اسلام کی نگاہ میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک اور کفر ہے، اس کی سزا ہمیشہ کے لئے دوزخ ہے، جو شخص کفر کی حالت میں دنیا سے چلا جائے، اس پر جنت کے دروازے بند ہیں اور ہمیشہ کے لئے آتشیں دوزخ کی آغوش اس کی رفیق رہے گی، کفر کے بعد ایک ہی عمل ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا، اس پر اللہ کا غضب ہوتا رہے گا اور اللہ کی لعنت برستی رہے گی، کتنا گھبرادینے اور تڑپا دینے والا ہے یہ ارشاد ربانی : ’’جو جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرے اس کا بدلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو اور اللہ نے اس کے لئے بھیانک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ‘‘ (سورہ النساء : ۹۳)
آج کل معمولی سی بات پر بھی لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن جاتے ہیں، ہمیں ایسے کسی بھی فعل سے بچنا چاہئے۔ تصویر: آئی این این
اسلام کی نگاہ میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک اور کفر ہے، اس کی سزا ہمیشہ کے لئے دوزخ ہے، جو شخص کفر کی حالت میں دنیا سے چلا جائے، اس پر جنت کے دروازے بند ہیں اور ہمیشہ کے لئے آتشیں دوزخ کی آغوش اس کی رفیق رہے گی، کفر کے بعد ایک ہی عمل ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا، اس پر اللہ کا غضب ہوتا رہے گا اور اللہ کی لعنت برستی رہے گی، کتنا گھبرادینے اور تڑپا دینے والا ہے یہ ارشاد ربانی :
’’جو جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرے اس کا بدلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو اور اللہ نے اس کے لئے بھیانک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ‘‘ (سورہ النساء : ۹۳)
حال ہی میں ہمارے شہر میں ایک مسلمان کا بے دردانہ قتل ہوا ہے اور حیرت کے کانوں سے سنئے ، کہ ایک کلمہ گو نے دوسرے کلمہ گو کو ناحق قتل کیا ہے، ایک مسلمان کی تشنہ تلوار نے ایک مسلمان ہی کے لہو سے اپنی پیاس بجھائی ہے، سستے داموں خدا کا غضب خرید کیا ہے، اپنے گلے کو لعنت ِخداوندی کے طوق سے آراستہ کیا ہے اور ابدی دوزخ حاصل کی ہے، اس بے حسی پر آنکھیں جس قدر آنسو بہائیں، دل جتنا بھی تڑپے اور روئے کم ہے، ہائے ! یہ اس اُمت کا حال ہے جس کو آخر آخر دم تک اس کے نبی ﷺنے مسلمان کے خون کی حرمت بتائی تھی اور ایک دوسرے کی جان و مال اور عزت وآبرو سے ہاتھ رنگنے کو منع فرمایا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:۳۰؍ہزار دینار کا حساب
آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ: اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو معاف فرمادیں گے، سوائے اس کے کہ کوئی شخص شرک کی حالت میں مرے یا کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کردے، (ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۴۲۷۰) حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا : جس نے کسی مومن کو قتل کیا اللہ تعالیٰ نہ اس کی کوئی فرض نماز قبول فرمائیں گے اور نہ نفل۔( ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۴۲۷۰) حضرت ابو سعید خدری ؓاور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ: اگر تمام اہل زمین اور اہل آسمان بھی ایک مسلمان کی موت میں شریک ہوں، تو اللہ ان سب کو جہنم میں اوندھے منہ ڈال دے گا۔ (ترمذی، حدیث نمبر : ۱۳۹۸)۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ مومن کے خون کی کیا حرمت اور عظمت ہے؟ اور کسی مسلمان کا جان لینا کیسی لعنت اور غضب ِالٰہی کو دعوت دینا ہے؟ اس لئے حضورؐ نے فرمایا کہ: مومن برابر دین کے معاملہ میں وسعت و گنجائش میں رہتا ہے، جب تک کہ کسی خون حرام کا مرتکب نہ ہو ۔ (بخاری ، حدیث نمبر : ۶۸۶۲)
جیسے قتل کرنا گناہ ہے، اسی طرح قتل میں تعاون بھی گناہ ہے؛ بلکہ اگر کسی شخص نے دوسرے کو قتل پر اکسایا ہو، یا دوسرے کو قتل پر استعمال کیا ہو، تو اس کا گناہ اصل قاتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ ایک بار آپؐ سے قاتل اور قتل کا حکم دینے والے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپؐ نے ارشاد فرمایا ، کہ جہنم کے ستر حصے کئے جائینگے جس میں انہتر (۶۹) حصہ قتل کا حکم دینے والے کے لئے ہوگا اور ایک حصہ خود اس قاتل کیلئے اور یہ ایک حصہ بھی اس کے لئے بہت کافی ہوگا۔ (مسند احمد، حدیث نمبر : ۲۲۵۵۷، عن مرثد بن عبد اللہ )
یہ بھی پڑھئے:فتاوے: رومن رسم الخط اور دعائیہ جملے، شرعی مسافر اور شک، فدیہ کے تعلق سےایک سوال
نہ صرف یہ کہ قتل پر اُکسانا اور اُبھارنا بہت بڑا گناہ ہے بلکہ مقتول کو بچانے کی کوشش نہ کرنا اور پہلو تہی سے کام لینا بھی انسان کو اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مستحق بنادیتا ہے؛ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جہاں کسی شخص کا ظلماً قتل ہو، وہاں تم کھڑے نہ ہو، وہاں موجود رہنے والوں پر بھی اللہ کی لعنت ہوتی ہے کہ انہوں نے اسے بچایا کیوں نہیں؟ اور جہاں کسی شخص کو ظلماً زد و کوب کیا جارہا ہو، وہاں بھی نہ ٹھہرو؛ کیوں کہ حاضرین پر بھی اللہ کی لعنت ہوگی کہ انہو ںنے مدافعت کیوں نہیں کی۔ (طبرانی فی الکبیر ، حدیث نمبر : ۱۱۶۷۵)
اصل یہ ہے کہ کسی شخص کو قتل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اس کی زندگی میں انسانی خون او ر انسانی زندگی کا احترام نہیںاور یہ بہت ہی خطرناک بات ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ایک نفس انسانی کا قتل پوری انسانیت کو قتل کرنے اور ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔( سورہ المائدۃ: ۳۲)
اس جرم کے شدید ہونے کی وجہ ظاہر ہے۔ زندگی اللہ کی امانت ہے، جان دینا اور جان لینا اللہ ہی کا حق ہے، قاتل گویا اللہ کا حق اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے، اس سے بڑھ کر تعدی اورکیا ہوگی؟ پھر خود مقتول کے ساتھ کتنی بڑی زیادتی ہے، قتل کی تکلیف کو جس سے بڑھ کر کسی اور تکلیف کا تصور نہیں کیا جاسکتا، پھر قاتل اسے ایسی نعمت سے محروم کرتا ہے، جس کی واپسی ممکن نہیں اور جس کا بدل ناقابل حصول ہے۔ یہ تو خود قاتل کا معاملہ ہے، پھر غور کیجئے کہ ہرانسان کے ساتھ کتنے ہی حقوق متعلق ہیں، معصوم بچوں اور بچیوں کی تربیت اس کے ذمہ تھی، جو ان بہنوں کی شادی کا وہی ذمہ دار تھا، بوڑھے ماں باپ کی کفالت اسی کے سر تھی، بیوی کا سہاگ اس کے دم سے قائم تھا، خاندان کی کتنی ہی آرزوئیں اور تمنائیں اس سے متعلق تھیں اور سماج کی کتنی ہی اُمیدیں اور توقعات اس سے وابستہ تھیں۔ بظاہر یہ ایک جان کا قتل ہے لیکن در حقیت وہ کتنی ہی تمناؤں، حسرتوں، اُمیدوں اور آرزوؤں کا قاتل ہے، اس نے ایک بے قصور عورت کو بیوہ کیا، معصوم بچوں کو یتیم اور بے سہارا بنایا، بوڑھے ماں باپ سے اس کا عصائے پیری چھینا اورچھوٹے بھائیوں اور بہنوں کی اُمیدوں کے محل کو خاکستر کر کے رکھ دیا ہے، اس لئے یقیناً اس نے ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک خاندان کا اور انسانیت کا قتل کیا ہے۔
اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انتقام کاقانون رکھا کہ یا تو خود قاتل کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے، (البقرۃ : ۱۷۸) اگر مقتول کے اولیا، رضامند ہو جائیں تو ان کو دیت ادا کی جائے، جو سو اونٹ یا اس کی قیمت ہے۔ احادیث میں اس کی تفصیل موجود ہے، مقصد اس دیت کا یہی ہے کہ ایک شخص کے قتل کی وجہ سے مقتول کے خاندان کو جو نقصان پہنچا ہے وقتی طور پر سہی، کچھ تو اس کی اشک شوئی ہو جائے اور ہنگامی مدد تو اسے حاصل ہو۔ یہ خون بہا اس وقت بھی واجب ہے، جب کسی شخص کو دھوکہ میں قتل کر دے، (النساء: ۹۲) اور اس غلطی کی صورت میں صرف دیت ہی کافی نہیں؛ بلکہ کفارہ بھی واجب ہے، کہ مسلسل دوماہ روزے رکھے جائیں، (النساء : ۹۲) اگر جان بوجھ کر قتل کیا ہو تو اس کے لئے کوئی کفارہ متعین نہیں کیا گیا، زندگی بھر توبہ و استغفار کرتا رہے ؛ کیوں کہ یہ اتنا بڑا جرم اور اتنا شدید گناہ ہے کہ کوئی عمل اس کا کفارہ بن نہیں سکتا۔
حضورؐ نے حجۃ الوداع کے موقع سے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ : آج کون سا دن ہے؟ یہ کون سا مہینہ ہے؟ اور یہ کون سی جگہ ہے؟ پھر فرمایا کہ یہ حرام مہینہ، حرام دن اور حرام سر زمین یعنی حدودِ حرم کا علاقہ ہے، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو اس سے بھی زیادہ قابل حرمت ہیں، (بخاری، حدیث نمبر : ۶) اگر اس پیغمبر رحمت کی اُمت بھی مسلمانوں کے؛ بلکہ انسانوں کے خون کی اہمیت و حرمت کو نہ سمجھ سکے اور اس کے ہاتھ بھی ایک دوسرے کے خون سے رنگین ہوں تو اس سے بڑھ کر بھی قابل افسوس، لائق حیرت اورتعجب انگیز کون سی بات ہوگی ؟