• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آپؐ نے نیکیوں کے موسمِ بہار کا استقبال اس خطبے کے ساتھ فرمایا

Updated: February 13, 2026, 11:57 AM IST | Maulana Gulam Mohammad Mansuri | Mumbai

رمضان المبارک اہلِ ایمان کے لئے نیکیوں کا موسمِ بہار ہے۔ اس مہینہ میں دل کی زمین تقویٰ کے بیج کو قبول کرنے کے لئے عام دنوں کی بہ نسبت زیادہ مستعد اور سازگارہوتی ہے، اور نیکیوں کی نشوونما کے لئے روحانی فضا زیادہ موافق ہوتی ہے۔

Its importance should be understood in the light of the Prophet`s sermon on Ramadan. Photo: INN
نبی ؐ کے خطبہ ٔ رمضان کی روشنی میں اس کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک اہلِ ایمان کے لئے نیکیوں کا موسمِ بہار ہے۔ اس مہینہ میں دل کی زمین تقویٰ کے بیج کو قبول کرنے کے لئے عام دنوں کی بہ نسبت زیادہ مستعد اور سازگارہوتی ہے، اور نیکیوں کی نشوونما کے لئے روحانی فضا زیادہ موافق ہوتی ہے۔ایک طرف خدا کے اَنوار اور اس کی رحمت کا نزول دلوں کی مُردہ زمینوں میں نئی جان ڈالتاہے اور اس میں ایمان کا نُور اور نیکی کا شوق پیدا کردیتا ہے اور دوسری طرف ایک ایسا ماحول پیدا ہوجاتا ہے جس میں خدا کی اطاعت و بندگی کا جذبہ اُبھرتا ہے۔ دلوں میں نیکی کے لئے محبت اور بُرائی کے لئے نفرت پیدا ہوتی ہے۔ بڑی تعداد میں مسلمان نیکی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: قرآن مجید کو ہمیں ویسے ہی سمجھنا ہے جیسے ہمیں اللہ کے نبیؐ نے سمجھایا ہے

رمضان المبارک کی آمد پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرامؓ کوجمع کرکے ایک خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے تاکہ وہ اس مبارک مہینہ کا شایانِ شان استقبال کریں۔ روزے اور نوافل کے اہتمام کا عزم کریں اور نیکی ا ور تقویٰ کا زیادہ سے زیادہ زادِ راہ فراہم کریں۔ آیئے آج ہم بھی اس خطبہ کو سنیں اور یہ سمجھ کر سنیں کہ اس کے مخاطب ہم ہیں اور اس میں جو ہدایات دی جارہی ہیں کسی اور کیلئے نہیں بلکہ ہمارے لئے ہیں:

’’اے لوگو! تم پر ایک عظمت ا ور برکت والا مہینہ سایۂ فگن ہورہا ہے۔ اس مہینہ میں ایک رات ایسی ہے جو فضیلت و برکت کے لحاظ سے ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس مہینہ کے روزے اللہ تعالیٰ نے تم پرفرض کیے ہیں اور اس کی راتوں میں قیام کو نفل کے درجہ میں رکھا ہے۔ اس مہینہ میں جو شخص خدا کا قرب حاصل کرنے کے لئے نیکی کا کوئی ایسا کام کرے گا جس کی حیثیت نفل کی ہے تو اس کو اس کا اجروثواب فرض کے برابر ملے گا اور جو فرض ادا کرےگا اس کو اس کا ثواب عام دنوں کےستّر فرضوں کے برابر ملے گا۔

یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا صلہ جنّت ہے۔ یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں مومن بندوں کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو اس مہینہ میں کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے گا اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔اس کو آتش دوزخ سے نجات ملے گی اور اس کو اس عمل کا اجروثواب روزے دار کے برابر ملے گا (اس التزام کے ساتھ کہ)  خود روزے دار کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں کی جائےگی۔

یہ بھی پڑھئے: ہماری پوری زندگی اخلاقی حدود کی پابند ہونا چاہئے

آپؐ سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسولؐ! ہم میں سے ہر ایک کے پاس تو سامان افطار نہیں ہوتا (تب کیا کیا جائے؟)، آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہ اجروثواب اس آدمی کو بھی دےگا جو دودھ کی تھوڑی سی لسی اور پانی کے ایک گھونٹ پر کسی روزے دار کو روزہ افطار کرا دے۔جو شخص کسی روزے دار کو پیٹ بھر کھانا کھلا دے، اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض (حوضِ کوثر) سے پانی پلائے گا۔ پھر اسے پیاس نہ لگے گی۔ یہاں تک کہ وہ جنّت میں داخل ہوجائے گا۔

’’اس مہینہ کا پہلا حصہ رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ دوزخ کی آگ سے نجات ہے۔ جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف اور کمی کردے گا اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دےگا۔ اور دوزخ کی آگ سے نجات بخشےگا۔‘‘

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ کے آغاز میں یہ خوشخبری دی کہ ’’ماہِ رمضان میں ایک رات ایسی ہے جو اپنی فضیلت وعظمت میں ہزاروں مہینوں سے بہتر ہے‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان کو جو تقویت، دل کو جو جذبۂ اخلاص و عمل اور زندگی کو جو طہارت و پاکیزگی اس ایک رات کی عبادت سے حاصل ہوتی ہے، وہ ہزار مہینوں کی اطاعت و عبادت سے بھی نصیب نہیں ہوسکتی اور قربِ الٰہی کی جو منزلیں بندہ اس ایک رات میں طے کرلیتا ہے وہ ہزار مہینوں میں بھی طے نہیں ہوسکتیں۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: عدت کا ایک سوال، معذور کی نماز اور کرسی کا استعمال، اوقات مکروہہ میں نماز

دوسری بات آپ ؐنے یہ ارشاد فرمائی کہ جو شخص اس مہینہ میں کوئی ایسی نیکی کرے گا جو نفل کا درجہ رکھتی ہے تو اسے اجروثواب فرض کے برابر ملےگا اور ایک فرض کے اجر کو ستّرگنا کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک میں یہ اجروثواب اس لئے بڑھا دیا ہے کہ بندے اس ایک مہینہ میں نیکی اور تقویٰ کی اتنی تربیت حاصل کرلیں کہ اس کے اثرات سال کے باقی گیارہ مہینوںتک باقی رہیں، اور اس طرح سال بہ سال اہلِ ایمان ایک ماہ کی تربیت گاہ میں اسلامی زندگی کی تربیت حاصل کرتے رہیں۔ اس تربیت گاہ میں وہ اپنے ایمان کو زندہ اور تازہ کریںاور زندگی کو اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالیں۔

بعض لوگ فرض سے مراد فرض نمازیں اور نفل سے مراد نفل نمازیں لیتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے۔ حضور اکرم ؐنے اپنے خطبہ میں اہلِ ایمان کو تمام فرائض ادا کرنے پر اُبھارا ہے۔ علم حاصل کرنا فرض ہے۔  نیکی کا حکم دینا  فرض ہے ۔ بدی سے روکنا فرض ہے۔ عدل و انصاف اور امن و امان کاقیام فرض ہے۔ عہدوپیمان کو پورا کرنا فرض ہے۔ ماں ، باپ، اولاد، رشتہ دار،  یتیم ومسکین اور تمام مخلوقِ خداکے حقوق ادا کرنا فرض ہے۔ نماز، روزہ،زکوٰۃ اور حج بھی فرض ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اَنا، نہ فرد کیلئے سودمند ثابت ہوتی ہے اور نہ معاشرے کیلئے

اسی طرح نفل سے مراد محض نفلی نمازیں نہیں ہیں بلکہ اس میں وہ تمام اسلامی اعمال داخل ہیں جن کا درجہ فرض کانہیں بلکہ نفل کا ہے۔ راستے میں پڑے ہوئے پتھر اور شیشہ کو ہٹادینا تاکہ کوئی ٹھوکر کھا کر گرنہ جائے اورکسی کا پائوں زخمی نہ ہوجائے۔ اپنے فرائض منصبی کو بحسن وخوبی انجام دینے کے لئے اصل ڈیوٹی سے زیادہ وقت دینا، ملازم اور مزدور کو اس کی محنت سے زیادہ معاوضہ دینا، کم منافع پر اشیاء فروخت کرنا، علم سیکھنے اور سکھانے کے لئے اپنے آرام وراحت اور دلچسپیوںکو چھوڑنا،   انتقام لینے کے بجائے معاف کر دینا، حق دار کو اس کے حق سے زیادہ دینا، خود بھوکے رہ کر دوسرے کو کھلانا، اور اس قسم کےدوسرے کام بھی نفل عبادت ہیں۔ اس لئے رمضان میں صرف فرض نمازوں اور روزوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ تمام فرائض کو ادا کرنا چاہئے۔ اسی طرح نفل نمازوں اورروزوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ تمام فرائض کو ادا کرنا چاہئے۔

آیت ِ قرآن
’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن
 اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا لے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، اﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لئے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لئے کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔‘‘ 
(البقرہ:۱۸۵)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK