اسرائیلی بستیوں کیساتھ تجارت پر پابندی کے برطانوی حکومت کےاعلان سے اسرائیل بوکھلا گیا۔
EPAPER
Updated: September 11, 2026, 1:22 PM IST | Agency | London
اسرائیلی بستیوں کیساتھ تجارت پر پابندی کے برطانوی حکومت کےاعلان سے اسرائیل بوکھلا گیا۔
برطانیہ اور اسرائیل کے مابین اختلافات اور کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے۔ یہ مسئلہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران تنقید سے آگے بڑھ کر اراکین پارلیمنٹ پر پابندی اور تجارت کو روکنے تک پہنچ گیا ہے۔ حال ہی میں برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارہ کے علاقوں میں موجود اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اور اب اسرائیل نے بھی برطانیہ کے خلاف کئی بڑے اقدامات کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:نتن یاہو ایک منٹ بھی اسرائیلی وزیراعظم رہنے کا اہل نہیں، استعفے کا مطالبہ
اسرائیل نے برطانیہ کے۱۱؍ اراکین پارلیمنٹ کو ملک میں آنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی۸؍ ستمبر کو مشرقی یروشلم میں موجود برطانوی قونصل خانہ کو بھی بند کر دیا ہے۔ اطلاع کے مطابق برطانیہ کے کچھ دیگر شہریوں پر بھی اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اس پورے مسئلے پر بیان جاری کیا ہے۔ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ذریعہ دیے گئے رد عمل سے کافی مایوس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے جو کیا ہے، اس پر مجھے فخر ہے اور وہ صحیح ہے لیکن اسرائیل کی پابندیاں مایوس کرنے والی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:OpenAI کے نیویئر اسٹوکس مسئلہ کے حل میں ہندوستانی سائنسدانوں کا حوالہ شامل
اس درمیان فرانس اور کناڈا کے لیڈران نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بھی ایسے ہی قدم اٹھائیں گے، تاکہ ویسٹ بینک میں بستیوں کی توسیع اور بڑھتے تشدد کی وجہ سے آگے چل کر فلسطینی ریاست کی تشکیل ناممکن نہ ہو جائے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل متحدہ عرب امارات سمیت۸؍مسلم ممالک نے بھی ایک مشترکہ بیان جاری کر کے اسرائیل کی مذمت کی تھی۔دوسری جانب اسرائیل کے وزیر خارجہ گیدون سار برطانیہ پر برہم ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کے فیصلے کی مذمت کی ہے، اور غزہ میں جنگ بندی پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے مرکز سے برطانیہ کے نمائندوں کو ہٹانے کی بات کہی ہے۔ اس کے علاوہ گیدون سار نے کہا کہ ویسٹ بینک میں فلسطینی اتھاریٹی کی سیکوریٹی فورسیز کو برطانیہ کے ذریعہ دی جا رہی تربیت کو بھی بند کر دیا جائے گا۔ وزیر خارجہ گیدون سار نے کہا کہ جن لوگوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے، وہ یہودی مخالف اور اسرائیل مخالف سرگرمیوں میں شامل ہیں۔