شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) سنت کی رکعت میں سورۃ۔ (۲) سلام کا جواب۔ (۳) طلاق کا سوال۔ (۴) قرآن پاک اور فدیہ۔
EPAPER
Updated: October 17, 2026, 5:07 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) سنت کی رکعت میں سورۃ۔ (۲) سلام کا جواب۔ (۳) طلاق کا سوال۔ (۴) قرآن پاک اور فدیہ۔
سنت کی رکعت میں سورۃ
زید ظہر کی چار سنتیں پڑھتا ہے، پہلی دو رکعتوں میں الحمد کے بعد سورہ ملاتا ہے اور بعد کی دو رکعتوں میں الحمد کے بعد تین مرتبہ سبحان اللہ کہتا ہے۔ کیا اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟ اگر بعد کی رکعات میں سورت نہ ملائے تو کیا حکم ہے ؟ محمد لقمان ،یوپی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: سنت کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ضم سورہ کا حکم ہے چنانچہ چار رکعت والی سنتوں میں بھی سورہ فاتحہ کے بعد سورہ ملائی جائیگی۔ سوال میں جو تفصیل درج ہے وہ صحیح طریقہ نہیں۔ سنتوں میں کسی بھی رکعت میں تسبیح پر اکتفا درست نہیں البتہ چار رکعت والی فرض نمازوں کا یہ حکم ہے کہ پہلی دو رکعتوں میں سورہ ملانا تو واجب ہے لیکن دو کے بعد سورہ ملانے کا نہ حکم ہے نہ مزید قرأت کی کوئی حد لہٰذا فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں بجائے سورہ ملانے کے تسبیح(سبحان اللہ)بھی کافی ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: رومن رسم الخط اور دعائیہ جملے، شرعی مسافر اور شک، فدیہ کے تعلق سےایک سوال
سلام کا جواب
اگر کوئی شخص کسی کو بذریعہ میسج سلام (السلام علیکم ...)لکھ کر بھیجتا ہے تو جس شخص کو سلام بھیجا گیا ہے اس شخص کو اس تحریری سلام کا زبانی جواب دینا چاہئے یا لکھ کر ہی دینا چاہئے، دونوں میں سے کسی ایک طریقے سے سلام کا جواب دینا کافی ہوگا یا نہیں؟ عبد اللہ ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: سلام کرنا مسنون اور اس کا جواب دینا واجب ہے۔ سلام کے متعلق مسائل میں بڑی تفصیل ہے۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ ان کے سلام کا جواب واجب ہے جو واقعی ملاقات کے مقصد سے آکر سلام کریں۔ اسے سلام تحیہ کہا جاتا ہے۔ جن کا مقصد ملاقات نہ ہو ان کا جواب واجب نہیں جیسے سائل (بھکاری) دروازے پر آکر سلام کرے تو ظاہر ہے اس کا مقصد سوال ہے نہ کہ ملاقات۔ علماء نے لکھا ہے یہ سلام تحیہ نہیں ہے اس لئے جواب واجب نہ ہوگا (لیکن منع بھی نہیں)۔ مجلس میں آنے والا زبانی سلام کرے تو زبانی جواب دیا جائے، اس کا تحریری جواب دینے کی ضرورت نہیں ۔زبانی جواب میں یہ ضروری نہیں کہ سلام کرنے والا دور ہو تب بھی اسے جواب سنا ئی دے بلکہ صاف لفظوں میں بآواز بلند اس طرح جواب دے کہ قریب موجود لوگ سن سکیں ۔
تحریر کے متعلق علماء نے لکھا ہے کہ الکتاب کالخطاب یعنی لکھا ہوا بھی خطاب کی طرح ہے لیکن تحریری سلام کا تحریری جواب ضروری نہیں (کیونکہ ممکن ہے جوابی تحریر مخاطب تک کسی وجہ سے نہ پہنچ سکے) اس لئے تحریر پڑھ کر زبانی جواب دے دے پھر بہتر یہ ہے کہ تحریری جواب بھی بھیج دے۔ وہاٹس ایپ وغیرہ بھی تحریر ہیں اگر انفرادی میسج ہو تو اس کے جواب کا وہی طریقہ ہے کہ زبانی جواب سے اسی وقت سبکدوش ہوجائے پھر تحریری میسج بھی بھیج دے۔ عام میسج میں ہر شخص مکلف نہیں لیکن زبانی جواب دےدینا بہتر اور کافی ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
طلاق کے تعلق سے ایک سوال
شوہر نے بیوی سے تین لوگوں کی موجودگی میں کہا ’’آج میں آپ لوگوں کو گواہ بنا کر اس کو پہلی طلاق دے رہا ہوں‘‘ درمیان میں اس کو کسی نے کہا بھائی رک جاؤ مگر اس نے بات نہیں سنی، پھر اس نے دوبارہ یہی الفاظ کہے۔ کسی نے اس کو اس بار بھی روکا مگر وہ نہیں رکا اور تیسری بار بھی یہی الفاظ کہہ دیئے۔ شوہر نے مزید کہا کہ دوسرا اور تیسرا طلاق جب تجھے چاہئے جب تیری رضا ہوگی تب لے لینا، میں دوسرا اور تیسرا بھی دے دوں گا۔ سوال یہ ہے کہ ان الفاظ سے کون سی طلاق واقع ہوگی ؟ نور الامین ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: وقوعِ طلاق کے لئے انشاء طلاق شرط ہے۔ شوہر اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نیت اس کو مخاطب کرتے ہوئے یا اس کا نام لے کر یہ کہے کہ میں تجھے یا فلاں کو طلاق دیتاہوں یا طلاق دی، ان الفاظ سے طلاق کا ارادہ واضح ہے اس لئےطلاق واقع ہو جائیگی۔ اسکے برخلاف اگر طلاق کے مسائل کا ذکر ہو یا کسی کو سمجھانے کی غرض سے مسائل طلاق کو دہرائے تو یہ حکایت طلاق ہوگی اور اس سے طلاق واقع نہ ہوگی۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے کہ کسی نے بیوی سے کہاتجھے طلاق۔ حاضرین میں سے کسی نے پوچھا کیا کہا؟ شوہر نے کہا میں نے اسے طلاق دی ہے یا یہ کہا کہ میں نے کہا ہے کہ اسے طلاق تو اس صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہوگی (کیونکہ یہ حکایت طلاق ہے انشائے طلاق نہیں) صورت مسئولہ میں شوہر حاضرین کی موجودگی میں یہ کہہ رہا ہے کہ میں نے ایک طلاق دی ہے پھر اسی کوبطور حکایت دہرارہاہے اور یہ بھی آخر میں کہہ رہا ہے کہ بعد میں جب چاہے دوسری اور تیسری طلاق حاصل کرلے یہ صاف صاف حکایت یعنی نقل ہے انشاء یعنی ارادہ نہیں ہے اس صورت میں تکرار کے باوجودمحض ایک طلاق واقع ہوگی۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
قرآن پاک اور فدیہ
عرض یہ ہے بچی سے قرآن الکریم نیچے گر گیا ہے۔ اس کا فدیہ کیا بنتا ہے اور کس کو دینا چاہئے ؟ بندہ فجر الدین ،میوات
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: قرآن کریم اللہ کا پاک کلام اور دنیا کا سب سے مقدس صحیفہ ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔ اس کا مکمل احترام ایمان کا لازمی تقاضہ ہے لہٰذا اس کے پڑھنے پڑھانے، چھونے، اٹھانے اور رکھنے میں مکمل احتیاط ضروری ہے۔ بندے کی کوتا ہی سے قرآن کریم زمین پر گر جائے یہ بھی بدبختی ہے۔ اس کا کفارہ توبہ و استغفار ہے۔ احتیاط کے باوجود گرجائے تو استغفار بہتر ہے مگر شرعاً اس کا کوئی فدیہ نہیں بتایا گیا۔ اللہ سے معافی مانگے۔ تسلی کی غرض سے کچھ صدقہ دے تو حرج نہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم