• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیپال سانحہ کو محض ایک قدرتی آفت سمجھ کر آگے بڑھ جانا بڑی غلطی ہوگی

Updated: September 11, 2026, 12:45 PM IST | Aamir Akhtar Momin | Bhiwandi

نیپال میں گزشتہ دنوںآنے والی تباہ کن طغیانی نے ایک مرتبہ پھر پوری دنیا کی توجہ ہمالیہ کی طرف مبذول کر دی ہے۔ 

Traces of the disaster caused by floods in Nepal still remain. Photo: PTI
نیپال میں سیلاب کی وجہ سے آنے والی آفت کے نشان اب تک موجود ہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی

نیپال میں گزشتہ دنوں آنے والی تباہ کن طغیانی نے ایک مرتبہ پھر پوری دنیا کی توجہ ہمالیہ کی طرف مبذول کر دی ہے۔  یہاں آج بھی امدادی اور تلاش کا کام جاری ہے، اور تباہی کی مکمل تصویر شاید آنے والے دنوں میں ہی ہمارے سامنے آ سکے گی۔لیکن اس سانحہ کو محض ایک قدرتی آفت سمجھ کر آگے بڑھ جانا ہماری سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ ہر قدرتی آفت صرف قدرت کا غضب نہیں ہوتی ،بعض اوقات وہ انسان کے اپنے اعمال کا آئینہ بھی  ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہم معاشی ترقی کے نام پر فطرت کی حدود سے کھیلتے رہیں گے؟ کب تک سیاحت، صنعت، سڑکوں، بجلی کے منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو ترقی کا واحد پیمانہ سمجھ کر پہاڑوں، دریاؤں، جنگلات اور گلیشیرز کے ساتھ بے احتیاطی کرتے رہیں گے؟انسان نے فطرت کو فتح کرنے کا خواب تو دیکھ لیا مگر شاید یہ بھول گیا کہ فطرت /قدرت کو فتح نہیں کیا جا سکتا بلکہ  اس کے ساتھ صرف توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:آٹھویں پے کمیشن میں تبدیلی کے بعد ۶۹؍ لاکھ پنشنرز تذبذب کا شکار

گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی اب کسی دور کے خطرے کا نام نہیں۔ پگھلتے ہوئے گلیشیر، بدلتے ہوئے موسم، غیر معمولی بارشیں، اچانک سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں بڑھتے ہوئے خطرات ہمیں مسلسل متنبہ کر رہے ہیں۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نیپال کی موجودہ تباہی کا واحد سبب انسانی سرگرمیاں  ہیں۔ اس مخصوص واقعے میں گلیشیائی اور پہاڑی عوامل نے بھی اہم کردار ادا کیا  لیکن وسیع تر موسمیاتی تبدیلی نے ہمالیائی خطے کے خطرات کو ضرور بڑھایا ہے۔اس سانحہ کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ ہمیں ترقی کی تعریف پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ ایسی ترقی جس میں انسان تو خوشحال ہو مگر پہاڑ غیر محفوظ ہوں، دریا آلودہ ہوں، جنگلات کاٹ دئیے جائیں اور گلیشیر خطرناک رفتار سے پگھلتے رہیں، آخر کس کام کی؟نیپال کے وزیر خارجہ شیشر کھنال نے اس سانحہ کے تناظر میں’’ موسمیاتی و ماحولیاتی انصاف‘‘ اور ’’معاوضہ‘‘کی بحث چھیڑدی ہے۔ انہوں نے ہندوستان، چین اور امریکہ جیسے بڑے گرین ہائوس خارج کرنے والے ممالک  کی تاریخی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی، تاہم بعد میں واضح بھی کیا کہ نیپال کی حکومت نے ان ممالک سے باضابطہ مالی معاوضہ طلب نہیں کیا بلکہ عالمی برادری سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو ایک مشترکہ عالمی مسئلے کے طور پر دیکھنے کی اپیل کی ہے۔یہ بحث اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس سے بھی زیادہ اہم یہ سوال ہے کہ ہم آئندہ کیا کریں گے؟

یہ بھی پڑھئے: لبنان: اسرائیلی حملوں سے ۲۲؍ فیصد قابل کاشت زمین متاثر

نیپال، ہندوستان، بھوٹان اور دیگر ہمالیائی ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ جاپان، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ،قدرتی آفت کی وقت سے پہلے وارننگ ،سیلاب کا انتباہ اور ایمر جنسی رسپانس کے میدان میں جو تجربات حاصل  کئے ہیں، ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ قدرتی آفات کو مکمل طور پر روک دینا شاید انسان کے اختیار میں نہ ہو، لیکن ان سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کو کم کرنا ضرور ہمارے اختیار میں ہے۔ہمیں ایسے نظام وضع کرنے ہوں گے جن کی مدد سے کسی خطرناک سیلاب یا گلیشیائی حادثے سے پہلے ہی لوگوں کو خبردار اور محتاط کیا جاسکے۔ پہاڑی علاقوں میں تعمیرات کیلئے سائنسی اصولوں کو لازمی بنانا ہوگا۔حساس علاقوں میں غیر ضروری تعمیرات سے گریز کرنا ہوگا اور بڑے ترقیاتی منصوبوں سے پہلے ماحولیات اور قدرتی خطرات کا حقیقی جائزہ لینا ہوگا۔جن لوگوں کی جانیں اس سانحہ میں چلی گئیں، وہ واپس نہیں آئیں گے۔ ان کے خاندانوں کا دکھ بھی کسی معاوضے سے مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر اس سانحہ سے ہم نے کچھ سیکھ لیا، اگر ہماری حکومتوں نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی، اگر ہم نے ترقی اور ماحول کے درمیان توازن قائم کرنا سیکھ لیا، تو شاید ان جانوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ انسان جتنا فطرت کو اپنے قابو میں کرنے کی کوشش کرے گا، فطرت کا ردعمل اتنا ہی شدید ہو گا۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم فطرت کو فتح کرنے کے بجائے اس کے ساتھ چلنا سیکھیں،کیونکہ سوال صرف یہ نہیں کہ ہم زمین سے کیا حاصل کر سکتے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کیلئے زمین کو کس حالت میں چھوڑ کر جائیں گے۔

(مضمون نگار نوجوان قلمکار ہیں اور ریختہ فاؤنڈیشن، بھیونڈی کے رُکن ہیں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK