• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: زکوٰۃ کیلئے شریعت نے اصل معیار سونے چاندی کو قرار دیا ہے

Updated: February 13, 2026, 12:50 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)زکوٰۃ کا ایک سوال۔ (۲)پی ایف کی رقم اور زکوٰۃ۔ (۳)انٹرسٹ کی رقم سے بلڈنگ کی مرمت۔

Do not reduce or increase Zakat, but pay it according to the correct calculation. Photo: INN
زکوٰۃ میں کمی بیشی نہ کریں بلکہ درست حساب کے مطابق ادا کریں۔ تصویر: آئی این این

موجودہ دَور میں کتنے روپے پر زکوٰۃ فرض ہے؟ 

نعیم احمد ،اتر پردیش 

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: روپیہ خصوصاً موجودہ زمانے کی مروجہ کاغذی کرنسی کی قیمت بذات خود مستحکم نہیں، آئے دن کرنسی کی قیمت میں کمی بیشی عام مشاہدہ ہے اسلئے اصولاً رویے کو معیار نہیں بنایا جاسکتا۔ شریعت نے اصل معیار سونے چاندی کو قرار دیا ہے۔ کسی کے پاس صرف سونا ہے تو صرافہ بازار کے موجودہ اوزان کے مطابق تقریباً ساڑھے ستاسی گرام سونا جس کے پاس ہو اس پر زکوٰۃ واجب ہوجائیگی، صرف چاندی ہے تو تقریباً چھ سو ساڑھے بارہ گرام کے بقدر نصاب زکوٰۃ شرع نے تسلیم کیا ہے۔ مال تجارت میں عام طور سے چاندی کے نصاب کے بقدر قیمت کے سامان پر زکوٰۃ کے وجوب کا حکم دیاجاتا ہے۔ نقد رقم کے متعلق بھی یہی معیار ماناجاتا ہے مگر یہ ذہن میں رہے جو مال زکوٰۃ یا رقم ہے جب وہ قرض اور بندے کی ضروریات سے زائد ہو تو اس پر زکوٰۃ کا وجوب ہوگا۔واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: نماز میں حضورِ قلب اور خشوع وخضوع بھی ضروری ہے

پی ایف کی رقم اور زکوٰۃ

تنخواہ میں سے ہر مہینے پی ایف کٹ کر اکاؤنٹ میں جمع ہو تا ہے۔ اسی کے بقدر کمپنی بھی جمع کرتی ہے۔ موجودہ قانون کے مطابق اگر ملازم چاہے تو اس کی اپنی تنخواہ میں سے جتنی رقم جمع ہوئی وہ درخواست دے کر کبھی بھی نکال سکتا ہے۔ پندرہ روز کے اندر رقم سیونگ اکاؤنٹ میں آجاتی ہے۔ اگرچہ کمپنی کی طرف سے جمع کی گئی پی ایف کی رقم نکالنے کا حق اسے نہیں ہے۔ کیا ایسی صورت میں جتنی رقم وہ درخواست دے کر نکالنے کا مستحق ہے اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟

فہیم الدین ،ممبئی 

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: پی ایف کی کئی صورتیں بتائی جاتی ہیں۔ ملازم کی تنخواہ سے لازمی طور پر ہرماہ کچھ رقم کاٹ کے کمپنی اسی کے حساب میں جمع کرلے، دوسری صورت یہ ہے کہ جو رقم کمپنی لازماً وضع کرکے حساب میں جمع کرتی ہے ملازم کچھ مزید اپنی مرضی سے جمع کراتا رہے جبکہ ایک ممکنہ صورت یہ بھی ہے کہ کمپنی کی طرف سے اختیار ہو کہ تنخواہ سے کچھ رقم جمع کراتا رہے تاکہ بعد میں یکمشت رقم ملنے پر کام آئے۔ ان تمام صورتوں میں جمع شدہ رقم کے علاوہ کمپنی اپنی طرف سے بھی اتنی رقم شامل کرتی ہے نیز اکثر تو یہ اجازت نہیں ہوتی کہ وقت سے پہلے ملازم رقم نکال سکے لیکن کہیں کہیں فنڈ میں سے بوقت ضرورت ایک خاص مقدار کی حد تک لینے کی گنجائش ہوتی ہے جبکہ اس صورت میں ملازم جمع شدہ رقم میں جتنی چاہے نکلوا سکتا ہے۔ کمپنی جو اِضافہ کرتی ہے، علماء نے اس کو کمپنی کا عطیہ مان کر اجازت دے رکھی ہے۔ یہاں ایک مخصوص صورت میں سائل جمع شدہ رقم پر وجوب ِزکوٰۃ کا حکم معلوم کرنا چاہتاہے کیونکہ اب اس کو یہ اختیار ہے کہ جب چاہے جمع شدہ رقم نکلوالے۔ اس موقع پر علماء لکھتے ہیں کہ جمع شدہ اور اس پر ملنے والی زائد رقم جب تک ملازم کے قبضے میں نہ آ جائیں دین ضعیف کے حکم میں ہیں اس لئے  قبضے میں آنے سے پہلے ان رقوم پر زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: عدت کا ایک سوال، معذور کی نماز اور کرسی کا استعمال، اوقات مکروہہ میں نماز

انٹرسٹ کی رقم سے بلڈنگ کی مرمت

اکثر بلڈنگ سوسائٹی والے مینٹیننس وغیرہ سے جمع شدہ رقم کو ایف ڈی میں رکھ دیتے ہیں جس سے انٹرسٹ ملتا ہے اور یہ انٹرسٹ میں ملنے والی رقم بلڈنگ کی مرمت یا رنگ و روغن وغیرہ میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کی کس حد تک گنجائش ہے؟ بلڈنگ کی رقم سے ملنے والے انٹرسٹ کا مصرف کیا ہونا چاہئے اور وہ کہاں استعمال کی جائے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ 

شریف احمد، ممبئی

 باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: جسے انٹرسٹ کہا جاتا ہے دراصل یہ سود ہے جس کی حرمت واضح اور قطعی ہے۔قرآن وحدیث میں سود کے حرام اور ناجائز ہونے کے بے شمار دلائل موجود ہیں نیز اس کے متعلق انتہائی سخت وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں اس لئے کسی مسلمان خاص کر متمول مسلمان شخص یا سوسائٹی کے لئے اپنی ضروریات میں سودی رقم کا استعمال کسی نے جائز نہیں قرار دیا۔ یہ مال حرام ہے اور اس کا مصرف ضرورتمند غرباء ومساکین ہیں بغیر ثواب کی نیت کے بغرض رفع وبال ان ضرورتمندوں کو دے دی جائے، خود استعمال نہ کی جائے۔ بلڈنگ کی سوسائٹی مینٹیننس کے نام سے جو رقم لیتی ہے وہ بلڈنگ کی ضروریات اور اخراجات ہی کے واسطے لیتی ہے جن میں کلرنگ وغیرہ بھی شامل ہیں اس لئے بلڈنگ کی ضروریات میں صرف کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ جو واقعی ضرورتمند ہوں وہ اس کا مصرف ہوسکتے ہیں تاہم تحقیقی امر یہی ہے کہ متمول حضرات اپنی ضروریات میں اسے استعمال ہرگز نہ کریں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK