Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’شوہر اور بیوی ایک دوسرے کیلئے لباس ہیں‘‘

Updated: July 24, 2026, 3:23 PM IST | Rafiq Qazi | Mumbai

اتنی واضح آیت کے باوجود ہمارے معاشرے میں ایک ایسی برائی خاموشی سے جڑ پکڑ رہی ہے جسے بہت سے لوگ گناہ ہی نہیں سمجھتے۔ دوستوں کی محفلوں میں، چائے خانوں میں، سفر کے دوران یا تفریحی نشستوں میں بعض لوگ اپنی ازدواجی زندگی کے ایسے پہلو بیان کرتے ہیں جن پر بات چیت بھی صرف میاں بیوی کے درمیان ہونا چاہئے۔

It should be remembered that a wife is not just a life partner but a trust given by Allah Almighty. Photo: INN
یاد رہنا چاہئے کہ بیوی صرف زندگی کی ساتھی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی امانت ہے۔ تصویر: آئی این این

اسلام ایک ایسا پاکیزہ دین ہے جو انسان کی عبادت ہی نہیں بلکہ اس کی نجی زندگی، گھریلو تعلقات، معاشرتی رویّوں اور گفتگو کے آداب کی بھی  رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام نے جس طرح والدین، اولاد، پڑوسی اور دوستوں کے حقوق بیان کیے ہیں، اسی طرح میاں بیوی کے تعلق کو بھی ایک مقدس امانت قرار دیا ہے۔ اس تعلق کی بنیاد محبت، اعتماد، پردہ داری اور باہمی احترام پر قائم  رہتی ہے۔

قرآنِ کریم نے میاں بیوی کے تعلق کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان فرمایا:

’’وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔‘‘(سورۂ البقرہ:۱۸۷)

لباس انسان کے جسم کو ڈھانپتا  ہے، اس کی زینت  بنتا ہے اور اسے سردی و گرمی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کی عزت، راز اور کمزوریوں کے محافظ ہیں، نہ کہ انہیں دوسروں کے سامنے بیان کرنے والے۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک ایسی برائی خاموشی سے جڑ پکڑ رہی ہے جسے بہت سے لوگ گناہ ہی نہیں سمجھتے۔ دوستوں کی محفلوں میں، چائے خانوں میں، سفر کے دوران یا تفریحی نشستوں میں بعض لوگ اپنی ازدواجی زندگی کے ایسے پہلو بیان کرتے ہیں جن پر گفتگو  صرف میاں بیوی کے درمیان ہونا چاہئے۔ یہ گفتگو عموماً مذاق، بے تکلفی یا محفل کو گرم رکھنے کے نام پر کی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ حیا، شرافت اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تقویٰ:خوفِ خدا، عبدیت کا شعور اور جوابدہی کا احساس پیدا کرتا ہے

کبھی کوئی شخص اپنی بیوی کی نجی عادات بیان کرتا ہے، کبھی ازدواجی تعلقات کے بارے میں ایسی باتیں کہتا ہے جنہیں سن کر محفل قہقہوں سے گونج اٹھتی ہے۔ بظاہر یہ چند لمحوں کی تفریح ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک پاکیزہ رشتے کی حرمت کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ایسی گفتگو نہ صرف زبان کا گناہ ہے بلکہ دوسروں کے دلوں میں ایسے خیالات پیدا کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے جن سے اسلام نے سختی سے منع فرمایا ہے۔

ذرا  ہم اپنی محفلوں کا جائزہ لیں۔ کیا ہماری گفتگو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہے؟ کیا ہم انجانے میں اپنی زبان سے ایسے الفاظ تو ادا نہیں کر رہے جو ہمارے گھروں کی عزت اور اعتماد کو مجروح کر رہے ہوں؟ کیا ہم اپنی شریکِ حیات کو ایک امانت سمجھتے ہیں یا محض محفل کی دلچسپی کا موضوع بنا دیتے ہیں؟

یہ مضمون کسی ایک فرد یا کسی خاص طبقے پر تنقید نہیں، بلکہ ایک ایسی سماجی برائی کی نشاندہی ہے جو رفتہ رفتہ ہماری بے تکلفی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اگر بروقت اس کا احساس نہ کیا گیا تو اس کے اخلاقی، معاشرتی اور خاندانی اثرات نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔

معاشرے میں بعض برائیاں ایسی ہوتی ہیں جو ابتدا میں معمولی مذاق محسوس ہوتی ہیں، لیکن آہستہ آہستہ ایک خطرناک عادت بن جاتی ہیں۔ افسوس کہ دوستوں کی بعض محفلوں میں ازدواجی زندگی سے متعلق گفتگو بھی ایسی نوعیت اختیار کر چکی ہے۔ کچھ لوگ اپنی بے تکلفی کو دوستی کی علامت سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زندگی کے ایسے پہلو بیان کرنے لگتے ہیں جنہیں ہر حال میں پردۂ راز میں رہنا چاہئے۔ بدقسمتی سے بعض لوگ اس قسم کی گفتگو کے ذریعے اپنی مردانگی یا برتری جتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ اپنی شریکِ حیات کی عزت اور پردے کو خود اپنے ہاتھوں مجروح کر رہے ہیں۔ چند لمحوں کی داد اور ہنسی کیلئے وہ ایک ایسی امانت کو مجمع عام کا موضوع بنا دیتے ہیں جس کی حفاظت ان پر فرض تھی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی محفلوں کا ماحول بدلیں۔ اگر دوستوں میں بیٹھے ہوں تو گفتگو علم، اخلاق، معاشرے کی بھلائی اور مثبت موضوعات پر ہو۔ اگر کوئی شخص لاعلمی میں ازدواجی راز بیان کرنا شروع کر دے تو حکمت اور محبت کے ساتھ اسے متوجہ کیا جائے کہ مسلمان کی شان یہ نہیں کہ وہ اپنے گھر کی عزت کو محفل کی دلچسپی بنا دے۔ یہی حقیقی دوستی ہے، اور یہی خیر خواہی بھی۔

یہ بھی پڑھئے: بے پناہ تھاصحابہ کرامؓ کا قرآن مجید سے تعلق !

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض اوقات ایسے لوگ بھی اس قسم کی گفتگو میں شریک ہو جاتے ہیں جنہیں معاشرہ دین دار، باوقار اور بااخلاق سمجھتا ہے۔ اگرچہ کبھی وہ خود ایسی بات نہیں کرتے، لیکن دوسروں کو خاموشی سے سنتے رہتے ہیں، مسکراتے ہیں یا محفل کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ حالانکہ ایک مسلمان کا شیوہ یہ ہے کہ جہاں برائی دیکھے، وہاں اپنی استطاعت کے مطابق اسے روکنے کی کوشش کرے۔ اللہ کے رسولؐنے فرمایا:

’’تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے، اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں اسے برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بیوی صرف زندگی کی ساتھی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی امانت ہے۔ جس عورت نے نکاح کے بندھن کے ذریعے ایک مرد پر اعتماد کیا، اس کی عزت، اس کے راز اور اس کی نجی زندگی کی حفاظت شوہر کی شرعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ یہ مناسب نہیں کہ وہی شخص، جو اس کا محافظ ہے، اپنی زبان سے اس کے وقار کو مجروح کرے۔

ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے، کیونکہ بہت سے فتنے صرف زبان کی بے احتیاطی سے جنم لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’انسان جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے، اس پر ایک نگراں فرشتہ موجود ہوتا ہے۔‘‘ (سورۂ ق:۱۸)

آج ہم اپنے گھروں کی حفاظت مضبوط دروازوں، تالوں اور کیمروں سے کرتے ہیں، لیکن اس سے کہیں زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گھروں کے رازوں کی حفاظت اپنی زبان سے کریں۔ بعض اوقات زبان سے نکلا ہوا ایک جملہ ایسا نقصان پہنچا دیتا ہے جس کی تلافی برسوں تک ممکن نہیں ہوتی۔

آئیے! ہم عہد کریں کہ اپنی محفلوں کو پاکیزہ بنائیں گے، گفتگو کو باوقار رکھیں گے،  اپنی شریکِ حیات کی عزت کی حفاظت کریں گے اور اپنی اولاد کو بھی یہی تعلیم دیں گے کہ حیا ایمان کا حصہ ہے اور ازدواجی زندگی کے راز ایک مقدس امانت ہیں، جنہیں دوسروں کی دلچسپی یا تفریح کا سامان بنانا کسی مسلمان کی شان نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان کی حفاظت کرنے، حیا و عفت کی زندگی گزارنے، اپنے گھروں کی عزت و حرمت کو قائم رکھنے اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا پر ’منقول‘ کلچر اور قباحت

حدیث میں ازدواجی راز کی حفاظت کا حکم

رسول اللہ ﷺ نے ازدواجی رازوں کی حفاظت کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین لوگوں میں وہ شخص ہوگا جو اپنی بیوی کے پاس جائے، وہ اس کے پاس آئے، پھر وہ اس کے راز دوسروں کے سامنے بیان کرے۔‘‘(صحیح مسلم)

یہ حدیث اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔ جس عمل کو بہت سے لوگ معمولی مذاق سمجھتے ہیں، اسے اللہ کے رسولؐ نے قیامت کے دن بدترین اعمال میں شمار فرمایا ہے۔

ایک عمومی رویہ اور اس کا نقصان

بعض اوقات گفتگو کا موضوع براہِ راست ازدواجی تعلق نہیں ہوتا، لیکن انسان بلا ضرورت اپنی بیوی کا ایسا حوالہ دے دیتا ہے جس کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ دینی، سماجی یا روزمرہ کی گفتگو میں بھی اگر کوئی بات بیوی کا ذکر کیے بغیر کہی جا سکتی ہو تو بلاوجہ اس کی نجی عادات کو دوسروں کے سامنے بیان کرنا مناسب نہیں۔ ایک باحیا انسان ہمیشہ یہ سوچتا ہے کہ اگر یہی بات میری غیر موجودگی میں میری اہلیہ کے متعلق کہی جائے تو کیا مجھے پسند آئے گی؟  میں نے اپنی زندگی میں کئی ایسی محفلیں دیکھی ہیں جہاں ابتداء عام گفتگو سے ہوئی، لیکن چند ہی لمحوں میں بات گھریلو رازوں تک پہنچ گئی۔ ایک شخص نے اپنی ازدواجی زندگی کا تذکرہ کیا تو دوسرے نے اس سے بڑھ کر بات کہنے کی کوشش کی، تیسرے نے مزید اضافہ کر دیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری محفل ایک ایسی گفتگو میں مشغول ہو گئی جس سے نہ اللہ راضی ہوتا ہے، نہ اللہ کے رسولؐ۔ اس قسم کی گفتگو کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ سننے والوں کے دلوں میں غیر ضروری تصورات جنم لیتے ہیں۔ جو عورت سب کے نزدیک ایک محترم رشتہ تھی، اس کے بارے میں سوچنے کا انداز بدل سکتا ہے۔ زبان سے اگرچہ احترام کے الفاظ ادا کیے جاتے ہیں، لیکن دل میں پیدا ہونے والے خیالات پر کسی کا اختیار نہیں رہتا۔  یہ بات ہر خاص و عام کو سمجھنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK