اس مختصر مگر جامع ارشاد میں زندگی کی ایک عظیم حقیقت پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محض وقتی جوش، عارضی سرگرمی اور چند دنوں کی غیر معمولی محنت سے زیادہ محبوب وہ عمل ہے جو انسان پابندی، تسلسل اور ثابت قدمی کے ساتھ انجام دیتا رہے۔ کیونکہ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے، ایک ایک قدم اٹھا کر مسافر منزل تک پہنچتا ہے اور روزانہ کی معمولی سی محنت بالآخر بڑے نتائج کی بنیاد بن جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مستقل مزاجی کو کامیابی کی شاہ کلید سبھی مانتے اور سمجھتے ہیں، کتابیں بھی یہی بتاتی ہیں، کامیاب لوگ بھی یہی کہتے ہیں اور تجربات بھی اسی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں؛ لیکن عملاً جب اس اصول کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی باری آتی ہے تو اکثر لوگ کوتاہ قد ثابت ہوتے ہیں۔ وہ ایک دن جوش و جذبے کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، دوسرے دن اپنی رفتار کم کر دیتے ہیں اور چند ہی دنوں بعد راستہ ہی بدل دیتے ہیں۔ کوئی طالب علم دو چار دن پڑھ کر سمجھتا ہے کہ اب کامیابی اس کے قدم چومے گی، کوئی شخص چند دن ورزش کرکے صحت کی منزل پانا چاہتا ہے، کوئی عبادت میں چند روز کی غیر معمولی سرگرمی کے بعد معمول چھوڑ دیتا ہے، اور کوئی کاروبار میں چند ناکامیوں کے بعد اپنی منزل سے دست بردار ہوجاتا ہے۔ پھر جب کامیابی ہاتھ نہیں آتی تو سوال اٹھتا ہے کہ کامیابی آخر ہمارے ہاتھوں سے کیوں پھسل جاتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات کامیابی ہم سے روٹھی نہیں ہوتی، ہم خود مستقل مزاجی کا دامن چھوڑ کر اس سے دور ہوجاتے ہیں۔
 
 
اگر انسان شریعت کے تمام احکامات پر غور کرے تو معلوم ہوگا کہ ان میں مداومت، پابندی اور تسلسل کو ایک نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ نماز دن میں پانچ وقت ہے اور ہر دن ہے؛ روزہ سال میں ایک مہینہ ہے اور ہر سال ہے؛ زکوٰۃ سال میں ایک مرتبہ فرض ہے، لیکن صاحبِ نصاب رہنے کی صورت میں ہر سال ادا کرنا لازم ہے۔ گویا شریعت کے یہ مسلسل اور باقاعدہ اعمال ہمیں خاموش زبان میں یہ سبق دیتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں وقتی جوش سے زیادہ مستقل قدم محبوب ہے۔  
اس پس منظر میں اگر انسان روحانیت کے اعلیٰ مقام تک پہنچنا چاہے تو اس کے لئے بھی مستقل مزاجی ناگزیر ہے۔ صرف کبھی کبھار لمبی نماز، کبھی ایک رات کا طویل قیام، کبھی چند صفحات کی تلاوت اور پھر طویل غفلت انسان کو روحانی بلندیوں تک نہیں پہنچا سکتی۔ اسے نماز، روزہ، ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن، دعا، استغفار، صدقہ اور دیگر نیکیوں کا مستقل اہتمام کرنا ہوگا۔ دل بھی زمین کی طرح ہے؛ اگر اسے مسلسل ذکر و فکر، تلاوت اور نیکی کے پانی سے سیراب نہ کیا جائے تو اس میں غفلت کی جھاڑیاں اگنے لگتی ہیں۔ اسی طرح اگر انسان دنیاوی کامیابی حاصل کرنا چاہے تو وہاں بھی مستقل مزاجی شرط ہے۔ 
انسانی فطرت میں اتار چڑھاؤ ایک فطری عمل ہے؛ چنانچہ انسان کبھی اپنے آپ کو بے پناہ پُرجوش پاتا ہے اور کبھی سستی، تھکن اور بے دلی اسے گھیر لیتی ہے، اور اس کا اثر لازماً اس کے عمل پر بھی پڑتا ہے۔ اگر انسان صرف اپنے جذبات اور وقتی کیفیت کے تابع ہو جائے تو اس کی زندگی میں تسلسل باقی نہیں رہ سکتا۔ یہی وہ حکمت ہے جس کی وجہ سے شریعت میں توازن کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اسلام انسان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ ہر دن ایک ہی درجے کا جوش محسوس کرے، بلکہ یہ چاہتا ہے کہ جوش کم بھی ہو تو عمل کا چراغ بجھنے نہ پائے۔ کبھی قدم تیز ہوں، کبھی آہستہ؛ کبھی دل میں شوق زیادہ ہو، کبھی کم؛ لیکن سفر رکے نہیں۔ یہی توازن انسان کو مداومت ِعمل کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اس لئے کامیاب انسان وہ نہیں جو کبھی تھکتا نہیں، بلکہ وہ ہے جو تھکنے کے باوجود رکتا نہیں؛ وہ نہیں جسے کبھی مایوسی نہیں ہوتی، بلکہ وہ ہے جو مایوسی کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑتا۔
 
 
آج بہت سے والدین کا یہ رونا ہے کہ ہمارے بچے کامیابی حاصل نہیں کر پا رہے، اسی طرح نوجوان نسل بھی شکوہ  کرتی نظر آتی ہے کہ ہم سے کامیابی روٹھ گئی ہے۔ بلاشبہ بعض اوقات حالات، وسائل کی کمی، معاشرتی رکاوٹیں اور ناموافق ماحول انسان کی رفتار کو متاثر کرتے ہیں، لیکن ہر ناکامی کا ذمہ دار ماحول، زمانہ یا دوسرے لوگوں کو قرار دینا بھی انصاف نہیں۔ ہمیں کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اپنے آپ سے یہ سوال بھی کرنا چاہئے کہ کہیں ہمارے عمل میں مستقل مزاجی کا فقدان تو نہیں؟ کہیں ہم ہر چند دن بعد اپنا ہدف تو نہیں بدلتے؟ کہیں ہم ایک ناکامی کے بعد کوشش ترک تو نہیں کردیتے؟ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کی کامیابی دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں مگر اس کامیابی پر لگنے والی برسوں کی محنت، صبر اور مستقل مزاجی کو دیکھنا بھول جاتے ہیں۔  حقیقت یہ ہے کہ مستقل مزاجی سے کی جانے والی محنت انسان کو کم از کم کسی نہ کسی درجے کی کامیابی ضرور عطا کرتی ہے؛ اگر منزل فوراً نہ بھی ملے تو تجربہ، صلاحیت، اعتماد اور بصیرت ضرور حاصل ہوتی ہے۔ ناکامی محنت کا خاتمہ نہیں، مستقل مزاجی کیلئے ایک امتحان ہوتی  ہے اور آئندہ ملنے والی کامیابی کا نقطۂ آغاز۔
واضح رہنا چاہئے کہ مستقل مزاجی محض ایک دنیاوی خوبی نہیں، بلکہ ایک اسلامی اور اخلاقی قدر بھی ہے۔ لہٰذا اگر منزل دور دکھائی دے تو قدم نہ روکیں، اگر رفتار کم ہوجائے تو سفر نہ چھوڑیں، اگر راستے میں کانٹے آئیں تو سمت نہ بدلیں، ناکامی کا نقشہ دکھائی دیتا ہو تو کامیابی کے خواب کو پس پشت نہ کریں۔ پھر دیکھیے کہ وہ رب، جو مستقل نیکی کو پسند فرماتا ہے، آپ کی مسلسل کوششوں کو کس طرح رحمت، برکت اور کامیابی سے ہمکنار فرماتا ہے!

توکل اور ٹارگٹ پر فوکس

جدید اصطلاح میں کامیابی کیلئے ’’ٹارگٹ پر فوکس‘‘ کرنے کی بات کی جاتی ہے؛ قرآن مجید وسیع تر معنی میں ہمیں یہ پیغام اس ارشاد کے ذریعہ دیتا ہے: ’’پھر جب تم پختہ ارادہ کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔‘‘ (سورۂ آلِ عمران: ۱۵۹)۔ یہ آیت دراصل ارادے، فیصلے، عمل اور توکل کے درمیان ایک حسین توازن قائم کرتی ہے۔ اس سے پہلے غور و فکر اور مشاورت کا ذکر ہے، پھر جب فیصلہ ہوجائے تو تذبذب، خوف اور بے یقینی میں مبتلا رہنے کے بجائے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے اور اللہ پر بھروسہ کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ گویا اسلام یہ نہیں کہتا کہ انسان صرف خواب دیکھے اور  کامیابی کی دعا کرے بلکہ پہلے صحیح فیصلہ، پھر مضبوط ارادہ، اور پھر اسباب اختیار کرے اور اس کے ساتھ اللہ پر کامل توکل رکھے، یہی مومن کا راستہ ہے۔ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں، بلکہ پوری کوشش کے بعد نتیجہ اللہ کے سپرد کردینا ہے۔ یہی وہ روحانی کیفیت ہے جو انسان کو ناکامی کے بعد بھی اٹھنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK