Inquilab Logo Happiest Places to Work

’لباسِ زندگی‘ : معیار و انتخاب

Updated: August 14, 2026, 5:08 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ عام طور پرنکاح چاراسباب کے تحت کیا جاتا ہے : دولت و ثروت کو دیکھ کر، خاندانی و جاہت سے متاثر ہو کر، حسن و جمال پر فریفتہ ہو کر اور دین داری اور اخلاق کو معیار بنا کر ، پھر آپؐ نے فرمایا کہ ’’دین دار لڑکی کا انتخاب کرکے کامیابی حاصل کرو۔‘‘

Choose your daughter-in-law and son-in-law based on religion and morality. Picture: INN
دین و اخلاق کی بنیاد پر بہو اور داماد کا انتخاب کیجئے۔ تصویر: آئی این این

کہا جاتا ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے، اس کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ اپنے ہی جیسے لوگوں کے ساتھ زندگی گزارے، یہ بھی اس کی ایک ضرورت ہے، اگر انسان کے لئے یہ بات کافی ہوتی کہ اسے پیٹ بھرنے کے لئے غذا، پہننے کے لئے کپڑے اور سر چھپانے کے لئے کوئی چھت میسر ہو تو جیل سے بڑھ کر اس کے لئے آرام و سکون کی کوئی جگہ نہیں ہوتی، قیدی قید کو انعام سمجھتے نہ کہ سزا، کہ یہاں کسی دوڑ دھوپ اور کد وکاوش کے بغیر اسے یہ ساری نعمتیں حاصل ہورہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: دُنیا دھوکے کی جگہ ہے ،یہاں مسافر بن جائیے، زندگی آسان گزرے گی

لیکن جیل انسان کے لئے سزا کیوں ہے ؟ اسی لئے نا، کہ وہ قید خانہ میں اپنے اہل تعلق سے کاٹ دیا جاتا ہے اور اپنے دوستوں سے بے تعلق رکھا جاتا ہے، یہی چیز اسے ہر لمحہ بے چین و بے قرار رکھتی ہے، انسان کے تعلق کا دائرہ بہت وسیع ہے، خاندان، پڑوس، ہم پیشہ لوگ، دوست احباب، اپنے پیشہ کی نسبت سے متعلقین، اساتذہ، شاگرد، شیخ، مرید، سارے اہل تعلق ہیں ، جن کی جدائی آدمی کو تڑپاتی اور بے قرار رکھتی ہے، یہاں تک کہ وہ درو دیوار اور فضائیں بھی، جس میں اس نے اپنا بچپن اور جوانی گزاری ہے اورجس سے اس کی بھولی بسری یادیں متعلق ہیں ، لیکن ان تمام رشتوں اور علائق میں ماں باپ، بال بچے اور بیوی کی یاد انسان کو سب سے زیادہ بے قرار کرنے والی ہوتی ہے، ماں باپ کا سہارا بچپن میں حاصل رہتا ہے، کبھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد، کبھی اس سے پہلے ہی یہ سہارا ٹوٹ جاتا ہے، بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو وہ اپنے کام دھام میں لگ جاتے ہیں ، اور ایسا کم ہوتا ہے کہ وہ مسلسل ماں باپ کے پاس مقیم رہیں ، گاہے گاہے ہی ملاقات کی نوبت آتی ہے، لیکن میاں بیوی ایک دوسرے کے ہمہ وقتی رفیق ہیں ، خوشی ہو یا غم، مسرت کے شادیا نے بجیں یا رنج والم کے تازیانے برسیں ، ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ، اسی لئے قرآن مجید نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لئے لباس قرار دیا ہے :’’وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو۔ ‘‘ ( البقرۃ : ۱۸۷ ) یہ ایک ایسی اچھوتی، البیلی، خوب صورت اور معنی خیز تعبیر ہے کہ ازدواجی زندگی کے تعلق کو اس سے بہتر الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ لباس میں یوں تو مختلف چیزیں دیکھی جاتی ہیں ، رنگ، ڈیزائن، بناوٹ، لیکن سب سے زیادہ موسموں کے لحاظ سے انسانی جسم کے ساتھ اس کی موافقت کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ ان ملبوسات میں بنیادی طور پر جو چیز پیش نظر ہوتی ہے، وہ یہی کہ یہ انسان کو موسمی نشیب و فراز سے بچانے والی اور اس کے جسم سے مناسبت رکھنے والی پوشاک ہو۔ 

یہ بھی پڑھئے: منافقین کی اقسام اور وہ علامات جو قرآن مجید میں بیان ہوئی ہیں

لباسِ زندگی یعنی شوہر و بیوی کے انتخاب میں بھی یہی معیار مطلوب ہے، رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ عام طور پرنکاح چاراسباب کے تحت کیا جاتا ہے : دولت و ثروت کو دیکھ کر، خاندانی و جاہت سے متاثر ہو کر، حسن و جمال پر فریفتہ ہو کر اور دین داری اور اخلاق کو معیار بنا کر، پھر آپؐ نے فرمایا کہ ’’دین دار لڑکی کا انتخاب کرکے کامیابی حاصل کرو۔ ‘‘ ( بخاری، حدیث نمبر : ۵۰۹۰ ) ایک حدیث میں آپؐ نے مزید وضاحت کی اور فرمایا کہ اگرتم نے حسن و جمال کو دیکھ کر شادی کی تو ممکن ہے کہ ان کا حسن انہیں ہلاک کردے اور اگر دولت کی وجہ سے نکاح کیا تو ممکن ہے کہ ان کی دولت انہیں مغرور کردے، اس لئے دین کی بنیاد پر شادی کرو۔ ‘‘ ( ابن ماجہ، حدیث نمبر : ۱۸۹ ) بعض روایتوں میں یہ مضمون آیا ہے کہ مال آنی جانی چیز ہے اور حسن ڈھل جانے والی شے ہے، اس لئے ان پر فریفتہ نہ ہو۔ ایک روایت میں ارشاد ہے کہ دنیا کا سب سے بہترین سامان نیک عورت ہے۔ (مسلم، حدیث نمبر : ۱۴۶۷) دین دار اور شریف عورت کی مثال موزوں اور موسم کے نشیب و فراز میں کام آنے والے لباس کی سی ہے، کیوں کہ تمام نیکیوں کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور تمام برائیوں کی اساس خدا سے بے خوفی ہے، جس شخص کے دل میں دین راسخ نہ ہو اور جس کا سینہ خدا کے خوف سے لبریز نہ ہو، اس کا معاملہ اپنے جیسے انسانوں کے ساتھ بھی بہتر نہیں ہوسکتا۔ 

اس لئے ایک دین دار شوہر اور دین دار بیوی ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرسکتے ہیں ، بے دین شخص سے اس کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ اسی لئے اللہ کے رسولؐ نے دین کی بنیاد پر رشتہ کے انتخاب کو ظفر مندی اور کامیابی کا باعث قرار دیا۔ کامیابی کا تعلق دُنیا سے بھی ہے اور آخرت سے بھی، پس دنیا میں بھی کامیاب ازدواجی زندگی کا راز دیندار اور خوش اخلاق رفیق حیات کا انتخاب ہے۔ شوہر و بیوی کی صالحیت اولاد پر بھی اثر انداز ہوتی ہے، اور اس کے خاندان میں بھی علم اور دین داری کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: معافی کا فلسفہ کیا ہے؟ اللہ نے اس میں کتنی برکت رکھی ہے!

سعید بن المسیّب ( متوفی : ۱۰۰ ھ ) ایک بڑے محدث اور فقیہ گزرے ہیں، ان کے علم و تفقہ پر پوری امت کا اجماع و اتفاق ہے۔ اگر تابعی یا تبع تابعی ( صحابی کو دیکھنے والا، یا صحابی کو جس نے دیکھا ہو، اسے دیکھنے والا ) براہِ راست نسبت کرتے ہوئے کوئی بات نقل کرے تو اسے علم حدیث کی اصطلاح میں ’’ حدیث مرسل ‘‘ کہتے ہیں، اس میں اختلاف ہے کہ یہ حدیث معتبر ہوگی یا نہیں ؟ امام ابو حنیفہؒ، اور امام مالکؒ اس کا اعتبار کرتے ہیں، امام شافعیؒ اورامام احمدؒ اس کا اعتبار نہیں کرتے، لیکن امام شافعیؒ سعید بن المسیّب کی مرسل کو اس سے مستثنیٰ کرتے ہیں اور معتبر مانتے ہیں، اس سے ان کے علمی پایہ و مرتبت اوردرجہ و مقام کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ 

سعید بن المسیّب کی ایک صاحبزادی بڑی ہی فہیم، صاحبِ علم اور با کمال خاتون تھیں۔ بادشاہِ وقت نے اپنے ولی عہد شہزادہ کے لئے اس لڑکی سے پیغام بھیجا، انہوں نے معذرت فرمادی۔ خوف تھا کہ کہیں دربارِ شاہی سے اس کیلئے اصرار ہو۔ انہی دنوں ایک واقعہ پیش آیا، کہ ان کے ایک ہونہار، لائق اور درس کے پابند شاگرد چند دنوں درس سے غیر حاضر رہ کر پھر ایک دن حاضر ہوئے۔ استاذ نے غیر حاضری کا سبب پوچھا، شاگرد نے عرض کیا کہ ان کی بیوی کی وفات ہو گئی ہے۔ استاذ نے پوچھا کہ تم نکاح کے لئے تیار ہو؟ شاگرد نے عرض کیا مجھ جیسے محتاج شخص کو کون اپنی لڑکی دینا گوارا کرے گا؟ استاذ نے پوچھا کہ تم اس کیلئے تیار ہو یا نہیں ؟ شاگرد نے رضامندی ظاہر کی، انہیں نادارا ور محتاج، لیکن لائق، ہونہار اور دین دار شاگرد سے سعیدؒ نے اسی مجلس میں نکاح پڑھا دیا۔ جب شام ہوئی تو اپنی لڑکی کا ہاتھ تھاما اور خود ہی ساتھ لے کر شاگرد کے مکان پہنچ گئے، دروازہ پر دستک دی، اندر سے سوال ہوا تو جواب دیا۔ شاگرد گھبرا گئے کہ خلافِ معمول اس وقت استاذ کیوں آئے؟ دروازہ کھولا تو حیرت زدہ رہ گئے، استاذ محترم اپنی صاحبزادی کا ہاتھ تھام کر اور انہیں ساتھ لے کر پہنچے تھے، فرمانے لگے : میں نے سوچا کہ جب تمہارا میری اس لڑکی سے نکاح ہوگیا ہے، تو تم تنہا کیوں رہو۔ اسی لئے تمہاری بیوی کو ساتھ لے کر آیا ہوں اور پھر واپس چلے گئے۔ 

یہ دین و اخلاق کی بنیاد پر بہو اور داماد کا انتخاب ہے۔ اگر گھر میں دیندار بہو آئے گی، اسلامی اخلاق کا حامل داماد آئے گا تو گھر میں دین کا چلن پیدا ہوگا، محبت کی فضاء قائم ہوگی، نماز روزہ کا معمول بنے گا، ٹی وی کے شو اور فلم کے گانوں کے بجائے تلاوتِ قرآن کی آوازیں گونجیں گی اور ان شاء اللہ پورا گھر جنت نشاں بن جائے گا۔ 

ور نہ یہ تو ممکن ہے کہ ظاہری اسبابِ آرائش گھر میں آجائیں، لیکن دین رخصت ہو جائے گا، زندگی ایثار و محبت کے بجائے باہمی کدورت اور خود غرضی پر مبنی ہوگی اور بوڑھے ماں باپ ایک بوجھ بن جائیں گے، اس کی مثالیں آج سماج میں کسی تلاش کے بغیر مل سکتی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK