• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدھیہ پردیش: ٹیچر نےمسلم طلبہ کو دہشت گرد بتایا، پاکستان جانے کہا، طلبہ کا الزام

Updated: October 17, 2026, 8:02 PM IST | Ujjain

مدھیہ پردیش کے اجین میں ایک سرکاری اسکول میں کچھ نو مسلم طلبہ کو مبینہ طور پر فرقہ وارانہ جملے کہتے ہوئے انہیں پاکستان جانے کو کہااور انہیں دہشت گرد بتایا ۔ اس واقعے کے بعد سے بچوں کے والدین نے سخت برہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے میں مقامی انتظامیہ سے شکایت کی ہے اور ٹیچر کی فوری بر طرفی کا مطالبہ کیا ہے ، فی الحال اس معاملے کی تفتیش جاری ہے۔

Symbolic image: INN
علامتی تصویر: آئی این این

 مدھیہ پردیش کے ضلع اجین کی تحصیل بڈنگر کے ایک سرکاری اسکول کے نو مسلم طلبہ کے اہل خانہ نے ایک ٹیچر (گیسٹ ٹیچر) پر کلاس روم کے اندر اسلاموفوبک اور فرقہ وارانہ جملے کسنے کا الزام عائد کیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے ٹیچر کی برطرفی اور اس کے خلاف سخت محکمہ جاتی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔یہ الزام سندیپنی ودیالیہ کی گیسٹ ٹیچر پرینکا اپادھیائے پر لگا ہے، جو ۷؍ اکتوبر کو نویں جماعت کو پڑھا رہی تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: بہار: تین طلاق مخالف قانون کے تحت پہلی سزا، ملزم کو دو سال قید

کلیریئنن کی رپورٹ کے مطابق، طلبہ کے اہل خانہ نے بتایا کہ ٹیچر نے نو مسلم بچوں سے فرداً فرداً ان کے نام پوچھے اور اس کے بعد مبینہ طور پر کہا،’’تم لوگ دہشت گرد ہو، پاکستان چلے جاؤ۔‘‘ جس کے بعد بچوں نے گھر پہنچ کر اپنے اہل خانہ کو اس کے بارے میں بتایا۔ اہل خانہ نے کہا کہ ان جملوں نے بچوں کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے اور اس سے بچوں کی ذہنی و جذباتی قوت ، تحفظ اور قصبے کے باہمی بھائی چارے پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔  بعد ازاں ۱۴؍ اکتوبر کو والدین کے ایک وفد اور مقامی معززین نے قصبے کے قاضی کی قیادت میں بڈنگر کے سب ڈیویژنل مجسٹریٹ ( ایس ڈی ایم) دھیریندر پراشر سے ملاقات کی اور ایک میمو رنڈم پیش دیا ، جس میں ٹیچر کی فوری برطرفی اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی مطالبہ کیا گیا ۔والدین کا کہنا تھا کہ ایک تعلیمی ادارے میں اس طرح کے مبینہ الفاظ بچوں کے ذہنوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی کو مجروح کرتے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے اسکول میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: احمد آباد: گربا پروگرام سے مسلمانوں کو نکل جانے کا حکم؛ گلوکار آدتیہ گڑھوی نے خود کو اس سے الگ کرلیا

ایس ڈی ایم دھیریندر پراشر نے اس بات کی تصدیق کی کہ مسلم برادری کے لوگوں نے اس سلسلے میں ایک میمورنڈم سونپا ہے۔انہوں نے معاملے کی حساسیت اور سنجیدگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بلاک ایجوکیشن آفیسر (بی ای او) کو ان الزامات کی جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افسر کی تفتیشی رپورٹ موصول ہونے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی ۔ فی الحال ٹیچر کے خلاف لگائے گئے ان الزامات کی باضابطہ تصدیق ہونا باقی ہے اور تفتیش کی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK