• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں غیر معیاری کھانے کے خلاف طالبات کا تیسرے دن بھی احتجاج

Updated: September 12, 2026, 9:04 PM IST | New Delhi

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے جے اینڈ کے ہاسٹل کی طالبات نے میس میں مبینہ طور پر غیر معیاری اور خراب کھانا فراہم کئے جانے کے خلاف احتجاج کیا، جس کے باوجود مسئلہ حل نہ ہونے کا الزام ہے۔ طالبات کا کہنا ہے کہ شکایات کے ازالے کے بجائے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مطالبات پر تاحال کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔

The students have demanded action against the hostel administration. Photo: X
طالبات نے ہاسٹل انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تصویر: ایکس

یہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طالبات کےجموں اینڈ کشمیر ہاسٹل کے میس میں لمبے عرصے سے غیر معیاری کھانا دیا جا رہاہے۔ طالبات نے الزام لگایا ہے کہ متعدد بار کھانے میں کیڑے مکوڑے نکلتے ہیں، کبھی خراب کھانا دیا جاتا ہے تو کبھی کھانے میں استعمال ہونے والی اشیاء بہت غیر معیاری قسم کی ہوتی ہیں جس کے سبب طلبہ کی صحت بڑے پیمانے پر متاثر ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اسی ضمن میں جمعرات کی رات ۳؍ بجے تک طالبات نے یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کیا جس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے ان کے مطالبات کو سنا گیا اور اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ جلد ہی ضروری اقدام کئے جائیں گے۔ لیکن اب بھی اس معالے کا کوئی حل نہیں  ہوا الٹادھرنےپر بیٹھی طالبات کو ہراساں کیا جا رہا ہے، گزشتہ شب بھی طالبات رات بھر احتجاج پر بیٹھی رہیں ۔ 
ایک طالبہ، جو اسی ہاسٹل میں مقیم ہیں اور اس احتجا ج میں مکمل طور پر سرگرہیں، انہوں نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کی رات کو انہیں میس میں جو کھانا دیا گیا اس میں کیڑے موجود تھے، جس کی شکایت انہوں نےانتظامیہ سے کی، لیکن سوائے یقین دہانی کے کچھ حاصل نہ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب یہ بات ان کی والدہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے انتظامیہ کو فون پر اس معاملے کی شکایت کی جس کے بعد کھانے کے معیار کوسدھار نے کے بجائے طالبہ کوہی ہراساں کیا گیا، ان کی غیر موجودگی میں ان کے کمرے کی تلاشی لی گئی اور ان کے ساتھ بدتمیزی بھی کی گئی۔ بارہا شکایات کے بعدبھی جب یہ معاملہ حل نہ ہوا تو طالبات نے جمعرات کو دیر رات کیمپس میں احتجا ج شروع کیا اور مسلسل تین دن سے طالبات دھرنے پر ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: برکس لیڈروں کی فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت، یوکرین جنگ کےخاتمے کا مطالبہ

ایک دوسری طالبہ گائتری ادھیکاری، جو ماس میڈیا کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اس احتجاج میں شامل ہیں ، انہوں نے کہا کہ جمعرات کو رات ۳؍ بجے تک احتجاج جاری رہا، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے مطالبات سنے اور اسے حل کرنے سے متعلق یقین دہانی کرائی۔ لیکن اس کے بعد جمعہ کی صبح بھی یہی مسئلہ رہا طالبات کو ہاسٹل میں نہ ناشتہ ملا اور نا ہی دوپہر کھانا۔ گائتری نے مزید بتایا کہ ہاسٹل میں میس کے ٹھیکیدار کو گزشتہ چار سالوں سے بدلا نہیں گیا تھاجبکہ ہاسٹل کی فیس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اس کے برعکس سہولیات وہیں کی وہیں ہیں۔ 
معاملہ حل نہ ہونے پرطالبات نے جمعہ کو بھی احتجاج جاری رکھا، اس بابت جامہ کیمپس میں دیگر طلباءتنظیموں سے جڑے طلبہ و طالبات نے بھی جے اینڈ کے ہاسٹل کی طالبات کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتےہوئے احتجاج میں حصہ لیالیکن اسی دوران یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جبرا احتجاج کو ختم کرانے کی کوشش کی گئی۔ طالبات نے الزام لگایا کہ ڈپٹی پراکٹرمسعود عالم نے گارڈز کے ساتھ مل کر طالبات کے ساتھ بد تمیزی کی اور جو طالبات اس پورے معاملے کا ویڈیو بنا رہے تھےان سے موبائل چھیننے اوان پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی۔ طالبات کے مطابق ان سب حالا ت کے بعد بھی احتجاج مسلسل رات بھر جاری رہا۔ طالبات نے یہ بھی بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو یہ بات معلوم تھی کہ کیمپس میں احتجاج جاری ہے، تو بجائے اس کے کہ طالبات کے مطالبات کو سنا جائے، انتظامیہ نے بجلی بند کر دی۔ طالبات نے اس اقدام کو من مانہ قرار دیتےہوئے ہاسٹل کے وارڈن کے استعفے کابھی مطالبہ کیاہے۔

یہ بھی پڑھئے: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گرلز ہاسٹل میں غیر معیاری کھانا ملنے پر طالبات کا احتجاج

دیار ِ شوق اسٹوڈنٹس چارٹر، جو جامعہ کی تمام طلبہ کا مشترکہ یونین ہے، نے کہا کہ جامعہ انتظامیہ کو چاہئے کہ طالبات کے مسائل کو سنے اور اس کو حل کرنے کیلئے اقدامات کرے لیکن یہاں طالبات کی آواز دبانے کی کوشش کی جارہی ہے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ جب سہولیات کو جلد بہتر نہیں کیا جاتاتب تک وہ اپنے دھرنے کو جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ باالخصوص جے اینڈ کے ہاسٹل کاہے۔ فی الحال انتظامیہ کی جانب سے طالبات سے کوئی بات نہیں کی گئی ہےاور نہ ہی اب تک کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK