Inquilab Logo Happiest Places to Work

تربیت کا سب سے بڑا امتحان !

Updated: July 24, 2026, 3:30 PM IST | Mohammed Tauqeer Rahmani | Mumbai

اس وقت نہیں ہوتا جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ خود فیصلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

موجودہ ڈیجیٹل دور نے تربیت کے میدان کو پہلے سے کہیں زیادہ حساس بنا دیا ہے۔ آج بچے کے ہاتھ میں موجود ایک چھوٹی سی اسکرین اسے لمحوں میں پوری دنیا سے جوڑ دیتی ہے۔ یہ ذریعہ علم کا ذریعہ بھی  بن سکتا ہے اور گمراہی کا راستہ بھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کے ساتھ رہنمائی موجود ہے یا نہیں۔ اگر والدین صرف موبائل چھین لینے کو تربیت سمجھیں تو مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ پابندی وقتی اثر رکھتی ہے، جبکہ صحیح سوچ پوری زندگی کی رہنما بنتی ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ بچے کے اندر اتنی فکری پختگی پیدا کی جائے کہ وہ اچھے اور برے کے درمیان خود فرق کرنے کے قابل ہو جائے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بچے کانوں سے کم اور آنکھوں سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ والدین اگر خود بزرگوں کا احترام کریں، نرم لہجے میں گفتگو کریں، وعدے کی پابندی کریں اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کریں تو یہی تعلیم خاموشی سے بچوں کے دل میں منتقل ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر زبان احترام کا درس دے اور عمل اس کے برعکس ہو تو بچے الفاظ کو نہیں بلکہ کردار کو اختیار کرتے ہیں۔ اسی لئے بہترین تربیت وہ ہے جو نصیحت سے پہلے عملی نمونے کی صورت میں سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’شوہر اور بیوی ایک دوسرے کیلئے لباس ہیں‘‘

چند روز قبل سفر کے دوران ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے دل میں کئی سوالات پیدا کر دیئے۔ صبح کا وقت تھا۔ ایک ضعیف والد نہایت محبت سے اپنی جوان بیٹی کو ناشتے کے لئے جگانے آئے۔ ان کی آواز میں شفقت تھی، مگر جواب میں بیٹی نے جھنجھلاہٹ کے ساتھ کہا:’’مجھے ناشتہ نہیں کرنا، بار بار کیوں مجھے پریشان کر رہے ہیں؟‘‘ الفاظ مختصر تھے، لیکن ان کے اندر چھپی بے زاری بہت گہری تھی۔ سفر ابھی جاری تھا اور پورے راستے اسی چڑچڑے پن اور سخت مزاجی کا بار بار مشاہدہ ہوتا رہا۔ اس ایک واقعے نے یہ احساس مزید مضبوط کر دیا کہ اولاد کو صرف تعلیم یافتہ بنانا کافی نہیں، بلکہ ادب، احترام، خوش مزاجی اور نرم دلی سکھانا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے، کیونکہ علم انسان کو قابل بنا سکتا ہے، مگر اخلاق ہی اسے محبوب بناتے ہیں۔ 

یہ واقعہ کسی ایک گھر کی کہانی نہیں بلکہ بدلتے ہوئے معاشرے کا آئینہ ہے۔ جب بچوں کو ہر سہولت تو  دی جاتی ہے مگر صبر نہیں سکھایا جاتا، ہر خواہش پوری کی جاتی ہے مگر شکر ادا کرنا نہیں سکھایا جاتا، ہر کامیابی کی تعریف ہوتی ہے مگر بڑوں کی عزت کا شعور پیدا نہیں کیا جاتا، تو شخصیت کے اندر ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جو بعد میں تعلقات کو کمزور کر دیتا ہے۔ پھر والدین حیران ہوتے ہیں کہ اتنی محنت کے باوجود اولاد کے دلوں میں وہ محبت اور احترام کیوں پیدا نہ ہو سکا جس کی وہ امید رکھتے تھے۔

تربیت کا سب سے بڑا امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ خود فیصلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ بچپن میں والدین کا حکم بچے کو خاموش کرا سکتا ہے لیکن جوانی میں صرف وہی تربیت اسے درست راستے پر قائم رکھتی ہے جو برسوں کے کردار، محبت اور حکمت سے اس کے اندر راسخ ہو چکی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تربیت کا اصل مقصد وقتی اطاعت حاصل کرنا نہیں بلکہ ایسی شخصیت تیار کرنا ہے جو تنہائی میں بھی صحیح  اور غلط کے درمیان فرق کر سکے۔ قدرت کا ایک اٹل قانون ہے کہ ہر عمل اپنے انجام کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ کسان اگر بیج بوتے وقت غفلت کرے تو فصل پکنے کے بعد افسوس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح والدین اگر تربیت کے ابتدائی مرحلے میں کوتاہی کریں تو وقت گزرنے کے بعد صرف شکایتیں رہ جاتی ہیں۔ جو بچے بچپن میں والدین کی محبت کے ساتھ ان کا ادب بھی سیکھتے ہیں، وہ جوان ہو کر ان کی لاٹھی بنتے ہیں اور جو صرف اپنی خواہشات کے عادی بنا دیئے جاتے ہیں، وہ اکثر والدین کی ضرورت کے وقت خود کو ان سے دور کر لیتے ہیں۔ اس لئے تربیت کا ہر لمحہ درحقیقت مستقبل میں ہونے والی ملاقات کی تیاری ہے؛ انسان اپنی ہی محنت کا پھل پاتاہے۔

یہ بھی پڑھئے: تقویٰ:خوفِ خدا، عبدیت کا شعور اور جوابدہی کا احساس پیدا کرتا ہے

والدین کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ جس طرح ہر زمین کی ساخت مختلف ہوتی ہے، اسی طرح ہر دل کا مزاج بھی الگ ہوتا ہے۔ کہیں محبت زیادہ اثر کرتی ہے، کہیں نرمی کے ساتھ سمجھانا، اور کہیں خاموشی بھی بہترین نصیحت بن جاتی ہے۔ کامیاب مربی وہ ہے جو صرف حکم دینا نہیں جانتا بلکہ یہ بھی جانتا ہے کہ کس دل تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے۔ سختی اگر محبت سے خالی ہو تو بغاوت پیدا کرتی ہے، اور محبت اگر اصولوں سے خالی ہو تو بے راہ روی کو جنم دیتی ہے۔ اعتدال ہی وہ راستہ ہے جو شخصیت کو مضبوط بناتا ہے۔

ایک صالح معاشرہ قانون سے پہلے گھروں میں بنتا ہے۔ اگر گھروں میں احترام، رحم، ذمہ داری اور حسنِ اخلاق کی بنیاد مضبوط ہو تو معاشرے کو امن دینے کے لئے زیادہ قوانین کی ضرورت نہیں پڑتی۔ لیکن جب گھر تربیت سے خالی ہو جائیں تو پھر ادارے، نصیحتیں اور سزائیں بھی کردار کی اس کمی کو پوری نہیں کر سکتیں جو بچپن میں پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔ اس لئے والدین کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ صرف ایک بچے کی پرورش نہیں کر رہے، بلکہ آنے والے معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ بچوں کو صرف کامیاب انسان بنایا جائے، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ انہیں اچھا انسان بنایا جائے۔ ایسی کامیابی جو انسان کو والدین سے دور کر دے، اس کی زبان سے احترام چھین لے، اس کے دل سے رحم ختم کر دے اور اس کے مزاج میں تکبر پیدا کر دے، وہ کامیابی نہیں بلکہ ایک خوبصورت ناکامی ہے۔ حقیقی کامیابی وہ ہے جس میں علم کے ساتھ حلم، ترقی کے ساتھ تواضع، طاقت کے ساتھ رحم اور احساسِ ذمہ داری بھی موجود ہو۔

یہ بھی پڑھئے: بے پناہ تھاصحابہ کرامؓ کا قرآن مجید سے تعلق !

ایک سوال پر غور کیجئے!

آخر میں ہر والدین اور ہر اولاد کو ایک لمحے کے لئے اپنے دل سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ اگر آج گھر کا ماحول آئندہ نسل کے لئے نمونہ بن جائے تو کیا اس پر فخر کیا جا سکے گا؟ اگر جواب ہاں میں نہیں، تو تبدیلی کا بہترین وقت کل نہیں بلکہ آج ہے۔ کیونکہ بچے نصیحتوں سے کم اور زندگی کے مناظر سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ جو محبت، احترام اور حسنِ اخلاق آج ان کے دلوں میں بویا جائے گا، کل وہی سایہ بن کر والدین پر لوٹے گا۔ تربیت کا ہر اچھا عمل دراصل مستقبل میں اپنے ہی لئے روشنی جمع کرنا ہے، اور یہی روشنی خاندانوں کو بکھرنے سے بچاتی، معاشروں کو سنوارتی اور نسلوں کو عظمت عطا کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK