توبہ کے مہینے کو توبہ کے ساتھ، سخاوت کے مہینے کو سخاوت کے ساتھ، قرآن کے مہینے کو قرآن کے ساتھ، دعا کے مہینے کو دعا کے ساتھ، اطاعت کے مہینے کو اطاعت کے ساتھ اور رحمت کے مہینے کو رحمت کے ساتھ خوش آمدید کہو۔
EPAPER
Updated: February 13, 2026, 12:11 PM IST | Abdullah bin Abdul Rahman Al-Baijan | Mumbai
توبہ کے مہینے کو توبہ کے ساتھ، سخاوت کے مہینے کو سخاوت کے ساتھ، قرآن کے مہینے کو قرآن کے ساتھ، دعا کے مہینے کو دعا کے ساتھ، اطاعت کے مہینے کو اطاعت کے ساتھ اور رحمت کے مہینے کو رحمت کے ساتھ خوش آمدید کہو۔
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو! اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ اے لوگو! یہ اللہ کی نعمت اور اس کا فضل اور عطا و بخشش ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے نیکیوں اور عبادت کے موسم مقرر کئے جن میں عبادت کا ثواب اور اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھانے اور وقت کو عبادات اور ذکر سے مامور کرنے، رحمتوں کے جھونکے حاصل کرنے اور نیکیوں میں سبقت لے جانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ چنانچہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو اور اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمان اور زمین کے برابر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آپؐ نے نیکیوں کے موسمِ بہار کا استقبال اس خطبے کے ساتھ فرمایا
محمد بن مسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک تمہارے رب کے کچھ خاص دنوں میں رحمت و برکت کی ہوائیں چلتی ہیں، پس تم انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرو شاید تم میں سے کسی کو ایسی برکت مل جائے جس کے بعد وہ کبھی بدبخت نہ ہو۔‘‘(طبرانی)
اللہ کے بندو! رمضا ن مبارک کا مہینہ عنقریب شروع ہوگا جو افضل ترین وقت اور عبادتوں کا عظیم ترین موسم ہے۔ یہ مہینہ عبادت، توبہ اور استغفار کا مہینہ ہے، اطاعت ، انابت اور انکساری کا مہینہ ہے۔ یہ دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی طرف متوجہ ہونے کا مہینہ ہے۔ یہ خواہشات اور لذتوں سے کنارہ کشی اور عبادات و اطاعت میں مشغول ہونے کا مہینہ ہے۔ پس اللہ سےاپنے عہد کو تازہ کرو اور اپنا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ اور اس کے مطیع ہوجاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے، پھر تمہا ری مدد نہیں کی جائے گی۔ اور اس بہترین (کتاب) کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری جانب اتاری گئی ہے قبل اِس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو، (ایسا نہ ہو) کہ کوئی شخص کہنے لگے: ہائے افسوس! اس کمی اور کوتاہی پر جو میں نے اللہ کے حقِ (طاعت) میں کی اور میں یقیناً مذاق اڑانے والوں میں سے تھا، یا یوں کہنے لگے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیزگاروں میں سے ہوتا، یا عذاب دیکھتے وقت کہنے لگے کہ اگر ایک بار میرا دنیا میں لوٹنا ہو جائے تو میں نیکوکاروں میں سے ہو جاؤں۔‘‘
(سورہ الزمر:۵۴؍ تا ۵۸)
یہ بھی پڑھئے: خبردار! ایسا نہ ہو کہ ڈجیٹل دُنیا سحر و افطار اور عبادات پر حاوی ہوجائے
اے مسلمانو! رمضان کے مہینے کا استقبال اللہ کے فضل اور نعمت پر خوش ہونے والوں کی طرح کرو جو اس کی مغفرت اور رحمت کے امیدوار ہیں نہ کہ ان لوگوں کی طرح جو لا یعنی اور بے فائدہ کاموں میں لگے رہتے ہیں اور اس کی حرمت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’فرما دیجئے: (یہ سب کچھ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے پس مسلمانوں کو چاہئے کہ اس پر خوشیاں منائیں، یہ اس (سارے مال و دولت) سے کہیں بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں۔‘‘ (سورہ یونس:۵۸)
رمضان کا استقبال اس کے شایانِ شان تعظیم، احترام اور وقار کے ساتھ کرو کیونکہ یہ اسی کا حقدار ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’یہ اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کیلئے اس کے رب کے ہاں بہتر ہے۔‘‘ (سورہ الحج:۳۰)
اور فرمایا:’’حقیقت یہ ہے کہ جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے پرہیزگار ہونے کا ثبوت ہے۔‘‘ (سورہ الحج:۳۲)
توبہ کے مہینے کو توبہ کے ساتھ، سخاوت کے مہینے کو سخاوت کے ساتھ، قرآن کے مہینے کو قرآن کے ساتھ، دعا کے مہینے کو دعا کے ساتھ، اطاعت کے مہینے کو اطاعت کے ساتھ اور رحمت کے مہینے کو رحمت کے ساتھ خوش آمدید کہو۔
حضرت عبادہ بن صامت ؓسے روایت ہے کہ:
’’رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا ،جب رمضان کا مہینہ آیا، کہ : تمہارے پاس بابرکت مہینہ آیا ہے جس میں اللہ تعالی تمہیں اپنی رحمت سے ڈھانپ لے گا، رحمت نازل کرے گا، گناہوں کو مٹا دے گا اور دعائیں قبول کرے گا۔ اسی طرح اللہ تمہارے نیک اعمال میں تمہاری مقابلہ آرائی کو دیکھے گا اور اپنے فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کرے گا پس اللہ کو اپنی طرف سے خیر و بھلائی دکھاؤ کیونکہ وہ شخص بدبخت ہے جو اس مہینے میں اللہ کی رحمت سے محروم ہو جائے۔‘‘ (طبرانی)
یہ بھی پڑھئے: دینی خدمت گزار اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں!
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
نبی کریم ﷺ منبر پر چڑھے اور پہلے زینہ پر چڑھ کر فرمایا: آمین۔ پھر آپؐ دوسرے زینہ پر چڑھے اور فرمایا: آمین۔ پھر تیسرے زینہ پر چڑھے اور فرمایا: آمین۔ پھر آپؐ بیٹھ گئے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے کس بات پر آمین کہا؟ آپؐ نے فرمایا: میرے پاس جبریلؑ آئے اور کہا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے، کہو: آمین۔ میں نے کہا: آمین، پھرآپؑ نے کہا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے والدین کو پایا اور پھر جنت میں داخل نہ ہو سکا، کہو: آمین۔ تو میں نے کہا: آمین، پھر آپؑ نے کہا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی، کہو: آمین۔ تو میں نے کہا آمین۔‘‘(امام احمد)
پس مومنوں کو چاہئے کہ وہ نیکی میں سبقت کریں اور اللہ کی اطاعت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھیں۔ اللہ کے بندو! یہ وہ مہینہ ہے جس میں عبادات کے لئے کمر کس لی جاتی ہے اور امیدیں کی جاتی ہیں۔ پس نیک اعمال میں محنت کرو، اپنے حال کو درست کرو اللہ تمہارے انجام کو بہتر کرے گا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور جو بھی نیکی تم اپنی جانوں کے لئے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس پالو گے۔ بے شک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘
(البقرہ: ۱۱۰)
یہ بھی پڑھئے: پانی نعمت ِ عام ہے لیکن اس کا بھی حساب ہوگا
اے مسلمانوں! شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وہ نیکی کے موسموں اور بابرکت اوقات میں اپنی پوری کوشش کرتا ہے کہ لوگوں کو ہدایت سے بھٹکا دے، انہیں اللہ کی رحمت و مغفرت کے جھونکوں سے محروم کر دے، رب کی اطاعت سے انہیں روک دے اور بہت ساری خیر سے انہیں محروم کر دے۔ عقلمند انسان وہی ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لئے عمل کرے جبکہ عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات پر لگا دے اور اللہ سے تمنائیں کرے۔ پس اپنا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اپنے نفس کا وزن کرو اس سے پہلے کہ تمہیں تولا جائے کیوںکہ جو شخص آج ہی اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے قیامت کے روز اس پر حساب و کتاب آسان ہوگا۔ آخرت کی پیشی کیلئے تیار ہو جاؤ جب تم اللہ کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور تمہاری کوئی چیز چھپی نہ رہے گی۔
اے لوگو! رمضان کے مہینے کے لئے تیاری کرو کیونکہ یہ اطاعت، عبادت، توبہ اور رجوع کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کے استقبال کے لئے وقت کی تنظیم، نفس کی تیاری، اخلاص، پختہ عزم اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ رمضان کے استقبال میں مدد دینے والی سب سے اہم چیز گناہوں سے توبہ، خطاؤں سے معافی، حقوق کی ادائیگی، برائیوں سے خلاصی، مشتبہ امور اور خواہشات سے دوری ہے۔
پس اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور توبہ و استغفار میں جلدی کرو۔ اس اللہ کی طرف آجاؤ جو انتہائی رحم کرنے والا اور بخشنے والا ہے، گناہوں اور خطاؤں سے باز آجاؤ، حقوق ادا کرو، ظلم و زیادتی سے بچو، اخلاص اور پختہ عزم وغیرہ کے ساتھ اپنے بگاڑ کی اصلاح کرو۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ اللہ تعالی رات میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے اور دن میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کرلے یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔ جو یہ گمان کرے کہ اس کے گناہ کو اللہ معاف نہیں کرے گا تو اس نے اللہ کے بارے میں بہت برا گمان کیا۔
یہ بھی پڑھئے: غرور اور کبر قلبی امراض کی جڑ اور انسانی تباہی کا نقطۂ آغاز
پس اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھو اور خوش ہو جاؤ کیونکہ اللہ کریم بخشش کرنے والا، بے حد فضل و احسان والا، بہت بڑا سخی اور انعام و اکرام کرنے والا ہے،بردبار، درگزر کرنے والا ، نہایت رحم کرنے والا اور مہربان ہے۔
اللہ کے بندو!غفلت سے بچو کیونکہ یہ ایک مہلک بیماری ہے، ناراضگی اور تباہی کا سبب ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کو کاٹ دیتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنے گناہ کو محسوس نہیں کرتا ، اپنے گناہوں سے باز نہیں آتا اور نہ ہی اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے، وہ نیکی کو نہیں پہچانتا اور برائی کو برا نہیں سمجھتا، خیر کے موسم، بابرکت اوقات اس پرآتے ہیں مگر وہ غفلت کی نیند سویا رہتا ہے۔ دیکھتا ہے مگر عبرت نہیں لیتا ، نصیحت کی جاتی ہے مگر نصیحت قبول نہیں کرتا، یاد دلایا جاتا ہے مگر دھیان نہیں دیتا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اے نبیؐ، اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ (الاعراف:۲۰۵)
یہ بھی پڑھئے: انسان اپنی عزت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا
مبارک ہو اسے جس نے رمضان پایا ، ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ روزہ رکھا اور جنت میں داخل ہو گیا۔ مبارک ہو اسے جس نے رمضان پایا ، ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ قیام کیا اور جنت میں داخل ہو گیا. مبارک ہو اسے جس نے شب قدر کو پایا جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور اسے ذکر و عبادات میں گزارا اور اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے۔
اے ہمارے رب! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں رمضان نصیب فرما ، اس میں ہمیں روزہ رکھنے اور قیام کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں اس میں کامل حصہ نصیب فرما اور اپنی رضا، مغفرت، معافی اور رحمت عطا فرما۔