حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں: ’’میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (سوار) تھا۔ آپؐ نے مجھے فرمایا: اے غلام (بچے)میں تجھے چند مفید باتیں سکھلاتا ہوں (تم انہیں اچھی طرح سیکھ لو)۔ اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کریں گے۔
بچوں کی تربیت ماں باپ کی ذمہ داری ہے اوربچپن سیکھنے کا زمانہ ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں: ’’میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (سوار) تھا۔ آپؐ نے مجھے فرمایا: اے غلام (بچے)میں تجھے چند مفید باتیں سکھلاتا ہوں (تم انہیں اچھی طرح سیکھ لو)۔ اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی حفاظت کرو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے(کوئی تمہارا نقصان نہ کرسکے گا)۔ جب کچھ مانگو تو اللہ سے مانگو،جب مدد مانگو تواللہ سے مدد مانگو۔ اس بات کو جان لو کہ تمام انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ تمہیں نفع دینے کے لئے جمع ہو جائے، تو وہ تمہیں اسی قدر نفع دے سکے گا جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے ( یعنی یہ نفع ان کا دیا ہوا نہیں، اللہ کا دیا ہوا ہے)۔ اس بات کو جان لو کہ اگر انسانوں کا کوئی گروہ یا تمام انسان تمہیں نقصان پہچانے پر مجتمع ہوجائیں تو یہ تمہیںکچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے مگر اسی قدر جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے (یعنی یہ نقصان انہوں نے نہیں پہنچایا، بلکہ اللہ کی طرف سے پہنچاہے۔ فرما ن کا مقصد یہ ہے کہ دوسروں سے نفع کی امید اور نقصان کے ڈر سے اللہ تعالیٰ کے دین اور احکامات کو نظرانداز نہ کرو)۔ ‘‘ (ترمذی)
مسند احمد میں یہ اضافہ بھی ہے:’’آسودہ حالی میں اللہ سے تعلق پیدا کرو، مشکل حالت میں وہ تم سے تعلق رکھے گا۔ جان لو اس بات کو،جو آفت تم سے ٹل گئی وہ تمہیں پہنچنے والی نہ تھی،جو تمہیں پہنچ گئی وہ تم سے ٹلنے والی نہ تھی ۔ جان لو کہ مدد صبر کے ساتھ ہے اور بے چینی کے ساتھ اس کا چھٹ جانا (خاتمہ) طے ہے۔ تنگی کے ساتھ آسانی بھی ہے۔‘‘(اربعین نووی)
حضرت عبد اللہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرماتھے،کہ میری والدہ نے مجھے یہ کہہ کر بلایا: ’’ادھر آئو میں تمہیں چیز دیتی ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:سیرتِ نبویؐ اسلامی علوم کے کسی ایک گوشے تک محدود نہیں
یہ سن کر آپؐ نے میری والدہ سے فرمایا: ’’تم نے اسے کیا چیز دینے کا ارادہ کیا تھا؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’کھجورکا دانہ۔‘‘
آپؐ نے فرمایا: ’’سنو! اگر تم اسے کوئی چیزنہ دیتیں تو تمہارے کھاتے میں جھوٹ لکھا جاتا۔ (ابوداؤد،احمد)
بچوں کی تربیت ماں باپ کی ذمہ داری ہے اوربچپن سیکھنے کا زمانہ ہوتا ہے۔اس عمر میں بچہ جو کچھ سیکھتا ہے، جس سے سیکھتا ہے،وہ ماں باپ ہیں۔ماں باپ کی جانب سے اسے اسلامی عقیدہ، اسلامی اخلاق، اسلامی آداب، اسلامی احکام کا ایسا درس ملنا چاہئے جو اسے دین کے رنگ میں رنگ دے۔اللہ کے پیارے نبی، پیغمبر آخر الزماں ؐ نے بچوں کی تربیت کے لئے بہترین نمونہ پیش کیا۔ بچوں کو درس دیا کہ جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ اللہ کی کبریائی، اس کے احکام اور اس کے دین کی حفاظت ہے۔ ساری دنیا مخالفت کرے تب بھی اس کے دین پر ڈٹ جاؤ۔ ساری دنیا مل کر تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گی۔آسودہ حالی میں اللہ کو نہ بھول جاؤ،عافیت اور آسودگی تمہیں غفلت میں مبتلا نہ کردے اس لئے ہمہ وقت خبردار رہو۔
یہ بھی پڑھئے: صغیرہ گناہوں سے بچئے جوکبیرہ گناہوں تک پہنچا دیتے ہیں!
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بچے تھے۔ آپؓ نے اپنی بے پناہ مصروفیات میں انہیں نظرانداز نہیں کیا،بلکہ انہیں ایسی ہدایات دیں جو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کیلئے نسخۂ کیمیا ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عامرؓ کی والدہ کے ذریعے ماں باپ کو تعلیم دی کہ ’اولاد‘ کو جھوٹا لالچ نہ دو، اس سے ان کی سیرت جھوٹ پر استوار ہوگی۔بچوں کی تربیت کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے یہ بطور نمونہ چند جھلکیاں ہیں۔
آج گھروں کو اسلامی اخلاق وآداب اور تہذیب و ثقافت میںرنگنے،اہل خانہ اوربچوں، بچیوں کو دینی تربیت دینے سے عموماً غفلت برتی جاتی ہے۔ توجہ صرف اس پر ہوتی ہے کہ انہیں دنیا کمانے کے قابل بنادیا جائے چنانچہ ان کی اعلیٰ عصری تعلیم کی فکر ہوتی ہے۔ جبکہ درحقیقت اس بات کی ضرورت ہے کہ گھر میں دین کی تعلیم و تربیت دی جائے۔ عقیدہ، اخلاق، آداب اور احکام پر مشتمل ایک ’نصاب‘ ہر گھر میں رائج ہو۔ نئی نسل میں کردار اور کریئر کے ساتھ اُمت ِ مسلمہ کے منصب کے حوالے سے بھی فرائض کا شعور بیدار کیا جائے۔ جہاںاس کی کوشش کی جاتی ہے، معاشرے کا مجموعی ماحول بلکہ مخالفانہ رویہ ان کے کام کو بہت مشکل بنا دیتا ہے، اسلئے مجموعی ماحول کو درست کرنے کی منظم کوشش بھی ہر مسلمان مرد وعورت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔