Inquilab Logo Happiest Places to Work

غفلت کو سمجھئے، یہ لاعلمی ہی نہیں باطنی نیند بھی ہے

Updated: May 08, 2026, 4:04 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai

قرآنِ مجید انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے شعور کو بیدار رکھے، اپنی زندگی کا جائزہ لیتا رہے اور اپنے مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھے۔ جب انسان بیداری کے ساتھ جیتا ہے تو اس کی زندگی میں معنی پیدا ہو جاتے ہیں اور اعمال میں گہرائی آ جاتی ہے۔

Prayer is also a fundamental means of treating heedlessness. Prayer brings a person back to reality several times a day, taking him out of the busyness of the world and standing before Allah. Photo: INN
نماز بھی غفلت کے علاج کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ نماز انسان کو دن میں کئی بار اس کی حقیقت کی طرف لوٹاتی ہے، اسے دنیا کی مصروفیات سے نکال کر اللہ کے سامنے کھڑا کرتی ہے۔ تصویر: آئی این این

انسانی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ اس کا شعور ہے۔ یہی شعور اسے حیوان سے ممتاز کرتا ہے، یہی اسے اپنے وجود کا مقصد سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے، اور یہی اسے حق و باطل کے درمیان تمیز کرنے کے قابل بناتا ہے۔ مگر یہی شعور جب سو جائے، جب انسان بیدار ہوتے ہوئے بھی اندر سے غافل ہو جائے، اور جب وہ حقیقتوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی ان سے بے خبر ہو جائے تو یہی کیفیت غفلت کہلاتی ہے۔ غفلت محض لاعلمی نہیں بلکہ یہ ایک ایسی باطنی نیند ہے جس میں انسان آنکھیں کھلی رکھتے ہوئے بھی حقیقت کو نہیں دیکھ پاتا، اور یہی وہ کیفیت ہے جو انسان کو اپنی اصل منزل سے دور لے جاتی ہے۔قرآن مجید نے انسانی باطن کی اس کمزوری کو نہایت گہرائی سے بیان کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
’’اور ہم نے بہت سے جنوں اور انسانوں کو جہنم کیلئے پیدا کیا ہے، ان کے دل ہیں مگر وہ ان سے سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں، وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ، یہی لوگ غافل ہیں۔ ‘‘ (الاعراف: ۱۷۹)

یہ بھی پڑھئے: اُمہات المومنینؓ میں مثالی باہمی محبت اور ایک دوسرے کا از حد احترام تھا!

یہ آیت غفلت کی حقیقت کو پوری شدت کے ساتھ واضح کرتی ہے۔ یہاں مسئلہ وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ ان کے استعمال کا ہے۔ دل، آنکھ اور کان موجود ہیں، مگر شعور سو چکا ہے، اس لئے انسان حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ گویا غفلت انسان کو اس درجے تک گرا دیتی ہے جہاں وہ اپنی فطری صلاحیتوں سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔
غفلت دراصل ایک داخلی انقطاع ہے ۔ انسان اپنے رب سے کٹ جاتا ہے، اپنے مقصد سے کٹ جاتا ہے اور اپنی حقیقت سے کٹ جاتا ہے۔ وہ دنیا کے شور میں اس قدر گم ہو جاتا ہے کہ اسے اپنی اصل منزل یاد نہیں رہتی۔ قرآنِ مجید اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے:
’’لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے، مگر وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ‘‘ (سورہ الانبیاء:۱) غفلت انسان کو اس قدر بے پروا بنا دیتی ہے کہ وہ اپنے انجام سے بھی بے خبر رہتا ہے۔ اسے وقت کی نزاکت کا احساس نہیں ہوتا، اور وہ ایک ایسے دھوکے میں جیتا ہے جس میں اسے اپنی زندگی ہمیشہ کے لئے میسر نظر آتی ہے۔
غفلت کی ایک اہم علامت یہ ہے کہ انسان اہم کو چھوڑ کر غیر اہم میں مشغول ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی توانائیاں ان چیزوں پر صرف کرتا ہے جو عارضی ہیں، اور ان چیزوں کو نظر انداز کرتا ہے جو دائمی ہیں۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے: 
’’ وہ دنیا کی زندگی کا ظاہر جانتے ہیں مگر آخرت سے غافل ہیں۔ ‘‘ (الروم:۷)

یہ بھی پڑھئے: تصوّرِ تعلیم کی تقسیم زوالِ اُمّت کی تمہید

انسانی ذہن کی کیفیت حقیقتاً یہ ہے کہ جس  چیز کی معلومات رکھتا ہے اس کی حکمت کو جلد بھول جاتا ہے۔ وہ سطح کو جانتا ہے مگر گہرائی سے ناواقف ہوتا ہے، اور یہی سطحی علم اسے حقیقی شعور سے دور کر دیتا ہے۔ غفلت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کی حقیقت سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں کو نہیں دیکھتا، اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتا اور اپنے اندر جھانکنے سے گریز کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اصلاح کے عمل سے دور ہو جاتا ہے اور ایک ایسی زندگی گزارتا ہے جس میں بظاہر حرکت تو ہوتی ہے مگر معنویت نہیں ہوتی۔
علم نفسیات میں غفلت کے لئے اصطلاح ہے: Mindlessness ، یعنی انسان بغیر شعور کے زندگی گزارتا ہے۔ وہ عادتوں کے مطابق جیتا ہے، سوچے بغیر فیصلے کرتا ہے اور اپنے اعمال کا شعوری جائزہ نہیں لیتا۔ اس کیفیت میں انسان ایک طرح کی ذہنی نیند میں ہوتا ہے، جہاں وہ زندہ تو ہوتا ہے مگر بیدار نہیں ہوتا۔
اسی طرح ایک اور تصور Autopilot Behaviour ہے۔ انسان روزمرہ کے کام اس طرح کرتا ہے جیسے وہ کسی خودکار نظام پر چل رہا ہو۔ وہ بیدار ہوتا ہے، کام کرتا ہے، کھاتا ہے، سوتا ہے، مگر اس کے اندر کوئی شعوری بیداری نہیں ہوتی۔ اس کی زندگی میں گہرائی نہیں ہوتی بلکہ محض تکرار ہوتی ہے۔
غفلت کی ایک اور شکل توجہ کا بکھراؤ ہے۔ انسان ایک وقت میں بہت سی چیزوں میں الجھ جاتا ہے، مگر کسی ایک چیز کو مکمل توجہ نہیں دے پاتا۔ نتیجتاً وہ اہم حقیقتوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ آج کے دور میں یہ کیفیت مزید بڑھ گئی ہے، جہاں انسان مسلسل مصروف ہے مگر اندر سے خالی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’ دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فراغت۔‘‘  (صحیح بخاری)
یہ حدیث اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ غفلت انسان کو اپنی نعمتوں کی قدر سے محروم کر دیتی ہے۔ وہ ان چیزوں کی اہمیت کو نہیں سمجھتا جو اس کے پاس موجود ہیں، اور جب وہ نعمتیں چھن جاتی ہیں تب اسے ان کی قدر کا احساس ہوتا ہے۔
غفلت کا ایک بڑا سبب دنیا کی چمک دمک میں گم ہو جانا ہے۔ جب انسان کی توجہ صرف مادی کامیابی، دولت اور شہرت پر مرکوز ہو جائے تو وہ اپنی روحانی حقیقت کو بھول جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہی زندگی سب کچھ ہے، اور اسی غلط فہمی میں وہ اپنے اصل مقصد سے دور ہوتا جاتا ہے۔
اسی طرح مسلسل مصروفیت بھی غفلت کو بڑھاتی ہے۔ جب انسان کے پاس رک کر سوچنے کا وقت نہ ہو، جب اس کی زندگی میں خاموشی اور تنہائی کا کوئی لمحہ نہ ہو، تو وہ اپنی زندگی کا جائزہ نہیں لے پاتا۔ وہ بس چلتا رہتا ہے، مگر اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔
اسی طرح غفلت انسان کو محاسبۂ نفس سے دور کر دیتی ہے۔ وہ اپنے اعمال کا جائزہ نہیں لیتا، اپنی نیتوں کو نہیں پرکھتا اور اپنی زندگی کو بغیر کسی احتساب کے گزار دیتا ہے۔ یہی کیفیت اسے آہستہ آہستہ مزید غفلت میں دھکیل دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اللہ کے مہمانو! ذرا سوچو اور غور کرو

اسلامی تعلیمات میں غفلت کے علاج کے لئے سب سے اہم چیز ذکر ہے۔ ذکر انسان کو بار بار اس کی حقیقت کی طرف لوٹاتا ہے، اسے اس کے مقصد کی یاد دلاتا ہے اور اس کے شعور کو بیدار کرتا ہے۔قرآنِ مجید فرماتا ہے: 
’’اور اپنے رب کا اپنے دل میں ذکر کیا کرو عاجزی و زاری اور خوف و خستگی سے اور میانہ آواز سے پکار کر بھی، صبح و شام (یادِ حق جاری رکھو) اور غافلوں میں سے نہ ہوجاؤ۔‘‘  (الاعراف: ۲۰۵)
یہ حکم دراصل ایک مسلسل جدوجہد کی دعوت ہے، کیونکہ غفلت آہستہ آہستہ دل پر چھا جاتی ہے اور انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا۔
اسی طرح نماز بھی ہے جو غفلت کے علاج کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ نماز انسان کو دن میں کئی بار اس کی حقیقت کی طرف لوٹاتی ہے، اسے دنیا کی مصروفیات سے نکال کر اللہ کے سامنے کھڑا کرتی ہے اور اس کے شعور کو تازہ کرتی ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے غفلت کے علاج کے لئے Mindfulness یعنی شعوری بیداری ضروری ہے۔ اس میں انسان اپنے ہر عمل کو شعور کے ساتھ انجام دیتا ہے، اپنے خیالات اور جذبات کا مشاہدہ کرتا ہے اور اپنی زندگی کو بیداری کے ساتھ جیتا ہے۔ اسی طرح Reflection Practice یعنی روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینا بھی انسان کو غفلت سے نکالتا ہے۔ جب انسان دن کے اختتام پر یہ سوچتا ہے کہ اس نے کیا کیا اور کیوں کیا تو اس کا شعور بیدار ہوتا ہے۔
ایک اور اہم طریقہ Meaningful Pause ہے، یعنی دن میں کچھ لمحے رک کر اپنی زندگی کے بارے میں سوچنا۔ یہ وقفہ انسان کو خود سے جوڑتا ہے اور اسے اپنی سمت کا شعور دیتا ہے۔
اسی طرح Digital Detox بھی ضروری ہے، کیونکہ آج کے دور میں معلومات کی کثرت انسان کے شعور کو منتشر کر دیتی ہے۔ جب انسان کچھ وقت کے لئے اس شور سے دور ہوتا ہے تو اس کا ذہن صاف ہوتا ہے اور وہ اپنی حقیقت کے قریب آتا ہے۔
غفلت سے بچنے کیلئے ایک اہم چیز صحبت ِ صالحہ بھی ہے۔ اچھے اور باشعور لوگوں کی صحبت انسان کے شعور کو بیدار رکھتی ہے، جبکہ غافل لوگوں کی صحبت اسے مزید غفلت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ 
غفلت انسانی باطن کی ایک ایسی کمزوری ہے جو شعور کو سلا دیتی ہے۔ یہ انسان کو زندہ ہوتے ہوئے بھی ایک بے خبر وجود بنا دیتی ہے اور یہی بے خبری اسے اس کی اصل منزل سے دور کر دیتی ہے۔
قرآنِ مجید انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے شعور کو بیدار رکھے، اپنی زندگی کا جائزہ لیتا رہے اور اپنے مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھے۔ جب انسان بیداری کے ساتھ جیتا ہے تو اس کی زندگی میں معنی پیدا ہو جاتے ہیں، اس کے اعمال میں گہرائی آ جاتی ہے اور وہ ایک زندہ اور باشعور انسان بن جاتا ہے۔ یہی بیداری اس کی نجات کا ذریعہ ہے اور یہی اس کی حقیقی کامیابی کی بنیاد ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معاشرہ میں خواتین بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنے کہ مرد

غفلت کی خطرناک شکل
یاد رہے، غفلت کی ایک خطرناک شکل یہ ہے کہ انسان حق بات سن کر بھی متاثر نہیں ہوتا۔ اس کا دل اس قدر سخت ہو جاتا ہے کہ نصیحت اس پر اثر نہیں کرتی۔ یہ کیفیت دل کی موت کی علامت ہے۔غفلت انسان کو اس حد تک لے جاتی ہے کہ وہ وقت کی قدر کھو دیتا ہے۔ وہ اپنے دن اور رات کو معمولی سمجھتا ہے، حالانکہ یہی لمحات اس کی زندگی کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ قرآنِ مجید بار بار وقت کی اہمیت کی طرف متوجہ کرتا ہے، مگر غافل انسان اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK