محکمہ ٹرانسپورٹ نے تمام ’ایگریگیٹر‘ کمپنیوں کو اپنے ڈرائیوروں کے دستاویز ۳؍ ماہ میں جمع کرانے کی ہدایت دی۔ مسافروں کے تحفظ اور ڈرائیوروں کو اسکیم کا فائدہ دینے کیلئے اس کارروائی کو ضروری بتایا گیا۔
EPAPER
Updated: September 11, 2026, 1:40 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
محکمہ ٹرانسپورٹ نے تمام ’ایگریگیٹر‘ کمپنیوں کو اپنے ڈرائیوروں کے دستاویز ۳؍ ماہ میں جمع کرانے کی ہدایت دی۔ مسافروں کے تحفظ اور ڈرائیوروں کو اسکیم کا فائدہ دینے کیلئے اس کارروائی کو ضروری بتایا گیا۔
وزارت ٹرانسپورٹ نے ایپ سے چلنے والی گاڑیوں کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ آئندہ ۳؍ مہینوں میں اپنے تمام ڈرائیوروں کے ڈومیسائل اور مراٹھی جاننے کے دستاویز جمع کرائیں۔ ان دونوں شرائط سے بہت سے ڈرائیوروں کو دقت پیش آسکتی ہے لیکن اس کے سبب انہیں سرکاری اسکیم سے فائدہ ملنے کا راستہ بھی کھل جائے گا۔
متذکرہ ہدایت وزیرٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک کی صدارت میں ان کے دفتر میں بدھ کو ہونے والی ایک میٹنگ میں دی گئی۔ یہ میٹنگ ’مہاراشٹر ایگریگیٹر پالیسی ۲۰۲۶ء‘ پر موثر طریقہ سے عملدرآمد کیلئے لی گئی تھی جس میں ٹرانسپورٹ کمشنر راجیش نارویکر، متعلقہ محکمہ کے افسران اور ایپ پر مبنی ٹیکسی سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں جیسے بھارت ٹیکسی، ریپیڈو، اوبر، اولا، شالینی کیب اور سٹی فلو کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ مختلف علاقوں کے ٹرانسپورٹ افسران نے بھی ویڈیو کانفرنسنگ سے اس میٹنگ میں شرکت کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:برطانیہ اور اسرائیل میں ٹھن گئی، یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند
میٹنگ میں بتایا گیا کہ اس طریقے سے ڈرائیونگ کے چھوٹے موٹے پیشے سے منسلک ان افراد کا رجسٹریشن ہوگا جس سے ایک طرف مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے گا اور دوسری طرف ان ڈرائیوروں کی معاشی امداد کیلئے تشکیل دی گئی اسکیم کے وہ اہل ہوجائیں گے۔
وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک کے مطابق مسافروں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے حادثات اور مجرمانہ واقعات سے بچنے کیلئے ڈرائیوروں کے دستاویز اور درخواستوں کی ضروری اور سختی سے تصدیق کی جائے گی۔ ڈرائیوروں کی شناخت، رہائش اور ضروری دستاویزات کی تصدیق کے بعد اہل ڈرائیوروں کو ’دھرم ویر آنند دیگھے صاحب مہاراشٹر آٹو رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور-مالک ویلفیئر بورڈ‘ کی رکنیت دی جائے گی۔ بورڈ کی رکنیت حاصل ہونے سے وہ سرکاری اسکیم کا فائدہ اٹھا سکیں گے اور ڈرائیور اور ان کے اہلِ خانہ مزدوروں کے لئے بنائے گئے ’لیبر ایکٹ‘ کے تحت ملنے والے تحفظات اور سہولیات کے بھی اہل ہوجائیں گے۔ ان ڈرائیوروں کو محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے ’بیجز‘ بھی دیئے جائیں گے۔
واضح رہے کہ وزارت ٹرانسپورٹ نے اولا، اوبر، ریپیڈو، بھارت ٹیکسی، سٹی فلو اور شالینی کیب کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم سے وابستہ تمام ڈرائیوروں کے مصدقہ پروفائل، رہائش کے ثبوت اور ڈومیسائیل سرٹیفکیٹ ۳؍ مہینوں میں جمع کرائیں۔
یہ بھی پڑھئے:ریاست کے۸۳؍ تعلقوں میں ۲۰؍ دن سے بارش غائب !
’ ایگریگیٹر پالیسی ۲۰۲۶ء‘ کے تحت مختلف شرائط عائد کی گئیں
وزارت ٹرانسپورٹ نے ’مہاراشٹر ایگریگیٹر پالیسی ۲۰۲۶ء‘ متعارف کرائی ہے جس کے تحت ایپ سے بکنگ کرکے چلائی جانے والی ٹیکسی اور رکشاء ڈرائیوروں اور کمپنیوں کیلئے متعدد شرائط عائد کی گئی ہیں جن میں ڈرائیوروں کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے ڈرائیوروں کو کُل کرایے کا کم از کم ۸۰؍ فیصد حصہ ملنے کو یقینی بنایا جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور مسافروں سے کمیشن کی غیر منصفانہ وصولی کو بھی روکا جائے گا۔ مسافر خدمات کی بنیاد پر ڈرائیوروں کی درجہ بندی کرسکیں گے اور ڈرائیوروں کے ساتھ مسافروں کیلئے بھی انشورنس کرایا جائے گا۔اس پالیسی کا مقصد ٹیکسیوں میں مسافروں خصوصاً خواتین کے تحفظ، کرایہ کی حد طے کرنا، حکومت کیلئے بھی آمدنی کے ذرائع پیدا کرنا اور مراٹھی مانس یعنی مقامی نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔