• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

صغیرہ گناہوں سے بچئے جوکبیرہ گناہوں تک پہنچا دیتے ہیں!

Updated: September 23, 2026, 3:49 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

خبردار! شیطان کا طریقہ یہ ہے: پہلے گناہ کو چھوٹا دکھاؤ، اسے معمول بناؤ، پھر دل کی حساسیت ختم کرو، اور انسان کو وہاں پہنچادو جہاں بڑے گناہ پر بھی ضمیر ملامت نہ کرے۔

One should exercise caution while scrolling through social media, as curiosity can lead a person to the threshold of sin. Photo: INN
سوشل میڈیا پر اسکرول کرتے ہوئے احتیاط کرنا چاہئے کیونکہ تجسس میں انسان گناہوں کے دروازے تک پہنچ جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این

یہ عجیب بات ہے کہ حضرتِ انسان کو گناہ کی قباحت کا علم بھی ہے، اسے معلوم بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی انسان کے لئے دنیا و آخرت میں نقصان کا سبب بنتی ہے، اس کے باوجود بعض گناہوں کا ارتکاب وہ یہ سوچ کر کر لیتا ہے کہ یہ تو بہت چھوٹا گناہ ہے، اس سے کیا فرق پڑے گا! کبھی ایک جھوٹ کو معمولی سمجھا، کبھی کسی کی غیبت کو چند لمحوں کی گفتگو قرار دیا، کبھی نگاہ کی بے احتیاطی کو کوئی اہمیت نہ دی، کبھی کسی کا حق مار کر دل کو یہ کہہ کر مطمئن کرلیا کہ معاملہ بہت معمولی تھا۔ درحقیقت یہ طرزِ عمل گناہ سے زیادہ خطرناک ایک اور بیماری کی نشاندہی کرتا ہے، اور وہ ہے گناہ کو معمولی سمجھنا۔ شیطان ہمیشہ انسان کو ایک ہی جست میں بڑے گناہ کی طرف نہیں لے جاتا؛ وہ پہلے چھوٹے دروازے کھولتا ہے، پھر انسان کو انہی راستوں پر چلنے کا عادی بناتا ہے۔ یاد رکھیے! جس دل میں اللہ کی عظمت زندہ ہو، وہاں گناہ چھوٹا نہیں رہتا؛ کیونکہ گناہ کی اصل قباحت اس کے حجم میں نہیں، ذاتِ باری تعالیٰ کی نافرمانی میں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قرآن نے واضح کیا ہے کہ قوموں کا عروج و زوال، فرد کی زندگی سے مختلف ہوتا ہے

گناہ چھوٹا ہو یا بڑا، انسان کو اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے سامنے دینا ہوگا۔ قرآنِ کریم انسان کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ’’جو شخص ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔‘‘ (سورۃ الزلزال: ۷۔۸)  نبیؐ کریم  نے بھی معمولی سمجھے جانے والے گناہوں سے خبردار فرمایا:’’چھوٹے سمجھے جانے والے گناہوں سے بچو۔‘‘ (سنن الدارمی)  قیامت کے دن سوال صرف بڑے جرائم کا نہیں ہوگا؛ زندگی کے وہ چھوٹے چھوٹے اعمال بھی سامنے ہوں گے جنہیں ہم نے دنیا میں شاید قابلِ ذکر ہی نہیں سمجھا تھا۔
شریعت ِ اسلامیہ میں گناہوں کو صغیرہ  یعنی چھوٹے اور کبیرہ یعنی بڑے گناہوں میں تقسیم کیا گیا ہے، لیکن اس تقسیم کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان چھوٹے گناہ کرنے کے لئے آزاد ہے اور صرف بڑے گناہوں سے بچنا ضروری ہے۔ یہ تقسیم دراصل گناہوں کی نوعیت، شدت اور شرعی حیثیت کو بیان کرنے کے لئے ہے، نہ کہ چھوٹے گناہوں کو جائز یا بے ضرر قرار دینے کے لئے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو ہم تمہاری چھوٹی برائیوں کو تم سے دور کردیں گے۔‘‘ (سورۃ النساء:۳۱) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صغیرہ گناہ بھی بہرحال سیئات یعنی برائیاں ہیں۔ لہٰذا مسلمان کا رویہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ’’یہ تو صغیرہ گناہ ہے، کرلینے میں کیا حرج ہے؟‘‘ بلکہ اس کا احساس یہ ہونا چاہئے کہ’’یہ بھی اللہ کی نافرمانی ہے، مجھے اس سے بھی بچنا ہے۔‘‘ گناہوں کے درجات کا علم ہمیں ان کی شدت سمجھنے کے لئے دیا گیا ہے، گناہ کرنے کا حوصلہ دینے کے لئے نہیں۔
یاد رکھیں! انسان کا دل اچانک نہیں بدلتا؛ وہ آہستہ آہستہ بے حس ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص نے نگاہ کی حفاظت میں معمولی سی بے احتیاطی کی، پھر وہی منظر دوبارہ دیکھا، پھر اس کی طرف لوٹنا معمول بن گیا، پھر اس نے جان بوجھ کر ایسی چیزیں تلاش کرنا شروع کردیں جن سے پہلے وہ بچتا تھا۔ ابتداء میں جس چیز پر دل میں شرمندگی ہوتی تھی، کچھ عرصے بعد وہی چیز اسے معمولی محسوس ہونے لگی۔ اسی طرح ایک معمولی جھوٹ پہلے دل کو کھٹکتا ہے، پھر ضرورت کے نام پر دہرایا جاتا ہے، پھر عادت بن جاتا ہے، اور آخرکار سچ بولنا مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی شیطان کا طریقۂ واردات ہے: پہلے گناہ کو چھوٹا دکھاؤ، پھر اسے معمول بناؤ، پھر دل کی حساسیت ختم کرو، اور آخرکار انسان کو وہاں پہنچادو جہاں وہ بڑے گناہ پر بھی ضمیر کی ملامت محسوس نہ کرے۔ اس لئے دانا وہ نہیں جو صرف بڑے گناہوں سے بچے بلکہ دانا وہ ہے جو اس راستے کے پہلے قدم ہی کو روک دے۔

یہ بھی پڑھئے: انسان خود اپنا دشمن کب بن جاتا ہے؟

آج کے زمانے میں ان گناہوں کی خطرناکی کو سمجھنا اور بھی ضروری ہوگیا ہے جو بعض اوقات غیر محسوس طریقے سے ہماری زندگی میں داخل ہوجاتے ہیں۔ سوشل میڈیا اسکرول کرتے ہوئے مختلف قسم کے اشتہارات اور جاذبِ نظر مواد صارف کی توجہ حاصل کرتے ہیں؛ ایک کلک کے بعد مزید اسی نوعیت کا مواد سامنے آتا ہے اور یوں انسان ایک چیز سے دوسری اور دوسری سے تیسری طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں الگورتھمز صارف کی دلچسپی، تلاش اور کلک جیسے اشاروں کو استعمال کرکے اس کے سامنے ملتے جلتے مواد کی سفارش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا مواد جس پر انسان نے صرف تجسس سے کلک کیا تھا، بعد میں اسی نوعیت کے متعدد مواد کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ یہاں اصل خطرہ ایک کلک نہیں، بلکہ دل کی سمت کا بدل جانا ہے۔ ایک بے احتیاط نگاہ، ایک غیر ضروری کلک، ایک نامناسب ویڈیو، ایک فحش تصویر، ایک لغو گفتگو،یہ سب بظاہر چند سیکنڈ کا ہے مگر انسان نے اپنے نفس کو اگر ان کا عادی بنا لیا تو یہی چند سیکنڈ اسکے وقت، نگاہ، فکر اور قلبی پاکیزگی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ 
یہ چھوٹے گناہ، جنہیں ہم ہلکا سمجھ لیتے  ہیں، اکثر گناہِ بے لذت بن جاتے ہیں؛ یعنی ایسے گناہ جن سے نہ سکون ملتا ہے،  نہ کوئی فائدہ، مگر انسان پھر بھی انہیں دہراتا ہے۔ وقتی  لذت یا تجسس ختم ہوتے ہی دل میں خالی پن، ندامت اور بے چینی بھر جاتی ہے۔ اس سے بڑھ کر نقصان یہ کہ گناہ آہستہ آہستہ انسان کو عبادت کی لذت سے محروم کرنے لگتے ہیں۔ نماز اور تلاوت میں دل نہیں لگتا،  دعا میں آنکھ نہیں بھیگتی، ذکر میں دل نہیں ٹھہرتا۔ انسان سمجھتا ہے کہ شاید اس کی روحانی کیفیت خود بخود کمزور ہوگئی ہے، حالانکہ بعض اوقات اس کے پیچھے وہی صغیرہ گناہ ہوتے ہیں جنہیں وہ کبھی گناہ سمجھ کر سنجیدہ نہیں ہوا تھا۔ دل کو گناہ کی تاریکی گھیر لے تو عبادت کا نور مدھم پڑنے لگتا ہے۔ اسی لئے گناہ سے بچنا صرف عذاب سے بچنے کا نام نہیں؛ یہ دل کی زندگی، روح کی پاکیزگی اور عبادت کی مٹھاس کو محفوظ رکھنے کا نام بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ایسے تھے وہ اساتذۂ کرام اور طلباء!

گناہوں سے بچنے کیلئے چند تدابیر

 تنہائی میں بھی وہی تقویٰ اختیار کریں جو لوگوں کے سامنے کرتے ہیں۔

 اپنے موبائل اور سوشل میڈیا کے استعمال میں واضح حدود مقرر کریں؛ مشتبہ اور نامناسب اکاؤنٹس، صفحات اور مواد سے فوراً دور ہوجائیں اور ایسی چیز کو دوبارہ نہ دیکھیں جس نے دل میں گناہ کا دروازہ کھولا ہو۔ 

 نگاہ کی حفاظت کریں، کیونکہ بہت سے گناہ نگاہ سے شروع ہوتے ہیں۔

 زبان کی حفاظت کریں؛ غیبت، جھوٹ، طعنہ، تمسخر اور بے مقصد گفتگو سے بچنے کی عادت ڈالیں۔ 

 روزانہ کچھ وقت محاسبۂ نفس کے لئے مخصوص کریں اور اپنے آپ سے پوچھیں: آج میں نے کون سا ایسا کام کیا جس سے اللہ ناراض ہوسکتا ہے؟ 

 اگر کوئی گناہ ہوجائے تو اسے معمولی سمجھ کر چھوڑ نہ دیں، بلکہ فوراً توبہ، استغفار اور اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔ 

نیک صحبت اختیار کریں۔ ماحول انسان کے ارادے کو مضبوط بھی کرتا ہے اور کمزور بھی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ گناہ سے بچنے کے ساتھ نیکی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ خالی دل کو شیطان دوبارہ اپنی راہ پر لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK