• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نئی نسل میں اِتنا غصہ کیوں؟اس کے نفسیاتی پہلو کیا ہیں؟

Updated: February 13, 2026, 12:22 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai

اس مضمون میں مضمون نگار نے، جو نفسیات اور اسلامیات دونوں میں درک رکھتے ہیں، نئی نسل کی برہمی کا بہترین تجزیہ کیا اور مسئلہ کی پرتیں ہی نہیں کھولیں، حل پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

Anger is not just a moral flaw, it is often a psychological symptom. When a young person gets angry, they may be feeling disrespected or afraid of failure. Photo: INN
غصہ صرف اخلاقی خرابی نہیں، اکثر نفسیاتی علامت ہے۔ جب نوجوان غصہ کرتا ہے تو ممکن ہے وہ بے عزتی محسوس کر رہا ہو یا ناکامی سے ڈرا ہوا ہو۔ تصویر: آئی این این

ہم ایک ایسی نسل کے سامنے کھڑے ہیں جو بظاہر بہت باشعور ہے، بہت باخبر ہے، بہت تیز ہے مگر اندر سے عجیب طور پر غصہ ور ہے۔ یہ غصہ صرف سڑکوں پر نہیں، گھروں میں بھی ہے، صرف سیاسی بحثوں میں نہیں، مسجد کے صحن اور اسکول کے کمرے میں بھی ہے۔ یہ غصہ صرف نوجوانوں تک محدود نہیں، مگر نوجوان ذہن اس کا سب سے بڑا میدان بن چکا ہے۔ غصہ انسانی فطرت کا حصہ ہے مگر یہ جاننا ضروری ہے کہ موجودہ دور میں نوجوانوں، عورتوں، بچوں اور بزرگوں میں غصہ اتنا بڑھ کیوں گیا ہے؟ اور وہ بھی اس درجے تک کہ انسان اپنے ہی رشتوں، اپنے ہی مستقبل اور اپنی ہی روح کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔

غصہ اگر حدود میں ہو تو انسان کو ظلم کے خلاف کھڑا کرتا ہے، غیرت پیدا کرتا ہے، حق کے لئے آواز دیتا ہے مگر جب غصہ حدود سے نکل جائے تو وہ حق کو بھی باطل بنا دیتا ہے۔ وہ اصلاح کو بھی فساد میں بدل دیتا ہے۔ آج کے معاشرے میں مسئلہ غصے کا وجود نہیں، غصے کی بے مہار صورت ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں آدمی صرف ناراض نہیں ہوتا، وہ اندر سے جل رہا ہوتا ہے۔ وہ دلیل نہیں چاہتا، صرف بدلہ چاہتا ہے۔ وہ حل نہیں چاہتا، صرف تخریب چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان کے مہینے کا استقبال اللہ کے فضل اور نعمت پر خوش ہونے والوں کی طرح کرو

اس غصہ ور نسل کے پیچھے سب سے پہلی وجہ مسلسل دباؤ ہے۔ نوجوان پر کریئر کا دباؤ، مقابلے کا دباؤ، گھر والوں کی توقعات، سماج کی نگاہیں، اور مستقبل کا خوف۔ وہ جیتے جی آرام نہیں پاتا۔ وہ ایک ایسے میدان میں دوڑ رہا ہے جہاں منزل واضح نہیں، مگر دوڑ بند نہیں ہو سکتی۔ جب انسان مسلسل دباؤ میں رہے تو اس کا ذہن بقا کے ’’موڈ‘‘ میں چلا جاتا ہے۔ بقا کے ’’موڈ‘‘ میں انسان نرم نہیں رہتا، سخت ہو جاتا ہے۔محبت سے نہیں سوچتا، دفاع سے سوچتا ہے اور دفاعی ذہنیت غصہ بڑھاتی ہے۔

دوسری بڑی وجہ احساسِ محرومی ہے۔ آج کے نوجوان کو ہر چیز دکھائی جاتی ہے مگر ہر چیز ملتی نہیں۔ اسکرین پر امیر زندگی، کامل جسم، تیز کامیابی، رومانس، شہرت، نت نئے پکوان اور طاقت دکھائی جاتی ہے مگر حقیقی زندگی میں وہ سب ممکن نہیں۔ یہ تضاد انسان کے اندر ایک مسلسل کچوکے کی طرح رہتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ناکام سمجھنے لگتا ہے اور جب انسان اپنے آپ کو ناکام سمجھنے لگتا ہے تو یا تو افسردہ ہوتا ہے یا غصہ ور، اکثر نوجوان افسردگی اور ڈپریشن کے ساتھ ساتھ غصے کا شکار بھی ہو رہے ہیں، کیونکہ ان کے اندر کا دکھ اظہار کے بجائے اشتعال بن رہاہے۔

تیسری وجہ رشتوں کا کمزور ہونا ہے۔ نوجوان کو سننے والے کم ہیں، جج کرنے والے زیادہ۔ گھر میں گفتگو کم ہے، حکم زیادہ۔ اسکول میں تربیت کم ہے، نمبر زیادہ۔ دوستیاں سطحی ہیں، دل کی بات کم ہے۔ جب انسان کے پاس جذبات کا محفوظ راستہ نہ ہو تو وہ جذبات غصے کی شکل میں باہر آتے ہیں۔ غصہ اکثر کمزوری کی زبان ہوتا ہے۔ انسان جب اپنی بے بسی، خوف یا دکھ بیان نہیں کر پاتا تو وہ غصہ بن کر نکلتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آپؐ نے نیکیوں کے موسمِ بہار کا استقبال اس خطبے کے ساتھ فرمایا

چوتھی وجہ دماغی اور جسمانی طرزِ زندگی ہے۔ نیند کی کمی، مسلسل موبائل، سوشل میڈیا، تیز محرکات، اور حرکت کی کمی۔ جدید تحقیق واضح کرتی ہے کہ نیند کم ہو تو جذباتی نظم (اِموشن ریگولیشن) کمزور پڑ جاتا ہے۔ نوجوان کا دماغ فوری ردعمل دینے لگتا ہے، تحمل کم ہو جاتا ہے۔ پھر سوشل میڈیا کی الگ دنیا ہے: وہاں بحث کم، لڑائی زیادہ۔ وہاں مکالمہ کم، تضحیک زیادہ۔ وہاں انسان، مخالف کو انسان نہیں سمجھتا، ایک ’’ٹارگٹ‘‘ سمجھتا ہے۔ یہی رویہ حقیقی زندگی میں بھی منتقل ہو رہا ہے۔

پانچویں وجہ روحانی کمزوری ہے۔ یہ بات تلخ ہے مگر حقیقت ہے: ہم نے نوجوان کو اخلاقیات تو سکھائیں، مگر روحانیت نہیں۔ ہم نے اسے’غصہ نہ کرو‘ تو کہا، مگر اس کے اندر وہ طاقت نہیں پیدا کی جو غصے کو قابو میں رکھ سکے۔ دل کا تعلق اللہ سے کمزور ہو جائے تو نفس طاقتور ہو جاتا ہے۔ اور نفس جب طاقتور ہو تو غصہ اس کا ہتھیار بن جاتا ہے۔

اسلام غصے کو انسانی فطرت مانتا ہے، مگر اس پر کنٹرول کو ایمان کا حصہ بناتا ہے۔ سرور کائنات ﷺ کی مشہور حدیث ہے کہ ایک شخص نے نصیحت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا:ْ”غصہ نہ کرو“ اور آپ ﷺ نے یہ جملہ بار بار دہرایا۔

یہ حدیث محض اخلاقی نصیحت نہیں، نفسیاتی حکمت ہے۔ کیونکہ غصہ اگر قابو سے نکل جائے تو انسان کے اندر کا عقل مند حصہ خاموش ہو جاتا ہے اور جذباتی حصہ غالب آ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: خبردار! ایسا نہ ہو کہ ڈجیٹل دُنیا سحر و افطار اور عبادات پر حاوی ہوجائے

قرآن کریم اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ’’وہ جو غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔‘‘ یہاں غصے کو دبانے کی بات نہیں، غصے کو قابو میں رکھنے کی بات ہے۔’’کظم‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ غصے کی آگ اندر موجود ہو مگر انسان اسے اپنی عقل، ایمان اور اخلاق کے برتن میں بند کر دے۔ یہ وہی ’’سیلف ریگولیشن‘‘ ہے جسے علم نفسیات کی زبان میں جذباتی تنظیم یا جذباتی نظم کہا جاتا ہے۔

نبی کریمؐ نے غصے کے علاج کے لئے عملی تدابیر بھی بتائی ہیں۔ فرمایا: ” اگر تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے، اور اگر غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے۔‘‘ یہ حیرت انگیز طور پر جدید نفسیات کے مطابق ہے۔ کیونکہ جسمانی حالت بدلنے سے دماغ کے اندر ردعمل کا سائیکل ٹوٹتا ہے۔ غصے کے لمحے میں انسان کا جسم ایڈرینالین اور کورٹیزول کے زیر اثر ہوتا ہے۔ بیٹھنا، پانی پینا، سانس کو سست کرنا یہ سب جسم کو پیغام دیتے ہیں کہ خطرہ ختم ہو رہا ہے، اور دماغ آہستہ آہستہ پرسکون ہونے لگتا ہے۔

سرکار دوعالمؐ نے یہ بھی فرمایا: ” غصہ شیطان کی طرف سے ہے، شیطان آگ سے پیدا کیا گیا، اور آگ پانی سے بجھتی ہے، لہٰذا غصہ آئے تو وضو کرو۔ یہاں وضو صرف عبادت نہیں، نفسیاتی ریگولیشن ہے۔ ٹھنڈا پانی جسمانی تناؤ کو کم کرتا ہے، اور وضو کا عمل ذہن کو ایک نظم میں لاتا ہے۔ یہی نظم غصے کو کمزور کرتا ہے۔‘‘

 غصہ ور نسل کا علاج کیا ہے؟

یہ بھی پڑھئے: دینی خدمت گزار اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں!

سب سے پہلے ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ غصہ صرف اخلاقی خرابی نہیں، اکثر نفسیاتی علامت ہے۔ جب نوجوان غصہ کرتا ہے تو ممکن ہے وہ بے عزتی محسوس کر رہا ہو، وہ ناکامی سے ڈرا ہوا ہو، وہ اندر سے تنہا ہو، وہ دباؤ میں ہو، یا وہ اپنی شناخت کھو رہا ہو۔ اس لئے علاج صرف یہ نہیں کہ اسے ڈانٹا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے اندر کے زخم کو سمجھا جائے۔ نفسیاتی علاج میں سب سے مؤثر طریقہ Cognitive Behavioral Therapy کی طرز پر یہ ہے کہ نوجوان کو اپنے خیالات اور ردعمل کے بیچ کا تعلق سمجھایا جائے۔ غصہ اکثر غلط تعبیر سے پیدا ہوتا ہے: 

”اس نے مجھے جان بوجھ کر نیچا دکھایا“

”لوگ میرے خلاف ہیں“ 

”میں ناکام ہوں“، ”میں کمزور ہوں“…

جب نوجوان یہ خیالات پہچان لے تو وہ غصے کے لمحے میں خود کو روکنا سیکھتا ہے۔ یہ ایک مہارت ہے، اور ہر مہارت کی طرح اس کی بھی تربیت ہوتی ہے۔ اسی طرح Mindfulness اور سانس کی مشقیں غصے کے وقت دماغ کو واپس حال میں لاتی ہیں۔ جب انسان غصے میں ہوتا ہے تو وہ حال میں نہیں ہوتا، وہ یا ماضی کے زخم میں ہوتا ہے یا مستقبل کے خوف میں۔ سانس کو آہستہ کرنا، ۱۰؍ سیکنڈ خاموش رہنا، پانی پینا، جگہ بدلنا یہ سب غصے کے سائیکل کو توڑتے ہیں۔ اسلام غصے کے مقابلے میں حِلم یعنی بردباری پیدا کرتا ہے۔ حلم کمزوری نہیں، طاقت ہے۔ جو اپنے آپ کو قابو کر لے، وہی اصل طاقتور ہے۔ حدیث شریف میں ہے: ”طاقتور وہ نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے، طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ “ یہ حدیث نوجوان کو طاقت کی نئی تعریف دیتی ہے۔ آج طاقت کا مطلب چیخنا، توڑنا، یا بدلہ لینا سمجھا جاتا ہے۔ اسلام طاقت کو ضبط ِنفس سے جوڑتا ہے۔ یہی تعریف اگر نوجوان کے شعور میں بیٹھ جائے تو اس کی پوری شخصیت بدل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اصل نور وہ ہے جو دل کو رَب سے جوڑ دے اور زندگی کو بامقصد بنا دے

غصے کے علاج میں عبادت کا کردار بھی بنیادی ہے۔ نماز صرف فریضہ نہیں، ایک تربیت ہے۔ دن میں پانچ بار انسان اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، اپنی انا کو توڑتا ہے، اپنی جلدی کو روکتا ہے، اپنی زبان کو نظم میں لاتا ہے۔ روزہ بھی غصے کے علاج کی تربیت ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ روزہ ڈھال ہے۔ ڈھال صرف بھوک کے مقابلے میں نہیں، نفس کے مقابلے میں بھی ہے۔

غصہ ور نسل کی اصلاح کیلئے ہمیں معاشرتی سطح پر بھی تبدیلی لانا ہوگی۔ گھر کے ماحول کو ایسا بنانا ہوگا جہاں نوجوان کو سنا جائے۔ اسکول کو ایسا بنانا ہوگا جہاں تربیت ہو۔ مسجد کو ایسا بنانا ہوگا جہاں اخلاقی قوت پیدا ہو۔ اور میڈیا و سوشل میڈیا کو ایسا بنانا ہوگا جہاں نفرت نہیں، مکالمہ ہو۔

ہمیں نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ غصہ تمہارا دشمن نہیں، تمہارا اشارہ ہے۔ یہ اشارہ بتاتا ہے کہ اندر کہیں درد ہے، کہیں خوف ہے، کہیں محرومی ہے۔ اور جب یہ درد سمجھ میں آ جائے تو غصہ خود بخود کمزور ہونے لگتا ہے۔

غصہ ور نسل کا مسئلہ صرف نوجوانوں کا نہیں، یہ ہمارے پورے ماحول کا مسئلہ ہے۔ ہم نے انہیں مقابلہ دیا، مگر سکون نہیں دیا۔ ہم نے انہیں اسکرین دی، مگر خاموشی نہیں دی۔ ہم نے انہیں آزادی دی، مگر مقصد نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اندر سے بے چین ہیں۔اور جب اندر سکون نہ ہو تو غصہ زبان بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پانی نعمت ِ عام ہے لیکن اس کا بھی حساب ہوگا

یومیہ زندگی میں اگر ہم صرف چار چیزیں نوجوان کو دے دیں تو غصہ بہت حد تک قابو میں آ سکتا ہے:معنی، تعلق، نظم، اور روحانی ربط۔ یہ چار چیزیں مل جائیں تو غصہ آگ نہیں رہتا، توانائی بن جاتا ہے جو ظلم کے خلاف کھڑی ہو، مگر انسانیت کے ساتھ۔ جو حق کے لئے بولے، مگر تہذیب کے ساتھ۔ جو اصلاح کرے، مگر محبت کے ساتھ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK