ہم ہر سال۱۷؍ اکتوبر کو’یوم سرسید‘ مناتے ہیں۔ اس موقع پر کہیں سمینار، کہیں مذاکرے تو کہیں دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس دوران ان کے مشن اور ان کی فکر کو عام کرنے اور ان کے پیغام بالخصوص تعلیمی پیغام پرگفتگو کرتے ہیں۔ اسی حوالے سے انقلاب نے کچھ اہم شخصیات سےگفتگو کی ہے، جن میں سے بیشتر کا تعلق علیگ برادری سے ہے اور دیگر کا تعلق ادب، تعلیم اور صحافت سے ہے۔ ہم نے ان سے جاننے کی کوشش کی کہ اس سلسلے میں عملی اقدامات کے طور پر کیا کچھ ہونا چاہئے۔
ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی اہم اور بامعنی ہے، جتنا اُس دور میں تھا

سرسید احمد خان بر صغیر کی تاریخ میں ایک ایسی عظیم شخصیت گزرہے ہیں،جنہوں نے تعلیم، سائنسی فکر اور سماجی اصلاح کو قوم کی ترقی کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔ ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی اہم اور بامعنی ہے، جتنا ان کے دور میں تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو وقت کے تقاضوں کوسمجھنے، جدید علوم حاصل کرنے، عقلی و سائنسی انداز فکر اپنانے اور تعلیم کے ذریعہ اپنی سماجی و معاشی حالت بہتر بنانے کی ترغیب دی۔ اگر اس عہد میں سرسید ہوتے اور اپنی قوم کی تعلیمی سماجی اور اقتصادی صورت حال دیکھتے تو یقیناً انتہائی پریشان ہوتے۔ آج جب دنیا تیزی سے ترقی کررہی ہے اور مصنوعی ذہانت، سائنس و ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع زندگی کے ہرشعبے کو متاثر کررہے ہیں، سرسید کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی کا راستہ علم،تحقیق، وسیع النظری اورمسلسل جدوجہد سے ہو کر گزرتا ہے۔
ان کا مقصد محض تعلیم حاصل کرنا نہیں بلکہ ایسی باشعور نسل تیار کرنا تھا جو زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کامقابلہ اعتماد اور قابلیت کے ساتھ کرسکے۔موجودہ دور میں سرسید کے پیغام کو عام کرنے کیلئے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میںان کی زندگی اور افکار پر مذاکرے اور سمینار منعقد کئے جائیں اور ان کے پیغام کو مختلف پلیٹ فارم کے ذریعہ نوجوان نسل تک پہنچایا جائے۔اس کے ساتھ جدید تعلیم، سائنسی مزاج، تنقیدی فکر اور خواتین کی تعلیم کو فروغ دینا بھی اس مشن کا حصہ ہونا چاہئے۔ سرسید احمد خان کا پیغام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قوموں کی ترقی محض ماضی کے کارناموں پر فخر کرنے سے نہیں بلکہ حال میں محنت کرنے اور مستقبل کی تیاری کرنے سےممکن ہوئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہےکہ ہم سرسید کو صرف یاد نہ کریں بلکہ اپنی تعلیمی پالیسیوں اور سماجی رویوںمیں عملی طور پر نافذ کریں۔ یہی ان کے لئے خراج عقیدت اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
ڈاکٹر ابوالبرکات(ڈائریکٹر ، مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، ممبئی ریجن)
سر سید نے اپنی کوششوں سے ہوا کا رخ بدل دیا تھا

سر سید احمد خان کے پیغام کی اہمیت آج بہت زیادہ ہے۔ سر سید کا پیغام تھا اندھیرے سے روشنی، جمود سے حرکت اور تن آسانی سے محنت و مشقت کی طرف سفر۔انہوں نے۱۸۷۷ء میں صرف ایم اے او کالج ہی نہیں بنایا۔ یہی کالج۱۹۲۰ء میں اے ایم یو میں تبدیل ہوا، لیکن اس کے ساتھ ہی ہندوستانی مسلمانوں کے خواب و ارمان نے ایک نئی کروٹ لی۔
سر سید صرف ایک کالج یا یونیورسٹی کے فاؤنڈر کا نام نہیں ہے۔ سرسید ایک تحریک کا نام ہے۔سر سید کا مقصد ہندوستانیوں، بالخصوص مسلمانوں کے اندر ایک ماڈرن اور سائنٹفک سوچ کو آگے بڑھانا تھا۔ سر سید نے اپنی کوششوں سے ہوا کا رخ بدل دیا تھا اور مایوس دلوں کو امید دلائی تھی۔
سرسید نے بتایا کہ قوم کی ترقی خود غرضی سے بہتر ہے۔ اگر وہ چاہتے تو۱۸۵۷ء کے غدر کے بعد انگریزی حکومت جو اُن کو انعام و اکرام دینا چاہتی تھی، قبول کر لیتے اور آرام کی زندگی گزارتے، لیکن سر سید نے مشکل راستہ چنا۔ قوم کو نئی تعلیم سے آراستہ کرنے کی قسم کھائی اور بڑے مخالف سے مقابلہ کرنا سکھایا۔ تہذیب الاخلاق جیسا پرچہ شروع کرکے اصلاح کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھئے: تیز آندولن، تیزی سے بدلتا الیکشن کمیشن کا رُخ
سر سید کے پیغام کو آگے بڑھانے کیلئے ضروری ہے تعلیمی تحریک کو تیز کیا جائے۔ علی گڑھ محور ہے لیکن پورے ملک میں تعلیمی اداروں کا جال بچھانا ہوگا۔ایک علی گڑھ۲۰؍ کروڑ مسلمانوں کی تعلیمی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ شہروں، قصبوں اور گاؤں میں اسکولوں، کالجوں کا جال بچھایا جائے۔ایک اور بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ اے ایم یو ہندوستانی مسلمانوں کا اصلی تاج محل ہے۔ آگرہ کا تاج محل تو گردشِ زمانہ سے پیلا پڑ گیا ہے لیکن علی گڑھ کا تاج محل اپنی تابناکی آج بھی بچائے ہوئے ہے۔ اس کو اور تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی قربانی اے ایم یو کیلئے اتنی زیادہ ہے کہ پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے، لیکن ماضی کی یادوں میں رہنے سے ہی کام نہیں چلے گا۔ ہندوستانی مسلمانوں کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ اے ایم یو اُن کا دھڑکتا ہوا دل ہے، ان کی شہ رگ ہے۔ ان کا رشتہ علی گڑھ سے بنا رہنا چاہئے۔ بھلے ہی آپ نے وہاں تعلیم حاصل کی یا نہ کی ہو، آپ کو اے ایم یو سے محبت ہونی چاہیے۔ آپ کے دل میں سر سید کے اس چمن کیلئے عزت و احترام ہونا چاہیے۔ میرے خیال سے سر سید کے مشن اور پیغام کو آگے بڑھانے میں علیگ کمیونٹی اہم رول ادا کر سکتی ہے۔ ہر علیگ اے ایم یو کا ایمبیسڈر ہے۔ اس کو چاہیے کہ وہ ملکی اور ملی ایشوز میں دلچسپی لے۔ غریب طلبا و طالبات کی مدد کرے۔ جن خاندانوں میں علم کی روشنی اب تک نہیں پہنچی ہے وہاں کوشش کرکے تعلیم کو پہنچایا جائے۔ممبئی میں موجود علیگ برادری نے اسلام جمخانہ میں نہایت ہی جوش و خروش کے ساتھ سر سید ڈے کا اہتمام کیا۔ ہمیں امید ہے یہ جوش اور جذبہ برقرار رہے گا اور کچھ نئے اور مثبت اقدامات کیے جائیں گے۔جو اَبر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گا.... ان شاء اللہ۔
محمد وجیہہ الدین (سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر، ٹائمز آف انڈیا، ممبئی)
نئی نسل میں میں تحقیقی، تخلیقی اور تنقیدی شعور پیدا کیا جائے

آج، جب دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، سرسید کے افکار کی معنویت پہلے سے زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو انگریزی، سائنس، ریاضی اور جدید علوم حاصل کرنے کی ترغیب دی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ علم کے نئے دروازے کھولے بغیر ترقی کی منزل تک پہنچنا ممکن نہیں۔ آج مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور مسابقت کا دور ہے۔ ایسے میں سرسید کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نئی نسل کو محض ڈگریوں تک محدود رکھنے کے بجائے اس میں تحقیقی، تخلیقی، تنقیدی شعور اور مسائل حل کرنے کی اہلیت پیدا کرنا ضروری ہے۔
سرسید کی فکر کا ایک اہم پہلو عقل و خرد اور سائنسی مزاج کی ترویج ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ انسان ہر معاملے کو غور و فکر اور دلیل کی روشنی میں دیکھے۔ معاشرے میں پھیلے ہوئے توہمات، فرسودہ تصورات اور غیر عقلی رویوں سے نجات حاصل کیے بغیر فکری ترقی ممکن نہیں۔ آج بھی ہمارے معاشرے کو ایسے رویوں کا سامنا ہے جو سوال کرنے، اختلاف رائے رکھنے اور نئے خیالات قبول کرنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ سرسید کے افکار کی روشنی میں ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں آزادانہ مکالمے، تحقیق اور استدلال کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان محض معلومات جمع کرنے والے نہیں، بلکہ باشعور اور ذمہ دار شہری بن سکیں۔ سر سید ہمیں بتاتے ہیں کہ ماضی سے رشتہ برقرار رکھتے ہوئے مستقبل کی طرف بڑھنا چاہیے۔ آج سرسید کو حقیقی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم صرف ان کی عظمت کے قصیدے پڑھیں بلکہ یہ ہے کہ ان کے علمی، تعلیمی اور اصلاحی مشن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ جب معاشرے میں علم کو ترجیح، سوال کو اہمیت، تحقیق کو وقار اور تعلیم کو ہر انسان کا بنیادی حق تسلیم کیا جائے گا، تبھی سرسید احمد خاں کا پیغام حقیقی معنوں میں عام ہوگا اور ان کا خواب ایک روشن، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی صورت میں شرمندۂ تعبیر ہو سکے گا۔
ڈاکٹر قمر صدیقی (شعبۂ اردو، ممبئی یونیورسٹی)
سرسید احمد خاں کی استقامت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے

ہر لحظہ بدلتی دنیا کی رفتار سے خودکو ہم آہنگ کرنے کیلئے جدید تعلیم کا دامن تھامنا ناگزیر ہے۔ چنانچہ سر سید احمد خان کے پیغام کی معنویت ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتی ہی جائے گی۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سرسید احمد خان نے یہ پیغام اُس وقت تجویز کیا تھا جب انقلابِ۱۸۵۷ء کی ناکامی کے بعد مسلمان یہ یقین کرچکے تھے کہ اس ملک میں ان کا زریں دور ختم ہوچکا ہے۔ مایوسی کا وہ عالم تھا کہ مسلمانوں کو سرسید کا یہ پیغام بھی اپنے خلاف کوئی سازش معلوم ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس پیغام کو عملی جامہ پہنانے کیلئےآپ کو اپنوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ آج سرسید احمد خان کے پیغام ہی کو نہیں آپ کی استقامت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔
حالانکہ قیام علی گڑھ کے ڈیڑھ سو سال بعد ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے ملک کے طول و عرض میںجدید تعلیم کے ہزاروں ادارے قائم کرلیے ہیں،لیکن آج بھی صورتحال یہ بنی ہوئی ہے کہ ایک پرائیویٹ سروے کے مطابق مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سےاب بھی پچاسوں ہزار اسکولوں اور کالجوں کی ضرورت ہے۔ اس ضروت کو محسوس کرنا اور اس کے حل کیلئے متحدہ اقدام کرنا بے پناہ ضروری ہوگیا ہے۔ ساتھ ہی جو ادارے پہلے سے جاری ہیں ان میں معیارتعلیم کو بہتر کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ سائنسی تعلیم کا معیار کے بغیر کوئی مول نہیں۔ مسلم نوجوان صلاحیت کے معاملے میں کسی سے کم نہیں۔ باصلاحیت نوجوانوں کو تلاش کرنا اور انہیں مناسب مواقع فراہم کرناہماری ترجیحات میں ہونا چاہیے۔ہندوستان میں تعلیم کے شعبے کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کیا جارہاہے لہٰذا اس کیلئے خطیر سرمایے کی ضرورت سے بھی انکار نہیں۔ لیکن تعلیم کو صرف تجارت سمجھ لینا بھی اس کی اصل سے انحراف ہے۔ سرسید احمد خان کا ایک پیغام رواداری اور یکجہتی بھی ہے۔ ملک کے موجودہ تناظر میں اس پیغام کی اہمیت بھی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
امتیاز خلیل (سینئر صحافی اور دستاویزی فلم میکر، مالیگاؤں)
قوموں کے عروج کا راستہ صرف اور صرف علم سے ہوکر گزرتا ہے

برصغیر کی تاریخ میں سر سید احمد خان کا نام ایک ایسے عظیم مصلحِ قوم کے طور پر محفوظ ہے جنہوں نے اپنی دور اندیشی اور فکری جدوجہد سے ایک زوال آمادہ قوم کو جمود سے نکالا۔ ان کا پیغام محض ایک تعلیمی تحریک نہیں تھی بلکہ ایک ایسے روشن خیال معاشرے کی تشکیل کا خواب تھا جو علم، عقل اور جدید شعور سے آراستہ ہو۔انہوں نے اپنے عہد کے ناسازگار حالات کا گہرا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ حقیقت جان لی تھی کہ مسلمانوں کی زبوں حالی کا بنیادی سبب جدید علوم اور وقت کے تقاضوں سے دوری ہے۔ انہوں نے کھلے الفاظ میں کہا کہ بدلتے ہوئے زمانے میں بقا اور ترقی کیلئے روایتی علوم کے ساتھ ساتھ سائنسی فکر اور جدید تعلیم کا حصول ناگزیر ہے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے’علی گڑھ تحریک‘ کی بنیاد رکھی، ’سائنٹفک سوسائٹی‘ قائم کی اور اپنے رسالے ’تہذیب الاخلاق‘ کے ذریعے معاشرتی اصلاح کی ایک طاقتور لہر پیدا کی۔۱۸۷۵ء میں قائم ہونے والا محمڈن اینگلو اورینٹل کالج آگے چل کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں ایک عالمگیر تعلیمی مرکز بنا۔آج اکیسویں صدی کے ڈیجیٹل اوراے آئی کے دور میں سر سید کے افکار کی معنویت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ تعلیمی پسماندگی، معاشی عدم مساوات اور فکری جمود جیسے سنگین مسائل آج بھی جوں کے توں موجود ہیں۔
نئی نسل کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرنا اور ان میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس تعلیمی اور فکری انقلاب میں میڈیا کو بھی سطحی تشہیر سے ہٹ کر علمی شعور اور مثبت اقدار کے فروغ کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔سر سید کا ابدی پیغام آج بھی واضح ہے کہ قوموں کے عروج کا راستہ صرف اور صرف علم اور مسلسل عملِ پیہم سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر ہم ایک تابناک اور باوقار مستقبل کے خواہاں ہیں، تو ہمیں سر سید کے افکار کو محض تاریخ کی کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی عملی زندگی اور قومی پالیسیوں کا حصہ بنانا ہوگا
عائشہ مشیراحمد شیخ (انچارج پرنسپل، نائٹ ڈگری کالج، آرٹس اینڈ کامرس، بھیونڈی)
سرسید احمد خاں نے ایک عملی نمونہ ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے جو روشن و معمور ہے

انگریزوں نے انگریزی زبان، عصری تعلیم اور دیگر سائنسی علوم کی ترویج کیلئے انتھک کوششیں کیں۔مسلمانوں نے بھی اس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا۔ کلکتہ ، ممبئی، الہ آباد، آگرہ، دہلی ، پونے ، لکھنؤ اور دیگر شہروں میں کالج اور یونیورسٹی کی صورت میں تعلیم عام کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ آج کی صورتحال یا بہتر لفظ خستہ حالی میں جب ہم ماضی میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان شہروں کے اداروں نے تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ۔ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے جب بھی روشن مثال پیش کرنی ہوتی ہے، ہم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طرف نگاہ کرتے ہیں۔
اس کی کئی وجوہات ہیں۔سب سے بڑی وجہ سر سید احمد خان کی روشن خیالی،یکسوئی، اپنے ہدف کے تئیں مکمل ایمانداری شمار ہوتی ہے۔ایک اہم بات یہ ہے کہ اب سر سید احمد خان پیغام کی حدود سے باہر نکل چکے ہیں۔ انھوں نے ایک عملی نمونہ ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے جو روشن و معمور ہے جو چاہے اپنے اندھیرے دور کر سکتا ہے۔
فی زمانہ تقریباً ہر شخص واقف ہے کہ تعلیم حاصل کئے بغیر نجات ممکن نہیں ہے لیکن اجتماعی رجحان تعلیم کی طرف نہیں ہو پا رہا ہے ۔ اس کی بڑی وجہ اقتصادی حالات بھی ہیں۔جو طبقہ غربت کے سبب علم سے دور ہے اس کیلئے بڑی اور بے لوث مہم چلانی ہو گی ، اسے یہ سمجھانا ہو گا کہ آج کی زحمتیں اور کلفتیں سہہ لو تاکہ اگلی نسل ایک اچھی اور بہتر زندگی گزار سکے۔اسکول اور کالج کی سطح پر بہترین اساتذہ کا انتخاب لازم ہے۔ اساتذہ کیلئے بھی گاہے بگاہے ورک شاپس ہونی چاہئیں ، انھیں مطالعے کی رغبت اور نئے طریقہ کار سے واقف کرایا جاتا رہے تاکہ وہ کلاسز میں بہترین انداز میں بچوں کو پڑھا سکیں۔
سر سید احمد خان کے زمانے میں نوابین اور انتہائی متمول طبقوں نے جس فراخ دلی سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام اور اس کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا تھا، آج بھی ایسے کامیاب اور مالدار افراد کی تلاش ہونی چاہیے۔ لڑکوں کی تعلیم سے بے توجہی کے اسباب تلاش کرنے ہوں گے ۔ انھیں راغب کرنے کیلئے بھی گھر گھر جا کر کوشش کرنی ہو گی۔بچیوں سے ان کا موازنہ نہیں ہونا چاہئے، اس سے لڑکوں کے مزاج میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے ۔
مادری زبان کی اہمیت و افادیت سمجھانی ہو گی۔ اسی کے ساتھ سائنس اور حساب کے مضامین انگریزی میں پڑھانے ہوں گے تاکہ طلبہ کو دسویں کے بعد پریشانی نہ ہو ۔اسکولوں کے پرنسپلوں کو چاق و چوبند رہنا ہو گا ۔
سر سید احمد خان نے بڑے جتن سے اتنا بڑا ادارہ ایسے ہی نہیں بنایا، سجایا اورسنوارا۔ اس کیلئے طعنے سہے، دھکے کھائے لیکن لوگوں سے مدد کی اپیل کرتے رہے۔ایک بڑا طبقہ ان کا مخالف بھی ہوا حالانکہ انھوں نے جو خواب دیکھا اس میں ان کا اپنا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ وہ قوم و ملت کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھے اور صرف یہی ایک جذبہ ایسا تھا جس نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسا تاج محل قوم و ملت کو عطا کیا ۔آج کے ہمارے قائدین کے سامنے صرف پیغام نہیں ہے، علی گڑھ میں عمارتوں کے در و دیوار پر ان کا نصب العین سنہری حروف سے لکھا ہوا ہے کہ بے لوث خدمات سے مشکل ترین کام بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔ ایسے خدمت گزار آج بھی ہیں بس ایک آغاز کی ضرورت ہے ۔
عرفان جعفری (مشہور شاعر اور ناظم، کوسہ ممبرا)