نبی اکرمؐ پر درود بھیجنے کے ضمن میں متعدد احادیث اور بے شمار روایات منقول ہیں۔ اکابرین کرام نے ’’درود پاک‘‘ کے مختلف معنی بیان کئے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 08, 2026, 4:18 PM IST | Hkim Mumtaz Hilal Madani | Mumbai
نبی اکرمؐ پر درود بھیجنے کے ضمن میں متعدد احادیث اور بے شمار روایات منقول ہیں۔ اکابرین کرام نے ’’درود پاک‘‘ کے مختلف معنی بیان کئے ہیں۔
نبی اکرمؐ پر درود بھیجنے کے ضمن میں متعدد احادیث اور بے شمار روایات منقول ہیں۔ اکابرین کرام نے ’’درود پاک‘‘ کے مختلف معنی بیان کئے ہیں۔ قرآن کریم کے بائیسویں پارے کے تیسرے رکوع میں ’’یصلون‘‘ کا لفظ آیا ہے، اس کا ترجمہ درود کیا گیا ہے جس کی تشریح میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’یصلون‘‘ سے مراد مدد کرنا، ثناء کرنا اور اعزاز دینا ہے۔ اس کا مطلب اکرام کرنا یا اکرام سے نوازنا بھی ہے اور اس کے ایک معنیٰ دعا کرنے کے بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: چھٹیاں بغیر در و دیوار کا مدرسہ ہیں
حضرت محمد مصطفیؐ اللہ کے آخری نبی ہیں ۔ آپؐ کے ذریعے جو ہدایات مسلمانوں کو ملی ہیں وہ قیامت تک کے لئے ہیں۔ چنانچہ تمام انبیائے کرام کے گروہ میں رسول مقدسؐ کی ذات والا صفات اپنے مرتبے کے لحاظ سے منفرد اور یکتا ہے۔ انبیائے سابقین کی قدر و منزلت اور ان کے مرتبے کا اندازہ ان القاب سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو ان کے محترم ناموں کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ مثلاً حضرت آدم صفی اللہ ، حضرت موسیٰ کلیم اللہ، حضرت عیسیٰ روح اللہ اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے لقب سے ، جبکہ رحمۃ اللعالمین ؐ حبیب اللہ کے لقب سے سرفراز فرمائے گئے۔ ظاہر ہے حبیب یعنی محبوبؐ کی حیثیت سے انبیائے کرام کی برگزیدہ جماعت میں رسول پاکؐ کا مرتبہ و مقام بے مثل و یکتا ہے۔ قرآن عظیم میں جہاں انبیائے کرام کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہے وہاں انہیں مختلف احکامات بھی دیئے گئے ہیں لیکن کسی حکم میں اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں بھی اور فرشتے بھی یہ کام کرتے ہیں، لہٰذا تم بھی یہ کام کرو ۔ حکم کا یہ منفرد انداز صرف اور صرف نبی اکرمؐ کیلئے مخصوص رکھا گیا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں ، اے ایمان والو ، تم بھی آپؐ پر درود بھیجو اور ان کے سامنے سر تسلیم خم کرو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غفلت کو سمجھئے، یہ لاعلمی ہی نہیں باطنی نیند بھی ہے
اللہ کے اس صریح منفرد اور یکتا ارشاد سے یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے کہ درود پڑھنے یا درود بھیجنے کا حکم امت مسلمہ کے ہر فرد کو دیا گیا ہے۔ صرف یہی عمل ایسا ہے کہ جسے اللہ اور اس کے فرشتے بھی انجام دیتے ہیں، اس لئے اللہ پر اور اس کے رسولؐ پر ایمان لانے والوں کے لئے بھی یہ عمل ضروری قرار دیا گیا۔ حضور اکرمؐ نے ارشاد فرمایا ’’ بے شک ، روز حشر لوگوں میں مجھ سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو مجھ پر کثرت سے درود پڑھتا ہے ۔ ‘‘ ایک اور حدیث میں آپ ؐ نے ارشاد فرمایا ’’ جو کوئی مجھ پر درود کی کثرت کرے گا وہ روز قیامت عرش کے سائے میں ہوگا۔‘‘