• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غیبت ایک خاموش باطنی روگ ہے

Updated: October 17, 2026, 4:57 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

غیبت بظاہر زبان سے ادا ہونے والے چند الفاظ ہیں، لیکن اس کے اثرات انسان کی دنیا اور آخرت دونوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسروں کے عیب بیان کرنے اور ان کی عزت کو مجروح کرنے کی عادت انسان کو اس گناہ میں مبتلا کر سکتی ہے جو اس کی نیکیوں کے ضیاع اور آخرت کے خسارے کا سبب بنے۔ یہ مضمون غیبت کی حقیقت اور اس کے ہولناک انجام سے خبردار کرتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

طلحہ ایک نہایت ہی شریف، نیک طینت، متقی اور معاشرے میں اپنی شرافت اور عبادت کیلئے مشہور نوجوان ہے جو برسوں سے ذکر الٰہی میں محو اور عبادات کا سراپا مجسمہ نیکیوں کو اپنے لئے ذخیرہ آخرت بنا رہا تھا، لیکن اپنے ایک ناپسندیدہ شخص نعمان کے عیبوں کا ذکر محفلوں میں کرنا اس کا روزمرہ کا معمول تھا۔ ایک رات خواب میں انہوں نے دیکھا کہ وہ میدانِ محشر میں مفلس و لاچار کھڑے ہیں اور ان کی زندگی بھر کی محنت کا پھل نعمان کے نامہ ٔ  اعمال میں جا رہا ہے، جبکہ نعمان کے گناہوں کا بوجھ ان کے اپنے سر لادا جا رہا ہے۔ طلحہ نے گھبرا کر فرشتوں سے پوچھا کہ یہ ماجرا کیا ہے؟

یہ بھی پڑھئے: زندگی کوئی خواب یا اتفاق نہیں ہمارے روزمرہ کے اعمال کا نتیجہ ہے

فرشتے نے نرمی مگر ڈانٹ بھرے انداز میں کہا:’’میاں! تم جو مجلسوں میں بیٹھ کر فلاں کی برائی، خامیاں اور عیب جوئی کے قصیدے پڑھا کرتے تھے... اسی کا نام غیبت ہے! اسی کے نتیجے میں تمہاری نیکیاں سلب کر کے نعمان کے حوالے کر دی گئی ہیں اور اس کے گناہ تمہارے سر پر ڈال دیئے گئے ہیں۔‘‘ یہ سنتے ہی طلحہ خوف اور شدید گھبراہٹ کے عالم میں چیخ کر بیدار ہوا، اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا اور دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ لمحہ ضائع کیے بغیر سیدھے نعمان کے گھر کی طرف بھاگا، اس کی منت سماجت کی، اپنے دیکھے ہوئے خواب اور مجلسوں میں کی گئی تمام برائیوں کی تفصیل بتائی اور گڑگڑا کر اس سے معافی مانگی تاکہ آخرت کے اس ہولناک خسارے سے بچ سکے۔

انسان اکثر اپنی روزمرہ کی زندگی میں بے خبری کے عالم میں اپنی آخرت کا سرمایہ لٹاتا رہتا ہے۔ زبان پر ذکرِ الٰہی، ہاتھ میں تسبیح، پیشانی پر عبادت کے آثار اور بظاہر نیکوکاروں جیسی زندگی ہوتی ہے، لیکن محفلوں میں بیٹھتے ہی کسی کی خامیاں بیان کرنا، کسی کے عیب اچھالنا، کسی کی عزت کو مذاق بنانا اور کسی کی برائیاں کرنا معمول بن جاتا ہے۔ اسے محض گفتگو، دل کا بوجھ ہلکا کرنے یا کسی کی حقیقت بیان کرنے کا نام دے کر یا ہنسی مذاق کا بہانہ کرکے انسان مطمئن ہو جاتا ہے، مگر اسے احساس نہیں ہوتا کہ اس کی زبان سے نکلنے والا ہر نازیبا لفظ اس کی نیکیوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ وہ دنیا میں اپنی نیکیوں کے ذخیرے پر نازاں رہتا ہے، جب کہ ممکن ہے کہ غیبت کے ذریعے وہی ذخیرہ دوسروں کے حوالے کر رہا ہو اور اپنی آخرت کو خسارے سے دوچار کر رہا ہو۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی بہت سی نیکیوں کا احساس ہوتا ہے، مگر اپنی زبان سے ضائع ہونے والی نیکیوں کا احساس نہیں ہوتا۔کیا وہ اس خسارہ کو برداشت کرسکتا ہے؟

یہ بھی پڑھئے: سیاحت (آؤٹنگ) کیوں اہم ہے، تفریح کے علاوہ اس میں دینی فائدہ کیا ہے؟

غیبت ایک ایسا خاموش باطنی روگ ہے جو انسان کی برسوں کی عبادت، ریاضت اور نیکیوں کو یوں چٹ کر جاتا ہے جیسے دیمک لکڑی کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ بظاہر یہ زبان کا ایک معمولی فعل ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسا خطرناک سودا ہے جس میں انسان اپنی محنت سے کمائی ہوئی حیاتِ صالحہ کو اپنے ہی ہاتھوں اپنے سب سے ناپسندیدہ شخص کے نام منتقل کر رہا ہوتا ہے۔

قیامت کے دن جب غیبت کرنے والا انسان،  خالی ہاتھ اور نیکیوں سے مفلس ہو کر کھڑا ہوگا، تب اسے معلوم ہوگا کہ دنیا میں جن لوگوں کی کمزوریوں پر وہ طنز کرتا تھا، ان کے نامۂ اعمال کو اس نے اپنی ہی نیکیوں سے مالا مال کر دیا تھا۔ لہٰذا، اپنی برسوں کی محنت کو رائیگاں جانے سے بچانے کا واحد راستہ زبان کے اس زہر سے توبہ کرنا اور خود کو اس مہلک گناہ سے محفوظ رکھنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK