انسان خواہ علم و فضل کی کتنی ہی بلندیوں کو کیوں نہ چھو لے، اگر اسے کسی صاحبِ دل کی صحیح نسبت میسر نہ آئے تو اس کی تکمیل باقی رہتی ہے۔
EPAPER
Updated: February 13, 2026, 12:33 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai
انسان خواہ علم و فضل کی کتنی ہی بلندیوں کو کیوں نہ چھو لے، اگر اسے کسی صاحبِ دل کی صحیح نسبت میسر نہ آئے تو اس کی تکمیل باقی رہتی ہے۔
نسبت محض کسی سے تعلق کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک باطنی رشتہ ہے جو دل کو دل سے اور روح کو روح سے جوڑ دیتا ہے۔ انسان اپنی اصل میں ایک متلاشی وجود ہے؛ وہ سہارا بھی چاہتا ہے اور سمت بھی۔ جب اسے کسی صالح اور صاحبِ دل ہستی سے نسبت نصیب ہو جاتی ہے تو اس کی منتشر کیفیات سمٹنے لگتی ہیں، فکر کو اعتدال ملتا ہے اور کردار میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔ بالخصوص روحانی نسبت انسان کے باطن میں ایک چراغ روشن کر دیتی ہے۔ یہ چراغ محض معلومات نہیں دیتا بلکہ بصیرت عطا کرتا ہے؛ محض راستہ نہیں دکھاتا بلکہ چلنے کا حوصلہ بھی پیدا کرتا ہے۔ ایسی نسبت انسان کو اپنی خواہشات کے طوفان میں بہنے سے بچا کر مقصد کی شاہراہ پر گامزن کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نئی نسل میں اِتنا غصہ کیوں؟اس کے نفسیاتی پہلو کیا ہیں؟
اس اعتبار سے نسبت ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسان اپنے اصل کو پہچانتا ہے اور اپنی کمزوریوں کو سنوارتا ہے۔ جب یہ رشتہ خلوص اور صدق پر قائم ہو تو زندگی محض گزارنے کی شے نہیں رہتی بلکہ سنوارنے اور سنورنے کا سفر بن جاتی ہے۔ یہی روحانی وابستگی انسان کے وجود کو معنی، سمت اور وقار عطا کرتی ہے۔قرآنِ مجید اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ صالحین سے نسبت اور اہلِ ایمان کی معیت انسان کی ہدایت اور استقامت کا ذریعہ بنتی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔‘‘ (سورۂ توبہ:۱۱۹) یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ محض انفرادی تقویٰ کافی نہیں بلکہ صادقین کی صحبت اور نسبت بھی مطلوب ہے۔اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ وابستہ رکھو جو اپنے رب کو پکارتے ہیں۔‘‘ (سورۂ کہف:۲۸) یہ قرآنی ہدایت واضح کرتی ہے کہ روحانی نسبت اور صالح صحبت انسان کی زندگی کو صحیح رخ دینے، ایمان کو تازگی بخشنے اور کردار کو استحکام عطا کرنے کا الٰہی ذریعہ ہے۔
احادیثِ نبویہؐ بھی اس حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں واضح کرتی ہیں کہ صالحین کی صحبت اور روحانی نسبت انسان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔‘‘ (سنن ابی داؤد)
یہ بھی پڑھئے: رمضان کے مہینے کا استقبال اللہ کے فضل اور نعمت پر خوش ہونے والوں کی طرح کرو
اسی تناظر میں یہ حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ انسان خواہ علم و فضل کی کتنی ہی بلندیوں کو کیوں نہ چھو لے، اگر اسے کسی صاحبِ دل کی صحیح نسبت میسر نہ آئے تو اس کی تکمیل باقی رہتی ہے۔ علم ذہن کو روشن کرتا ہے، مگر نسبت دل کو زندہ کرتی ہے؛ اور جب تک دل میں وہ حرارت اور سوز پیدا نہ ہو، شخصیت ادھوری رہتی ہے۔مولانا جلال الدین رومیؒ اس کی مثال ہیں۔ وہ مشہور صاحب نسبت بزرگ شمس تبریز ؒ سے ملاقات سے پہلے بھی جلیل القدر عالم، فقیہ اور مدرس تھے؛ حلقۂ درس آباد تھا اور شہر میں ان کا چرچا تھا مگر جب روحانی شخصیت شمس تبریز کی نسبت نصیب ہوئی تو ان کے باطن میں ایک انقلاب برپا ہوا ،علم عشق میں ڈھل گیا، الفاظ آگ بن گئے اور فکر کو پرواز مل گئی۔ اسی کیفیت کو مولانا روم اپنے شعر میں یوں بیان کرتے ہیں:
مولوی ہرگز نہ باشد مولائے روم
تا غلامِ شمس تبریزی نہ شد
یعنی رومی کو اس وقت تک حقیقی شناخت نہیں ملی جب تک وہ شمس کے غلام نہ ہوئے۔ یہاں غلامی سے مراد ظاہری محکومی نہیں بلکہ روحانی سپردگی ہے، —اپنے انا کے بت کو توڑ دینا اور کسی کامل کی رہنمائی کو قبول کر لینا۔ یہی سپردگی ان کی معراج بنی۔
یہ بھی پڑھئے: آپؐ نے نیکیوں کے موسمِ بہار کا استقبال اس خطبے کے ساتھ فرمایا
اس بحث کے تناظر میں ہم میں سے ہر شخص کو کسی ایسے عالمِ ربانی اور صاحبِ دل روحانی شخصیت کی ضرورت ہے جو محض الفاظ کا نہیں بلکہ حال کا امین ہو۔ ایسی وابستگی انسان کو شخصیت پرستی نہیں بلکہ خدا پرستی سکھاتی ہے؛ وہ ہمیں اپنے ساتھ نہیں باندھتی بلکہ اللہ، رسولؐ اور قرآن سے جوڑ دیتی ہے۔ اس طرح جب دل کسی سچے رہبر کی صحبت سے جڑتا ہے تو ایمان میں پختگی، عمل میں اخلاص اور فکر میں اعتدال پیدا ہوتا ہے۔ یوں یہ نسبت دراصل ایک پل بن جاتی ہے،بندے کو بندے سے نہیں بلکہ بندے کو اپنے رب سے ملانے والا پل۔