Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا ہم مادیت پرست ہوتے جارہے ہیں؟

Updated: June 26, 2026, 4:31 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai

اسلام میں دنیا داری کا موضوع نہایت ہی نزاکت اور مہارت کے ساتھ آیا ہے۔ اس پر تعلیمات دی گئی ہیں۔

In this age of technology and the rise of materialism, the magic of the world is speaking out a little more loudly. Photo: INN
ٹیکنالوجی کے اس دور اور مادیت پرستی کے عروج میں دنیا کا جادو کچھ زیادہ ہی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ تصویر: آئی این این

اسلام میں دنیا داری کا موضوع نہایت ہی نزاکت اور مہارت کے ساتھ آیا ہے۔ اس پر تعلیمات دی گئی ہیں۔ ایک طرف دنیا میں بھلائی مانگنے کی دعائیں سکھائی گئی ہیں، وہیں دوسری طرف دنیا سے دل نہ لگانے، اس کو اپنا ابدی ٹھکانہ نہ سمجھنے اور یہاں مسافر کی طرح زندگی گزارنے کے احکامات دئیے گئے ہیں۔ اکبرالہ آبادی نے گویا ایک شعر میں دنیاداری کے متعلق جو بات کہی ہے، وہ اسلامی روح سے نہایت قریب ہے:

دنیا میں ہوں دنیا کا طلبگار نہیں ہوں

بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

 یہ اسلامی تعلیمات کی خوبصورتی ہے کہ ایک طرف جہاں انسان کو دنیا میں رہنے سے مفر حاصل نہیں اور اسلام  نے رہبانیت کو منع قرار دیا وہیں دوسری طرف ایک مسلمان کو اسی دنیا میں رہناہے، رزق حلال کے لئے تگ ودوکرنی ہے، ماں باپ اور  بیوی بچوں کے حقوق اداکرنے ہیں، پڑوسی اور رشتے داروں سے مل جل کررہنا ہے۔ غرضیکہ زندگی کے سارے حقوق اداکرنے ہیں ۔ اب یہ سب کرتے کرتے انسان کا دل دنیا میں لگ جانا قطعی فطری بات ہے، لیکن اب اسلام نے یہ شرط بھی لگادی کہ دنیا میں دل نہیں لگانا ہے، اس کو ابدی گھر نہیں سمجھنا ہے، اس سے محبت نہیں کرنی ہے۔ اوریہی زیادہ مشکل کام ہے۔

بعض صوفیاء نے اسلام کی انہی تعلیمات کو اس خوبصورت مثال کے ذریعہ سمجھایا ہے: ’’ کشتی پانی میں رہے تو پانی اسے منزل تک پہنچاتا ہے، لیکن اگر پانی کشتی کے اندر آ جائے تو وہی پانی اسے ڈبو دیتا ہے۔‘‘ اسی طرح بعض جگہ یہ قول بھی مطالعے میں آیا کہ اہل دل کہتے ہیں: ’’دنیا ہاتھ میں ہو تو نعمت ہے، دل میں ہو تو آزمائش ہے۔‘‘ اس سے واضح ہوا کہ ایک مسلمان کو دنیا کے سارے معاملات کو بحسن وخوبی نبھانا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کا خیال رکھنا ہے کہ دنیا کی محبت اس کے دل میں نہ سماجائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اصلاحِ نفس کوئی محدود عمل نہیں، ایک ہمہ گیر نظام ہے

اس کے علاوہ بھی دُنیا  داری سے بیزاری کے  اور دُنیا کے بے حیثیت ہونے کےمتعلق بیشمار احکامات آئے ہیں۔ دراصل  انسان کی مثال اس بچے کی سی ہے جس کو اس کے گھر والوں نے بازار سے کچھ ضروری چیز لانے کے لئے بھیجا، راستے میں کوئی کھیل تماشہ والا کچھ کرتب بتانے لگا، بچہ  اس ضروری کام کو بھول کر کرتب  میں مشغول ہوگیا،   بعدمیں گھروالوں سے اس نے خوب مار کھائی۔ بس یہی حال انسان کا ہے کہ وہ اس دنیا میں آیا ہی آخرت کی تیاری کے لئے ہے، لیکن اپنے اصلی مشن کو بھول کروہ اس دنیا کو سجانے اور سنوارنے میں لگ گیا، جس کو اسے بہر صورت ایک دن چھوڑ کرجانا ہی ہے۔ عربی زبان کی مشہور کتاب ’الف لیلۃ ولیلۃ‘ میں ایک نہایت معنی خیز رباعی  ہے جس کا مفہوم ہے:  ’’ہر لکھنے والا (یعنی انسان) فنا ہو جائے گا، اور زمانہ صرف وہ باقی رکھے گا جو اس نے لکھ رکھا ہے (یعنی اس کے اعمال)، تو اے انسان، تو اپنے ہاتھ سے وہی بات لکھنا (یعنی وہی عمل کرنا) جس پر تجھے قیامت کے دن خوشی ہو۔‘‘

دنیاداری کے تعلق سے واضح اسلامی تعلیمات کے باوجود آج ہماری ساری زندگی اسی دنیا کی فکروں کی نذرہو رہی ہے، اور آخرت کا خیال بھی ہمارے لئے کبھی کبھار کی بات ہوگئی ہے۔ ہمارا ہر عمل، ہر سوچ، ہر فکر اس فانی دنیا کے بارے میں ہی ہے جبکہ اللہ عزوجل نے واضح الفاظ میں ہمیں بتلادیا ہے: ’’بیشک کامیاب ہوا وہ شخص جس نے پاکیزگی اختیار کی ، اپنے رب کا ذکر کیا اور نماز پڑھی۔ لیکن تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو جبکہ آخرت بہتر ہے اور (ہمیشہ ہمیش) باقی رہنے والی ہے۔‘‘ (سورہ الاعلیٰ: ۱۴؍تا۱۷) 

کلام پاک کی اس آیت میں  اللہ رب العزت نے  ہمارے دل کے اس چور کوبیان کردیا کہ تم  اس چیز کے لئے، جو فانی ہے، ساری زندگی جھونک رہے ہو، اور جوکبھی ختم نہ ہونے والی زندگی ہے اس کاخیال بھی تمہیں مشکل سے آتا ہے۔ 

ایک طرف اسلام کی یہ تعلیمات ہیں اور دوسری طرف آج  مسلمانوں کی زندگی ہے ۔ اگر دونوں کے درمیان موازنہ کیا جائے تو کوئی تال میل ہی نظر نہیں آتا، اس لئے کہ دنیاداری ہمارے اندر اس قدر سرایت کر گئی ہے کہ ہماری نمازیں اسی دنیاوی کام دھندوں کی نذرہوتی جارہی ہیں۔ رکعت باندھتے ہی دنیا بھر کے خیالات ہمارے ذہنوں میں امڈآتے ہیں، اور اس وقت تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتے جب تک ہم سلام نہیں پھیر دیتے۔ بلکہ ایسے بھی واقعات ہورہے ہیں کہ قبرستان میں ایک انسان کی تدفین ہورہی ہے، اس سے عبرت حاصل کرناچھوڑ کر وہیں کچھ فاصلے پر لوگ دنیاداری کے معاملات طے کررہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: امام سے پہلے سلام پھیرنا مکروہ تحریمی, تاخیر بھی ناپسندیدہ امر ہے

ٹیکنالوجی کے اس دور اور مادیت پرستی کے عروج میں دنیا کا جادو کچھ زیادہ ہی سر چڑھ کر بول رہا ہے، جس کی وجہ سے آج مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اپنی آخرت کو دنیا کے عوض بیچ رہی  ہے۔ مولانا عامر عثمانی نے اسی بات کا بین کرتے ہوئے کہا تھا: ’’گناہ اتنا حسین کب تھا کمالِ علم و ہنر سے پہلے۔‘‘  بس اسی کمال علم وہنر کو مثبت کے بدلے منفی طور پر استعمال کرکے ہم آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں اور دنیا سے ہمارا دل مکمل طور پر چمٹ گیا ہے جبکہ ہر دن ہمارے سامنے جوق درجوق لوگ اپنے سفر آخرت پر روانہ ہو رہے ہیں۔ بچے ، بوڑھے، جوان، مرد، عورت، غریب، بزرگ، امیر، غریب، گورے، کالے، ہندوستانی، امریکی، پڑھے لکھے ، ان پڑھ، کمزور اور صحتمند گویا کہ موت کسی کو نہیں چھوڑ رہی ہے اور ہم ہیں کہ میری عمر تو ابھی باقی ہے کے خواب خرگوش میں مبتلا ہیں۔ 

اسلام میں موت کو کثرت سے یاد کرنے کا حکم اسی لئے دیا گیا ہے کہ مسافر اپنا سامان باندھ کر تیار رہے، بلکہ زیادہ سے زیادہ تیاری رکھے، اس لئے کہ ’’آج عمل ہے حساب نہیں، کل حساب ہوگا عمل نہیں۔‘‘عمل کا دفتر بند ہوچکا ہوگا کہ انسان عمل تب تک ہی کرسکتا ہے جب تک سانس آرہی  ہے اور جان میں جان ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غیبت، دل آزادی اور بے حسی سے بچئے جنہیں ہم ’چھوٹا گناہ‘ سمجھتے ہیں!

قرآن مجید میں دُنیا کا ذکر
اللہ عزوجل نے نہایت واضح انداز میں دنیا کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: ’’اور دنیوی زندگی (کی عیش و عشرت) کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں، اور یقیناً آخرت کا گھر ہی ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا تم (یہ حقیقت) نہیں سمجھتے۔‘‘ (سورہ الانعام:۳۲) ایک دوسری جگہ اللہ عزوجل نے دنیا وی زندگی کو ’’دھوکے کا سرمایہ‘‘ قراردیا ہے چنانچہ ارشاد ہوا:  ’’اور دنیا کی زندگی دھوکے کے مال کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘‘ (سورہ آل عمران: ۱۸۵)

دنیا کے متعلق ارشاد نبویؐ
 احادیث ِ مبارکہ میں دنیا کی بے وقعتی کو نہایت آسان انداز میں بیان  کیا گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’دنیا مومن کیلئے قید خانہ اور کافرکیلئے جنت ہے۔ ‘‘ ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ آپؐ نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے دونوں مونڈھے پکڑ کر ان سے ارشاد فرمایا:’’دنیا میں ایسے رہوجیسے کہ تم پردیسی ہو یا راستہ چلتے مسافر۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK