* نبی کریم ﷺ کے ادب پر آیت اتری تو خود کو گھر میں قید کرلیا! * انفاق کا حکم نازل ہوا تو باغوں کو اللہ کی راہ میں دے دیا! * ترک شراب کا حکم آیا تو گلیوں میں شراب کی ندیاں بہہ گئیں!
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 3:07 PM IST | Dr. Akhtar Hussain Azmi | Mumbai
* نبی کریم ﷺ کے ادب پر آیت اتری تو خود کو گھر میں قید کرلیا! * انفاق کا حکم نازل ہوا تو باغوں کو اللہ کی راہ میں دے دیا! * ترک شراب کا حکم آیا تو گلیوں میں شراب کی ندیاں بہہ گئیں!
قرآن مجید پر ایمان لانے میں پہل کرنے والے اور اوّلین مخاطب صحابہ کرامؓ تھے۔ انھوں نے خود کو کس طرح قرآن کے حوالے کر دیا تھا، اس کا جاننا بہت ضروری ہے البتہ اس کا کچھ اندازہ ذیل کے واقعات سے ہو سکتا ہے:
احترامِ رسولؐ
سورۂ حجرات کی یہ آیات جب نازل ہوئیں:
’’اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبیِ مکرّم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے سارے اعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہو جائیں اور تمہیں (ایمان اور اعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہو۔ بیشک جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں (ادب و نیاز کے باعث) اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اﷲ نے تقویٰ کے لئے چن کر خالص کر لیا ہے۔ ان ہی کے لئے بخشش ہے اور اجر عظیم ہے۔‘‘ (الحجرات : ۲-۳)
تو ان آیات کے نزول کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: ’’یارسولؐ اللہ! اللہ کی قسم، اب تومیں آپؐ سے اس طرح بات کیا کروں گا جس طرح کوئی سرگوشی کرتا ہے۔‘‘ (مستدرک حاکم، ۲/۴۶۲، بحوالہ تفسیر ابن کثیر)
ان آیات کے نزول کے بعد حضرت ثابتؓ بن قیس انصاری کئی دن تک حضورؐ کی مجلس میں دکھائی نہ دیئے۔ آپؐ نے اہل مجلس سے ان کے بارے میں دریافت کیا تو ایک شخص نے کہا: یارسولؐ اللہ میں ان کے بارے میں آپؐ کو بتلائوں گا۔ وہ صحابی حضرت ثابتؓ بن قیس کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ سرجھکائے بیٹھے ہیں۔ پوچھا: کیا حال ہے؟ جواب ملا: برا حال ہے۔میری آواز حضوؐر کی آواز سے بلند ہوتی تھی، میرے اعمال تو برباد ہو گئے اور میں جہنمی ہو گیا۔ یہ صحابی حضوؐر کے پاس آئے اور ماجرا عرض کیا۔ حضوؐر نے فرمایا: ’’تم واپس جائواور انھیں خوشخبری دو کہ تم جہنمی نہیں، جنّتی ہو۔‘‘ (صحیح بخاری،کتاب التفسیر، مسنداحمد ۳/۱۳۷، بحوالہ تفسیر ابن کثیر، ۵ /۱۷۴)
یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا پر ’منقول‘ کلچر اور قباحت
انفاق فی سبیل اللہ
مال ہر انسان کو محبوب اور مرغوب ہے، اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْد (العادیات :۸) یہ انسان کو سہولتیں مہیا کرنے کا بھی ذریعہ ہے اور سماجی حیثیت (Status) کے اظہار کا بھی۔ صحابہ بھی انسان تھے۔ انھیں بھی ان چیزوں کی ضرورت تھی لیکن جب قرآن کا حکم آیا تو انھوں نے خرچ کرنے سے دریغ نہ کیا:
’’تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ تم اپنی وہ چیزیں (راہِ خدا میں) خرچ نہ کرو جنھیں تم محبوب رکھتے ہو۔‘‘
(آل عمران:۹۲)
حضرت ابوطلحہ انصاریؓ مال دار صحابی تھے۔ مسجد نبویؐ کے سامنے بیرحاء نام کا ان کا ایک باغ تھا جس کا خوش ذائقہ پانی نوش کرنے کے لئے حضوؐر بھی تشریف لے جایا کرتے تھے۔ جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوطلحہؓ نے بارگاہِ رسالتؐ میں عرض کیا: ’’یارسولؐ اللہ! میرا سب سے زیادہ پیارا مال یہ باغ ہے۔ میں آپؐ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کردیا۔ اللہ مجھے نیکی عطا فرمائے۔‘‘ (بخاری و مسلم، کتاب الزکوٰۃ، مسنداحمد)
حضرت عمرفاروقؓ نے خدمت نبویؐ میں عرض کیا کہ ’’مجھے اپنے تمام مال میں سب سے زیادہ محبوب و مرغوب چیز خیبر کی زمین کا قطعہ ہے، میں اسے راہِ خدا میں دینا چاہتا ہوں، فرمائیے کیا کروں؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’اسے وقف کردو۔‘‘ (بخاری، مسلم، کتاب الوصایا)
اللہ کو قرض دے دیا!
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’کون ہے جو اللہ کو قرض دے، بہترین قرض۔ ‘‘ (الحدید: ۱۱)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوالدحداح انصاریؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے؟ حضورؐ نے جواب دیا: ہاں۔ ابودحداحؓ نے یہ سن کر عرض کیا: ’’ذرا اپنا ہاتھ میری طرف کیجئے۔‘‘ آپؐ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا تو انھوں نے آپؐ کا دست مبارک اپنے ہاتھ میں تھاما اور کہا: ’’میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض دے دیا۔‘‘
حدیث کے راوی حضرت عبداللہؓ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس باغ میں کھجور کے چھ سو درخت تھے۔ اس میں ان کا گھر بھی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کرکے وہ سیدھے باغ میں پہنچے اور گھر کے دروازے پر کھڑے کھڑے بیوی کو پکار کر کہا: ’’اے دحدح کی ماں! بچے کو لے کر باہر نکل آئو۔ یہ باغ میں نے اللہ کو قرض دے دیا ہے۔‘‘ یہ سن کر اس اللہ کی بندی نے بڑی خوش دلی سے کہا:’’اے دحدح کے باپ! تم نے بڑے نفع کا سودا کیا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے انھوں نے اپنے بچے اور سامان کو لیا اور باغ سے باہر نکل آئیں۔(ابن ابی حاتم، تفسیر ابن کثیر)
یہ بھی پڑھئے: ؕسورۃ الحجرات کی حیثیت جامع دستور کی ہے اتحادِ اُمت کیلئے
ترکِ شراب نوشی
لذت پرستی بالخصوص نشہ آوری کی لت سے جان چھڑانا بڑی قوت ارادی سے ہی ممکن ہے۔ شراب نوشی عرب کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے جب سورۂ مائدہ کی آیت ۹۰؍ میں شراب سے اجتناب کا حکم دیا کہ ’’اے ایمان والو! بیشک شراب اور جُوا اور نصب کئے گئے بُت اور فال کے تیر (سب) ناپاک شیطانی کام ہیں۔‘‘ اور اس کی حرمت کی علّت بتاتے ہوئے ان سے سوال کیا: ’’پس کیا اب تم اس سے باز آجائو گے؟‘‘ (مائدہ:۹۱)
حضرت عمرؓ نے یہ الفاظ سنے تو بے اختیار پکار اٹھے: انتھینا انتھینا ’’ہم باز آ گئے، ہم باز آ گئے۔‘‘ (بحوالہ: مسنداحمد،سنن ابی داؤد، ترمذی)
اس حکم پر کس قدر فوری عمل ہوا، حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ انصاریؓ کے گھر پر میں ابوعبیدہؓ بن جراح، ابیؓ بن کعب، سہیلؓ بن بیضاء اور دیگر صحابہ کی ایک جماعت کو شراپ پلا رہا تھا۔ لذتِ شراب سے سب لطف اندوز ہو رہے تھے۔ قریب تھا کہ نشے کا پارا چڑھ جائے۔ اتنے میں کسی صحابی نے آکر خبر دی کہ تمہیں علم نہیں کہ شراب حرام ہو گئی ہے؟ یہ سنتے ہی ابو طلحہؓ نے کہا: انسؓ بس کرو اور جو باقی بچی ہے، اسے بہا دو۔ اللہ کی قسم! اس کے بعد ایک قطرہ بھی ان میں سے کسی کے حلق میں نہیں گیا۔ میں نے دیکھا کہ مدینہ کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی ہے۔ (مسنداحمد، بخاری و مسلم،کتاب الاشربہ و کتاب التفسیر)
سورۂ حشر کی آیت۹؍’’ جو بھی اپنے نفس کی حرص سے بچ جائیں تو وہی لوگ کامیاب ہیں‘‘ کی تفسیر میں امام ابن کثیرؓ نے ابن جریر کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ حضرت ابوالہیاج اسدیؒ فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک صاحب صرف یہی دُعا بار بار پڑھ رہے ہیں: ’’اے اللہ! مجھے میرے نفس کی حرص سے بچا لے۔‘‘ آخر مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں نے کہا کہ آپ صرف یہی دعا کیوں مانگ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جب اس سے بچائو ہو گیا تو پھر نہ زنا کاری ہوسکے گی، نہ چوری اور نہ کوئی اور برا کام۔ اب جو میں نے دیکھا تو وہ حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف تھے۔
قسم سے رجوع
کسی بھلائی کے نہ کرنے کی قسم کھانا ایک اظہار ہوتا ہے کہ جس شخص کے ساتھ وہ بھلائی نہیں کی جائے گی، اس سے آدمی کو حد درجہ نفرت ہے یا اس سے قسم کھانے والے کی سخت دلآزاری ہوئی ہے۔ صحابہ نے بھی ایسی قسمیں کھائیں لیکن جب قرآن مجید میں اس کے برعکس حکم آگیا تو ان کی کیفیت کیا ہوتی تھی؟
اُم المومنین حضرت عائشہؓ پر جب منافقین نے تہمت لگائی تو ان کے پروپیگنڈے کے زیر اثر حضرت ابوبکرؓ کی خالہ زاد بہن کے بیٹے مسطحؓ بن اثاثہ بھی الزام لگانے والوں میں شامل ہو گئے۔ حالانکہ حضرت ابوبکرؓ مسطحؓ اور ان کی والدہ کی مالی کفالت کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب اللہ نے (سورۃ النور میں) میری برأت نازل فرما دی تو حضرت ابوبکرؓ نے قسم کھائی کہ آئندہ وہ مسطحؓ بن اثاثہ کی مدد نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے نہ رشتہ داری کا لحاظ کیا اور نہ ان احسانات کی لاج رکھی جو ساری عمر ابوبکرؓ ان پر اور ان کے خاندان پر کرتے رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: دُنیا سے محبت اور ظلم کے خلاف خاموشی ہماری زبوں حالی کا سبب ہیں!
اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی:
’’اور تم میں سے (دینی) بزرگی والے اور (دنیوی) کشائش والے (اب) اس بات کی قَسم نہ کھائیں کہ وہ (اس بہتان کے جرم میں شریک) رشتہ داروں اور محتاجوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو (مالی امداد نہ) دیں گے انہیں چاہئے کہ (ان کا قصور) معاف کر دیں اور (ان کی غلطی سے) درگزر کریں، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے، اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ (سورہ النور: ۲۲)۔ یہ الفاظ سنتے ہی ابوبکرؓ نے کہا: بَلٰی اَنَـا نُحِبُّ اَن تَغْفِرَلَنَا یَا رَبَّنَا، کیوں نہیں! واللہ ہم ضرور چاہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو ہماری خطائیں معاف فرما دے۔ چنانچہ آپؓ نے مسطحؓ بن اثاثہ کی مدد بحال کر دی اور ان پر پہلے سے بھی زیادہ احسان کرنے لگے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی یہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے علاوہ یہ قسم بعض دیگر صحابہ نے بھی کھائی تھی کہ جن جن لوگوں نے اس بہتان میں حصہ لیا ہے، ان کی وہ مدد نہ کریں گے۔ اس آیت کے نزول کے بعد ان سب نے اپنی قسم سے رجوع کر لیا۔(تفسیر ابن کثیر، ۳/ ۵۹۹، تفہیم القرآن ۳/ ۳۷۲)
صحابیات کی کیفیت
اظہارِ حُسن کے لئے بنائو سنگھار کرنا عورت کی عمومی عادت ہے۔ہر دور میں مردوں کی نسبت عورتیں فیشن کی زیادہ دلدادہ رہی ہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں عورتیں اپنے سینوں پر کوئی اوڑھنی نہ ڈالتی تھیں۔ گردن، بال، چوٹی اور بالیاں وغیرہ صاف نظر آتی تھیں۔
جب سورۂ نور کی آیت ۳۱ : ’’اور وہ اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے سینوں پر ڈالے رہیں‘‘ نازل ہوئی تو خواتین نے اس پر کس طرح فوری عمل کیا، وہ حضرت عائشہ کے الفاظ میں سنئے، فرماتی ہیں:
’’اللہ تعالیٰ اوّلین مہاجر عورتوں پر رحم کرے کہ جب اللہ کا فرمان (مذکورہ آیت) نازل ہوا تو انہوںنے اپنی بڑی بڑی چادروں کو پھاڑا اور انہیں اوڑھنیاں بنا لیا۔ بعض نے اپنے تہمد کے کنارے کاٹ کر ان سے سر ڈھانپ لیا۔‘‘ (بخاری)
انصار خواتین بھی قرآنی حکم پر من و عن عمل کرنے میں تاخیر کرنے والی نہ تھیں۔ حضرت عائشہؓ ہی فرماتی ہیں: ’’بلاشبہ قریش کی عورتوں کے لئے بڑی فضیلت ہے اور اللہ کی قسم! میں نے انصار کی خواتین سے بڑھ کر کوئی عورت اللہ کی کتاب کی تصدیق اور نازل شدہ احکام پر ایمان لانے والی نہیں دیکھی۔ اللہ نے سورۂ نور میں آیت وَلْيَضْرِبْنَ تا الخ نازل فرمائی تو ان کے مرد گھروالوں کی طرف لپکے اور جو حکم نازل ہوا، وہ انہیں سنایا تو ہر عورت اپنے نقش و نگار والی بڑی چادر کی طرف لپکی اور اللہ نے اپنی کتاب میں جو نازل کیا تھا، اس کی تصدیق کرتے اور ایمان لاتے ہوئے اپنے سروں کو اوڑھنیوں سے ڈھانپ لیا۔ جب انھوں نے اگلی صبح اللہ کے رسولؐ کے پیچھے نماز فجر ادا کی تو دیکھا گیا کہ سب عورتوں نے خود کو ڈھانپا ہوا ہے۔ وہ ایسی لگتی تھیں گویا ان کے سروں پر کوّے بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘
(تفسیر ابن ابی حاتم، رقم: ۱۴۴۰۶)
سورۂ احزاب کی آیت ۵۹: ’’اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں‘‘ نازل ہوئی تو خواتین مدینہ نے اس پر کیسے عمل کیا، اس بابت اُم المومنین حضرت اُم سلمہؓ فرماتی ہیں کہ اس آیت کے اُترنے کے بعد انصار خواتین جب گھر سے باہر نکلتی تھیں تو اس طرح سکون اور اطمینان سے چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ وہ سیاہ چادریں اپنے اوپر اُوڑھ لیا کرتی تھیں۔(سنن ابوداؤد، کتاب اللباس، تفسیرابن کثیر)