Inquilab Logo Happiest Places to Work

فکر بدلتی ہے تو کردار بدلتا ہے، کردار بدلتا ہے تو معاشرہ

Updated: July 24, 2026, 3:52 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

قرآن مجید میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ’’اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود کو نہ بدلے‘‘ اس کے باوجود ہم میں کتنے ہیں جو فکر کرتے ہیں؟

Islam encourages the pursuit of knowledge, learning new languages, adopting useful sciences and arts, acting wisely and strategically, and benefiting from the experiences of the world. Photo: INN
اسلام نے علم حاصل کرنے، نئی زبانیں سیکھنے، مفید علوم و فنون اپنانے، حکمت و تدبیر سے کام لینے اور دنیا کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ تصویر: آئی این این

انسان کی زندگی دراصل اس کی سوچ کا آئینہ ہوتی ہے۔ جس ذہن میں امید، ایمان، مقصد اور خیرخواہی کے چراغ روشن ہوں، وہاں کردار نور سے بھر جاتا ہے، فیصلے  درست ہوتے ہیں اور منزلیں آسان ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس جب فکر پر مایوسی، تعصب، خواہشِ نفس یا غلط روایات کا غلبہ ہو جائے تو انسان کی صلاحیتیں زنگ آلود ہو جاتی ہیں اور اس کی زندگی کا رخ بگڑ جاتا ہے۔ اسی لئے ہر حقیقی انقلاب کا آغاز انسان کے باطن سے ہوتا ہے، اور باطن کی اصلاح کا پہلا زینہ سوچ کی اصلاح ہے۔ روحانی اعتبار سے بھی دل، عقل اور فکر انسان کے وجود کا مرکز ہیں۔ جب دل ایمان سے منور ہوتا ہے، عقل وحی کی رہنمائی قبول کرتی ہے اور فکر حق کے سامنے جھک جاتی ہے تو پوری زندگی عبادت، خدمت اور خیر کا پیکر بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ظاہری اعمال سے پہلے انسان کے اندر کی دنیا کو سنوارنے پر سب سے زیادہ توجہ دی، کیونکہ جب فکر بدلتی ہے تو کردار بدلتا ہے، کردار بدلتا ہے تو معاشرہ بدلتا ہے، اور معاشرہ بدلتا ہے تو تاریخ کا دھارا تبدیل ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، ہماری کامیابی کا پہلا اصول اتحاد اور قرآن و سنت سے وابستگی ہے

قرآن مجید اور احادیثِ نبویہؐ  کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی بنیادی دعوت ہی انسان کی سوچ، فکر اور زاویۂ نگاہ کو بدلنا ہے۔ قرآن بار بار انسان کو غور و فکر اورتدبر کی دعوت دیتا ہے: ’’کیا یہ قرآن میں غور نہیں کرتے؟‘‘ (النساء: ۸۲)  اور ’’تاکہ تم عقل سے کام لو۔‘‘ (البقرہ:۷۳)  جیسے ارشادات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اسلام اندھی تقلید نہیں بلکہ شعوری ایمان چاہتا ہے۔ اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے۔‘‘ (الرعد:۱۱) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انسان کے باطن کی اصلاح کو اصل قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے:’’خبردار! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے، اور وہ دل ہے۔‘‘(بخاری، مسلم)۔ گویا اسلام کی پوری تعلیم انسان کے دل، دماغ اور فکر کی تطہیر سے شروع ہوتی ہے تاکہ انسان کی زندگی ہر اعتبار سے سنور جائے۔

اسی طرح اس سے آگے بڑھ کر قرآن مجید نے ان لوگوں کی سخت مذمت کی ہے جو حق کو صرف اس لئے قبول کرنے سے انکار کر دیتے تھے کہ وہ اپنے آباء و اجداد کی رسموں اور روایات کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے۔ قرآن نے اس طرز عمل کو اس طرح بیان کیا ہے: ’’ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔‘‘(الزخرف:۲۳) اس طرز عمل کا رد ایک مقام پر اس طرح ہے:’’کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ عقل رکھتے ہوں اور نہ ہدایت پر ہوں تب بھی؟‘‘ (البقرۃ:۱۷۰) 

بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں بھی ایسے بہت سے افراد موجود ہیں جو اپنی پرانی، غیر علمی اور غلط سوچ کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ اگرچہ قرآن و سنت کی روشن تعلیمات ان کے سامنے آ جاتی ہیں، معتبر علماء کی رہنمائی بھی میسر ہوتی ہے اور عقل بھی کسی نئی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے، لیکن وہ صرف اس وجہ سے اپنی سوچ بدلنے کے لئے تیار نہیں ہوتے کہ ’’ہم تو ہمیشہ سے ایسا ہی کرتے آئے ہیں۔‘‘ یہی ذہنی جمود ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسلام انسان کو حق کا تابع بناتا ہے، نہ کہ عادت، ماحول یا معاشرتی دباؤ کا۔ جو شخص حق واضح ہو جانے کے بعد بھی اپنی غلط فکر سے چمٹا رہے، وہ درحقیقت اپنی ترقی کے دروازے خود بند کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’شوہر اور بیوی ایک دوسرے کیلئے لباس ہیں‘‘

اگر ہم مذہبی زاویے سے ہٹ کر محض انسانی تاریخ کا غیر جانبدارانہ مطالعہ بھی کریں تو یہ حقیقت  سامنے آتی ہے کہ دنیا کے تمام عظیم انقلابات پہلے انسانوں کی سوچ میں پیدا ہوئے، پھر عملی زندگی میں ان کے اثرات ظاہر ہوئے۔ علم کی ترقی ہو، سائنسی ایجادات ہوں، معاشرتی اصلاحات ہوں، تعلیمی تحریکیں ہوں یا تہذیبی ارتقاء، ہر بڑی تبدیلی کا آغاز ایک نئے تصور، ایک نئی فکر اور ایک نئے زاویۂ نگاہ سے ہوا۔ جو قومیں اپنی سوچ کو علم، حکمت اور حقیقت کے مطابق ڈھالتی رہیں، وہ ترقی کرتی گئیں، اور جو ماضی کے جمود میں قید رہیں، وہ تاریخ کے حاشیے پر چلی گئیں۔ یہی ایک عالمگیر اصول ہے جسے اسلام نے چودہ سو سال پہلے انسانیت کے سامنے پیش کیا تھا۔

البتہ اسلام یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ہر نئی سوچ قابلِ قبول نہیں ہوتی۔ ہماری فکر کی بنیاد ایمان، اخلاق، تقویٰ اور الٰہی ہدایت پر استوار ہونی چاہئے۔ اگر سوچ مذہبی اور اخلاقی اصولوں سے کٹ جائے تو وہ انسان کو ترقی کے بجائے تباہی کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ اس لئے صحیح فکر پیدا کرنے کے لئے قرآن و سنت کا گہرا مطالعہ، دین کی مستند تعلیم، اہلِ علم کی رہنمائی اور نیک و صالح لوگوں کی صحبت ناگزیر ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تقویٰ:خوفِ خدا، عبدیت کا شعور اور جوابدہی کا احساس پیدا کرتا ہے

تاریخ ِ اسلام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اسلام نے سوچ کی اصلاح اور مثبت فکر کی جو تحریک برپا کی، اسی نے ایک منتشر، کمزور اور پسماندہ قوم کو دنیا کی قیادت عطا کر دی۔ یہی وہ فکر تھی جس نے صحرا نشین عربوں کو علم و حکمت کے امام، عدل و انصاف کا علمبردار، تہذیب و تمدن کا معمار اور انسانیت کا محسن بنا دیا۔ بعد کے ادوار میں بھی جب مسلمان قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی فکر کو تازہ کرتے رہے تو طب، فلکیات، ریاضی، فلسفہ، تعمیرات، تجارت اور حکمرانی سمیت ہر میدان میں دنیا نے ان کی برتری کو تسلیم کیا۔ لہٰذا اگر آج بھی ہم عزت، ترقی، استحکام اور قیادت کا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ کو قرآن و سنت کے نور سے منور کرنا ہوگا، تعصب اور جمود کو چھوڑنا ہوگا، علم و حکمت کو اختیار کرنا ہوگا اور ہر اس مثبت تبدیلی کو قبول کرنا ہوگا جو دین کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔ 

یہی اسلام کا پیغام ہے، یہی انفرادی و اجتماعی اصلاح کا راستہ ہے اور یہی ایک روشن  اور کامیاب مستقبل کی ضمانت ہے۔

یہ ہے اسلام کی تعلیم!

اسلام نے بنیادی عقائد، عبادات اور مسلمہ دینی اصولوں میں پختگی اور استحکام کی تعلیم دی ہے، لیکن ان کے علاوہ زندگی کے تمام شعبوں میں حالات، وسائل اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق مفید تبدیلیوں کو قبول کرنے کی ترغیب دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے علم حاصل کرنے، نئی زبانیں سیکھنے، مفید علوم و فنون اپنانے، حکمت و تدبیر سے کام لینے اور دنیا کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر زمانے کے مفید وسائل اختیار کیے، صحابۂ کرامؓ نے نئے نئے علاقوں میں جا کر وہاں کے حالات کے مطابق دعوت، تعلیم، انتظام اور معاشرت کے بہترین نمونے پیش کئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام جمود کا نہیں بلکہ اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے مثبت تبدیلی اور تعمیری ارتقاء کا دین ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK