Inquilab Logo Happiest Places to Work

یاد رہے، ہماری کامیابی کا پہلا اصول اتحاد اور قرآن و سنت سے وابستگی ہے

Updated: July 24, 2026, 3:34 PM IST | Maulana Salim Sultan Markazi | Mumbai

موجودہ دور میں پوری دنیا کے مسلمان بے شمار چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ کہیں دینی کمزوری ہے، کہیں تعلیمی پسماندگی، کہیں اخلاقی زوال ہے، کہیں فرقہ واریت، اور کہیں معاشی مشکلات۔ ایسے حالات میں ہر مسلمان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہماری کامیابی کا راستہ کیا ہے؟

Every Muslim should make reciting the Holy Quran a habit. Photo: INN
ہر مسلمان کو تلاوت قرآن پاک کا معمول بنا لینا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

موجودہ دور میں پوری دنیا کے مسلمان بے شمار چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ کہیں دینی کمزوری ہے، کہیں تعلیمی پسماندگی، کہیں اخلاقی زوال ہے، کہیں فرقہ واریت، اور کہیں معاشی مشکلات۔ ایسے حالات میں ہر مسلمان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہماری کامیابی کا راستہ کیا ہے؟ قرآنِ کریم اور سنت ِ رسولِ اکرم ﷺ اس سوال کا نہایت واضح جواب دیتے ہیں کہ مسلمانوں کی حقیقی کامیابی صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسولِ اکرمؐ  کی کامل پیروی، قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق، علم کے حصول، اتحادِ امت اور اعلیٰ اخلاق میں ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘ (سورۂ آل عمران:۱۰۳)

اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی کامیابی کا پہلا اصول اتحاد اور قرآن و سنت سے وابستگی ہے۔ جب تک مسلمان اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق نہیں ڈھالیں گے، اس وقت تک عزت و سربلندی حاصل نہیں ہو سکتی۔

یہ بھی پڑھئے: تربیت کا سب سے بڑا امتحان !

رحمۃ للعالمین ؐ  کا ارشاد گرامی ہے: ’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے: (وہ دو چیزیں ہیں) اللہ کی کتاب (قرآن مجید) اور میری سنت۔‘‘

آج مسلمانوں کی بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ دینی اور دنیاوی دونوں علوم حاصل کریں۔ اسلام نے علم کو بہت بلند مقام عطا فرمایا ہے۔ اگر مسلمان تعلیم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی، تجارت اور صنعت میں ترقی کریں اور ساتھ ہی اپنے ایمان و اخلاق کی حفاظت کریں تو وہ دوبارہ دنیا کی باوقار قوم بن سکتے ہیں۔اسی طرح مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ آپس کی نفرت، حسد، تعصب اور اختلافات کو ختم کریں۔ ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، سچائی، دیانت، امانت، عدل اور حسنِ اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ جس معاشرے میں اخلاق زندہ ہوں، وہاں امن، خوشحالی اور ترقی خود بخود آ جاتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کی دینی تربیت، نماز کی پابندی، قرآن کی تلاوت، والدین کی خدمت، حلال روزی کا اہتمام اور امت کے اجتماعی مسائل کا شعور بھی کامیابی کے اہم اسباب ہیں۔ مسلمان اگر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسلامی تعلیمات کو نافذ کریں تو اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت ان کے شاملِ حال ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’شوہر اور بیوی ایک دوسرے کیلئے لباس ہیں‘‘

مختصر یہ کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کی کامیابی کا واحد راستہ قرآن و سنت کی پیروی، صحیح عقیدہ، علم کا حصول، اتحادِ امت، اعلیٰ اخلاق، محنت، دیانت داری اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ ہے۔ جب مسلمان ان اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں گے تو دنیا میں بھی عزت، امن اور ترقی حاصل کریں گے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کی دائمی نعمتوں کے مستحق ہوں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK