شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)رومن رسم الخط اور دعائیہ جملے (۲) شرعی مسافر اور شک (۳) فدیہ کے تعلق سے ایک سوال۔
EPAPER
Updated: October 09, 2026, 3:38 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)رومن رسم الخط اور دعائیہ جملے (۲) شرعی مسافر اور شک (۳) فدیہ کے تعلق سے ایک سوال۔
رومن رسم الخط اور دعائیہ جملے
سوشل میڈیا کا دور دورہ ہے،اور اس پر المیہ یہ کہ اردو جاننے کے باوجود متعدد افراد سلام ودعا کیلئے رومن انگلش کا استعمال کرتے ہیں مثلاً Assalamualaikum ، Inshaallah, Mashaallah ، Subhanallah,Alhamdulillah، Jazakallah سوال یہ ہے کہ عربی متن کو رومن میں اس طرح جڑا کر لکھنے میں کہیں اس کی حرمت پامال تو نہیں ہوتی یا اس کے ثواب میں کسی طرح کی کمی بیشی تو نہ ہوگی؟ محمد جاوید مولا، پونہ
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: یہ رسم الخط کا معاملہ ہے۔ ہر زبان کا رسم الخط اس کی شناخت اور بعض امتیازی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے جیسے عربی اور فارسی وغیرہ میں ز،ذ،ظ وغیرہ ان کی آوازوں اور دیگر خصوصیات کو دوسری زبانوں کے رسم الخط سے ظاہر نہیں کیا جاسکتا ۔ رومن انگلش زبان کا رسم الخط ہے جبکہ یورپ کی دوسری زبانوں کا بھی یہی رسم الخط ہو یہ ضروری نہیں۔ اردو رومن اور عربی رومن کا بھی کوئی وجود نہیں۔ لوگ انٹر نیٹ فون اور کمپیوٹر وغیرہ پر اپنے طور سے لکھتے پڑھتے نظر آتے ہیں۔ در اصل اس کی ابتدا ترکی سے ہوئی تھی جب کمال اتاترک نے عربی رسم الخط پر پابندی لگاکر ترکی رسم الخط مسلط کردیا تھا، بعد میں اس کے علمی نقصانات بھی سامنے آئے ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اردو رومن کوئی مستقل رسم الخط نہیں ہے۔ جو لوگ اردو سے بخوبی واقفیت نہیں رکھتے وہ اپنی سہولت کی غرض سے رومن الفاظ میں مافی الضمیر ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کا کوئی مستقل اصول بھی نہیں اور رومن میں اردو عربی کی صحیح ترجمانی بھی دشوار ہے ۔اس صورت حال میں تقدس یا عدم تقدس کا سوال بھی بے محل ہے مگر یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ رومن میں اردو عربی کا لکھنا حرام اور ممنوع ہےلیکن بجائے اصل رسم الخط کے کسی دوسرے رسم الخط کو اپنالینا زبان کو فنا کے گھاٹ تک پہنچانے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
شرعی مسافر اور شک
اگر کسی شخص کو یہ پختہ یقین نہیں ہے کہ وہ شرعی مسافر ہوا ہے یا نہیں تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ وہ قصر کرے گا یا نہیں؟ مجاہد الاسلام ،کلکتہ
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: احناف کا مفتی بہ قول یہ ہے کہ مسافر کیلئے قصر ضروری ہے (جبکہ شوافع کے نزدیک اختیاری ہے) قصر کی مسافت اکثر علماء کے مطابق ۷۲/۷۳؍کیلو میٹر ہوتی ہے۔ مسافر اپنے شہر کی آبادی سے باہر آکر اتنی مسافت کے سفر کا قصد کرے تو اس پر چار رکعت والی نمازوں میں قصر واجب ہے، تنہا نماز پڑھے یا کسی مسافر کی اقتداء کرے دونوں صورتوں میں قصر ہی کرےگا لیکن مقامی امام کی اقتدا کی صورت میں پوری نماز پڑھنی ہوگی۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر مسافر نے قصر نہ کرکے پوری نماز ادا کرلی تو اگر دو رکعت پر قعدہ کیا ہو تو بعد میں سجدۂ سہو کرکے نماز مکمل کرلینا کا فی ہوگا، مسافت کا پتہ نہیں تو اپنی بستی سے منزل تک کی مسافت معلوم کرنے کی کوشش کرے اور ۷۲؍کیلومیٹر ہونے پر قصر پر عمل کرتا رہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مقامی امام کی اقتداء کرتا رہے جبکہ آخری صورت یہ ہے کہ اشتباہ باقی رہے تو چار رکعت والی نمازوں میں دوپر قعدہ کرکے اٹھ جائے پھر آخر میں سجدہ سہو کرکے نماز پوری کرلے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے:میاں بیوی کی زندگی میں پرائیویسی اور پردہ پوشی رہنی چاہئے
فدیہ کے تعلق سے ایک سوال
اگر کوئی آدمی فوت ہو جاتا ہے اور اس کی نمازیں رہ جاتی ہیں تو ان کا جو فدیہ دیا جاتا ہے یہ کہاں سے ثابت ہے؟ عابد علی، جلگاؤں
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: شیخ فانی جو روزہ رکھنے سے عاجز ہو شریعت نے اس کے لئے ہر روزے کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے بقدر مقرر کیا ہے اور یہ نص قطعی سے ثابت ہے فقہاء احناف کے مطابق اگر کوئی بندہ آخر عمر تک چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا نہیں کرسکا اس لئے اس نے فدیہ کی وصیت کی تو ایک دن کی نمازوں کے چھ فدیوں کے حساب سے ایک تہائی ترکہ سے ا س کی وصیت پوری کی جائیگی۔ تہائی ناکافی ہو تو وارثوں پر اپنے مال سے فدیہ کی ادائیگی ضروری نہیں۔ اسی طرح وصیت نہیں کی تو فدیہ وارثوں کے ذمے نہیں لیکن اگر کسی وارث نے اپنے مال سے فدیہ ادا کردیا تو فقہاء کا موقف یہ ہے کہ ان شاءاللہ اسے اس کا اجر ملےگا۔ (یجزیہ ان شاءاللہ) لیکن نص میں جس طرح روزے کا ذکر ہے، نمازوں کے فدیے کا ثبوت نہیں یجزیہ ان شاءاللہ کی تعبیر کا منشا بھی یہی ہے۔ اس میں اس جانب اشارہ بھی ہے کہ یہ فدیہ بھلے بدل نہ بنے مگر اس کی طرف سے صدقہ ہونے کی وجہ سے کچھ فائدہ تو دیگا ہی، خصوصاً جب فوت شدہ نمازوں کی ادائیگی کی دوسری صورت ممکن نہیں واللہ اعلم۔