’’خدا کی قسم ان اشرفیوں کا اس سے بہتر استعمال اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ تم نے ان اشرفیوں کو ٹھکانے لگا کر میرے بیٹے کو ایک ایسے خزانے کا مالک بنا دیا جس پر کبھی زوال نہیں آسکتا۔‘‘
EPAPER
Updated: October 09, 2026, 3:54 PM IST | Maulana Ismatullah Nizamani | Mumbai
’’خدا کی قسم ان اشرفیوں کا اس سے بہتر استعمال اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ تم نے ان اشرفیوں کو ٹھکانے لگا کر میرے بیٹے کو ایک ایسے خزانے کا مالک بنا دیا جس پر کبھی زوال نہیں آسکتا۔‘‘
حضرت ربیعۃ الرائے رحمۃ اللہ علیہ ایک بلند پایہ فقیہ اور مشہور محدث گزرے ہیں۔ وہ ابھی شکم ِ مادر میں تھے کہ ان کے والد عبد الرحمٰن فروخ التيمی المدنی کو جہاد کی غرض سے مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہوکر خراسان جانا پڑا۔ روانگی سے قبل انہوں نے اپنی بیوی کو تیس ہزار دینار دیئے تھے، تاکہ بہ وقت ِ ضرورت کام آئیں، لیکن پھر ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ ستائیس سال بعد اپنے گھر واپس لوٹے۔ اس دوران والدہ نے تنہا ہی حضرت ربیعۃ الرائےؒ کی عمدہ تربیت کی، انہیں تعلیم دلائی، جس کے نتیجہ میں وہ اپنے زمانے کے بڑے محدث اور فقیہ بن گئے۔
امام ربیعہ الرائےؒ کا یہ معمول تھا کہ روزانہ مسجد نبویؐ میں بیٹھ کر لوگوں کو باقاعدگی سے درس دیتے تھے اور طلبہ دُور دُور سے آکر اُن کے حلقہ ٔ درس میں شریک ہوتے تھے۔ ستائیس برس کے بعد فروخ کو جہاد سے فرصت ملی تو انہوں نے سیدھا وطن کا رخ کیا…ستائیس برس کے بعد اسے مدینہ میں کوئی پہچانتا نہ تھا۔ بیٹے نے باپ کو دیکھا بھی نہ تھا اس لئے انہیں گھر میں لینے پر بھی تردد تھا۔ انہوں نے اپنا تعارف کروایا جس پر اُن کی بیوی نے کواڑوں کے پیچھے سے جھانکا تو فوراً اپنے شوہر کو پہچان گئیں اور اُنہیں اندر بُلا لیا۔ پھر بیٹے کو بتایا کہ یہ تمہارے والد ہیں۔ ساتھ ہی فروخ سے کہا کہ یہ نوجوان آپ کا فرزند ہے جو آپ کے جانے کے چند ماہ بعد پیدا ہوا تھا۔ اب دونوں باپ بیٹا گلے مل کر خوب روئے۔ کھانا کھانے اور آرام کرنے کے بعد فروخ نے بیوی سے اپنی بچائی ہو ئی رقم (تیس ہزار دینار) کے بارے میں پوچھا۔ بیوی نے کہا آپ اطمینان رکھئے ساری رقم محفوظ ہے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا۔ امام ربیعہ اذان سنتے ہی مسجد نبوی چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد بیوی نے کہا کہ آپ بھی مسجد نبوی میں جاکر نماز پڑھ آیئے۔
یہ بھی پڑھئے:فتاوے: رومن رسم الخط اور دعائیہ جملے، شرعی مسافر اور شک، فدیہ کے تعلق سےایک سوال
مسجد میں نماز کے بعدانہوں نے دیکھا کہ لوگوں کے درمیان ایک صاحب بڑی شان اور وقار کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ تمام لوگ بڑے ادب اور احترام سے سر جھکائے ہوئے ہیں اور وہ صاحب ان کے سامنے درس دے رہے ہیں۔ چونکہ انہوں نے سر پراونچی ٹوپی پہن رکھی تھی اس لئے فروخ انہیں دور سے پہچان نہیں سکے۔ کسی سے پوچھا یہ بزرگ کون ہیں؟ اس نے حیران ہو کر کہا :’’ آپ ان کو نہیں پہچانتے؟ یہ امام ربیعہ الرائے ہیں۔‘‘
فروخ کو یہ سن کر اس قدر مسرت ہوئی کہ ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے اور بےاختیار ان کے منہ سے نکلا’’اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے میرے بیٹے کا درجہ اتنا بلند کیا۔‘‘ اتنے عمدہ اور قیمتی تاثر کے ساتھ وہ گھر آئے اور بیوی کو بتایا کہ مَیں نے اپنے بیٹے کی جو عزت اور شان دیکھی ہے اس سے پہلے کسی بڑے سے بڑے آدمی کی نہیں دیکھی تھی۔ بیوی نے بھی دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا اور کہا: ’’ اب بتائیے، آپ کو بیٹے کی یہ عظمت و شان پسند ہے یا تیس ہزار دینار؟‘‘ فروخ نے جواب دیا: ’’خدا کی قسم تیس ہزار اشرفیاں اس مرتبے اور شان کے سامنے کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔‘‘ بیوی نے کہا :’’تو پھر سن لیں کہ مَیں نے یہ تمام رقم اس کی تعلیم پر خرچ کر دی۔‘‘ فروخ نےبے ساختہ جواب دیا : ’’خدا کی قسم ان اشرفیوں کا اس سے بہتر استعمال اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ تم نے ان اشرفیوں کے صحیح استعمال سے میرے بیٹے کو ایک ایسے خزانے کا مالک بنا دیا جس پر کبھی زوال نہیں آسکتا۔‘‘