آزاد ہندوستان کی تاریخ کے کسی بھی دور میں مسلمانوں کو سکون کا سانس لینے کا موقع نہیں ملا۔ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں نے انہیں صرف ووٹ بینک سمجھا اور دھوکہ دیا۔ مگر اتنی ہی اہم دوسری حقیقت یہ ہے کہ خود مسلمان بھی اپنے حقیقی مسائل سے غافل رہے۔
EPAPER
Updated: April 23, 2022, 1:05 PM IST | Shahid Latif | Mumbai
آزاد ہندوستان کی تاریخ کے کسی بھی دور میں مسلمانوں کو سکون کا سانس لینے کا موقع نہیں ملا۔ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں نے انہیں صرف ووٹ بینک سمجھا اور دھوکہ دیا۔ مگر اتنی ہی اہم دوسری حقیقت یہ ہے کہ خود مسلمان بھی اپنے حقیقی مسائل سے غافل رہے۔
پھر کہنا چاہتا ہوں کہ مَیں ہندوستانی مسلمان ہوں اور اِن دنوں مبتلائے تشویش رہتا ہوں۔ وجہ ِ تشویش مَیں نے گزشتہ کالم میں بیان کی تھی اور اسے ’’شکوہ‘‘ نام دیا تھا۔ اب حاضر کررہا ہوں ’’جواب شکوہ‘‘۔ اقبال کی نظموں کے یہ نام مَیں نے سہولت کی خاطر مستعار لئے ورنہ اقبال کے شکوہ اور جواب شکوہ کا اس شکستہ تحریر سے کیا مقابلہ۔ کہاں اقبال اور کہاں یہ خاک پائے اقبال۔ خیر، میرے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ مَیں اپنے داخلی و خارجی حالات پر غور نہیں کرتا اور ان سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرتا۔ کرتا ہوں مگر کس سے کہوں۔ کہہ بھی دوں تو کیا ہوگا۔ یا تو سراسر قنوطیت کی باتیں ہوں گی یا اول تا آخر رجائیت کی۔ ٹھوس عملی کاموں پر گفتگو نہیں ہوگی۔ جب یہ دشواری ہو تو حکمت و تدبر کے ساتھ بادِ مخالف کا مقابلہ کیونکر ممکن ہے؟
مَیں کبھی اِس بات پر غور نہیں کرسکا کہ اپنی ذہانت اور صلاحیت کو کیسے منواؤں۔ منوانے کے جوطریقے ہوسکتے ہیں وہ مَیں نے اپنائے نہیں۔ تعلیم کو اہمیت نہیں دی اور بااثر بننے کا سودا کبھی میرے سر میں سمایا نہیں۔ جسٹس راجندر سچر کمیٹی کی رپورٹ نے کہا کہ اعلیٰ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی ۳۔۴؍ فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ یہی بات اعلیٰ صنعتوں اور مختلف شعبہ ہائے تجارت کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ اپنی اس بے بضاعتی کے سبب مَیں نہ تو پالیسی پر اثرانداز ہوسکا نہ ہی نفاذِ پالیسی پر۔ اپنی اس حالت کیلئے مَیں سیاسی جماعتوں اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کو قصوروار ٹھہراتا ہوں۔ یقیناً اُن کا قصور ہے مگر کس منہ سے کہوں کہ میرا قصور نہیں ہے؟ یاد آتا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں سے مَیں نے چند ایک باتیں منوائی بھی ہیں مگر کیا منوانا چاہئے تھا اور کیا نہیں اس کا فیصلہ مَیں کبھی نہ کرسکا۔ اب منوانے کا دور ہی ختم ہوگیا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ سب نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔ بلاشبہ دیا ہے مگر مجھے اپنے آپ سے بھی تو پوچھنا چاہئے کہ مَیں نے دھوکہ کھایا کیسے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں، بہت سی جائز وجوہات بھی ہیں مگر کچھ تو منوالیا ہوتا مَیں نے! اُف اتنا بھی نہیں ہوا مجھ سے!
مجھے اعتراف ہے کہ مَیں نے اپنی معاشی قوت پر محنت نہیں کی۔ میرے جن ہم مذہب لوگوں کی معاشی ساکھ مضبوط تھی انہوں نے دوسروں کی بامعنی دست گیری نہیں کی۔ خود مَیں نے، جہاں جہاں میرے کاروبار کی دھاک تھی، نہ تو وسعت ِ کاروبار کی فکر کی نہ ہی کاروباری تنوع (ڈائیورسی فکیشن)کی۔ ایسی شراکت پر بھی دھیان نہیں دیا جس سے میرے کاروباری خطرات کم ہوتے اور فسادات جیسے مصائب کی چنگاری مجھ تک نہ پہنچتی اور اگر پہنچتی بھی تو قریب آکر رُک جاتی، میرے اثاثے کو خاکستر نہ کرتی۔ مَیں نے بچپن میں سنا تھا کہ حکمت میری گمشدہ میراث ہے۔ مگر مَیں اس کا مفہوم ہی سمجھ نہ پایا اس لئے حکمت و دانش سے کوسوں دور رہا۔ فرقہ پرست کہتے ہیں مَیں ملک پر بوجھ ہوں۔ مَیں جانتا ہوں کہ بوجھ نہیں، اثاثہ ہوں مگر انہیں کیسے سمجھاؤں۔ سمجھانے پر آتا ہوں تو آباء و اجداد کی قربانیوں کا بکھان کرنے لگتا ہوں۔ بلاشبہ اُن کی قربانیاں میراسرمایہ ٔ افتخار ہیں مگر کچھ ایسا بھی ہے جسے مَیں اپنا ’’یوگ دان‘‘ قرار دے سکوں؟
اقبال نے جواب شکوہ ہی میں کہا تھا: ’’تھے تو آباء وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو؟=ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو؟‘‘ کتنی خدا لگتی بات کہی تھی۔ اب کس سے کہوں کہ جب محاسبہ کی بات آتی ہے تو مَیں بغلیں جھانکنے لگتا ہوں۔ اس شرط پر کہ آپ ، راز کو راز ہی رکھیں گے، دل کی بات بتاتا ہوں کہ مجھے ’’جواب شکوہ ‘‘ سے زیادہ ’’شکوہ‘‘ پسند ہے۔ اُس میں ’’بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے‘‘ جیسے مصرعوں پر تو مَیں جھوم جھوم جاتا ہوں اور پکارنا چاہتا ہوں کہ ہے کوئی؟ یا نئے دور کا کوئی شاعر کہتا ہے کہ ’’تمہارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں‘‘ تو مجھے بڑے فخر کا احساس ہوتا ہے۔ میں دل کھول کر داد دیتا ہوں مگر یہ نہیں سوچتا کہ جب تاج میرے ہیں (اور یقیناً میرے ہیں) تو عجائب گھروں میں کیوں ہیں؟
ویسے وہ تاج مل جائیںاور مَیں سر پر رکھ لوں تب بھی مجھے کوئی بادشاہ تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ اس دَور کاتاج سائنس ہے، تکنالوجی ہے۔ مجھے کسی نے نہیں روکا تھا اس دشت کی سیاحی سے مگر نجانے کیوں طبیعت آمادہ نہیں ہوئی۔ سائنس و تکنالوجی نے نئے آئیڈیاز کی اہمیت بڑھادی ہے۔ اس دور میں بادشاہ وہی ہے جس کے پاس آئیڈیاز ہوں۔ آئیڈیاز حکومتیں بدل دیتے ہیں۔پرانے بادشاہوں کو بے دخل کرکے نئے بادشاہ لے آتے ہیں۔ نئے دور نے آئیڈیاز کو معاشی مفادات سے جوڑ دیا ہے مگر مَیں نے اس پر بھی کبھی غور نہیں کیا۔ مجھے پتہ ہی نہیں کہ قومی جی ڈی پی میں میرا کتنا حصہ ہے۔ سرکاری اعدادوشمار سے مدد نہیں مل سکتی کیونکہ وہ الگ الگ معاشی شعبوں کی کارکردگی کے عکاس ہوتے ہیں، مذہبی بنیاد پر تیار نہیں کئے جاتے، تاہم کوشش کرتا تو کچھ اندازہ مل جاتا۔ مَیں نے کوشش ہی نہیں کی۔ کبھی ایسا کچھ سوجھا بھی نہیں۔
حکومت نے تین طلاق بل لانے کا فیصلہ کیا تو مَیں احتجاج کرتا رہ گیا۔ میرے پاس کوئی ایسی دستاویز نہیں تھی، سرکاری یا غیر سرکاری، جسے دلیل کے طور پر پیش کرتا کہ جتنا ہو ّا کھڑا کیا جارہا ہے، اتنا بڑا مسئلہ ہے نہیں۔ عجیب بات تھی کہ جس مسئلہ سے مَیں پریشان نہیں تھا اس سے حکومت اس قدر پریشان ہوئی کہ قانون بنادیا!
باتیں اتنی ہیں کہ ایک دو کالم کافی نہیں، اس لئے آئندہ بھی اس موضوع پر گفتگو جاری رہے گی، چلتے چلتے یہ درد بھی بیان کردینا چاہتا ہوں کہ مجھے اپنے ہموطنوں میں اپنی ساکھ بنانے کیلئے خدمت کے چند میدانوں کا انتخاب کرنا چاہئے تھا۔ برادران وطن میں جہیز کا مسئلہ ہے۔ شراب نوشی کا مسئلہ ہے۔ مَیں ان سماجی مسائل کے خلاف وسیع تر مہم چلا کر اپنے پریشاں حال ہموطنوں کی مدد کرسکتا تھا، اُن کا اعتماد جیت سکتا تھا لیکن یہ بھی مجھ سے نہ ہوا کیونکہ مَیں اپنے آپ میں اُلجھا رہا۔ میرے پاس اپنی غربت کا علاج ہے مگر نہ تو زکوٰۃ کے نتیجہ خیز صَرف کا خاکہ میرے ذہن میں ہے نہ ہی وقف املاک کی بازیابی اور اُن کے صحیح استعمال کا منصوبہ مَیں نے تیار کیا۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ مَیں کب اپنی فکر کروں گا، کب اپنا فرض منصبی ادا کروں گا؟ میں تو کل بھی کف افسوس مَل رہا تھا، آج بھی وہی کررہا ہوں! n