حدیث شریف میں آتا ہے کہ ’’صدقہ سے مال بڑھتا ہے، عفو ودرگزر سے عزت زیادہ ہوتی ہے اور عاجزی وفروتنی سے اللہ عزت دیتا ہے۔ ‘‘
EPAPER
Updated: August 14, 2026, 4:50 PM IST | Hazrat Maulana Mufti Mahmud Gangohi (may Allah have mercy on him) | Mumbai
حدیث شریف میں آتا ہے کہ ’’صدقہ سے مال بڑھتا ہے، عفو ودرگزر سے عزت زیادہ ہوتی ہے اور عاجزی وفروتنی سے اللہ عزت دیتا ہے۔ ‘‘
حدیث شریف میں آتا ہے کہ ’’صدقہ سے مال بڑھتا ہے، عفو ودرگزر سے عزت زیادہ ہوتی ہے اور عاجزی وفروتنی سے اللہ عزت دیتا ہے۔ ‘‘ دنیا میں جتنے بھی فتنے ہیں وہ مال کی بنا پر ہیں۔ مال کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے، اس کی وجہ سے ناچاقیاں ہوتی ہیں، لڑائیاں اور جھگڑے ہوتے ہیں اور اسی کی وجہ سے کشت وخون ہوتے ہیں۔ یہ کچہریاں، یہ کورٹ، یہ قضاء، یہ وکلاء، یہ پیش کار، یہ مختار کار، یہ عریضہ نویس سب اسی مال سے پیدا شدہ تنازعات کے لئے بیٹھے ہیں۔ جس کے پاس ایک موٹر ہے چاہتا ہے دو ہو جائیں، جس کے پاس دوہیں چاہتا ہے تین ہو جائیں۔ جس کے پاس ایک کوٹھی ہے چاہتا ہے دو ہو جائیں اور جب دو ہو جاتی ہیں تو چاہتا ہے کہ تین ہو جائیں۔ جس کی ایک مل ہے چاہتا ہے دو ہو جائیں اور دو ہو جاتی ہیں تو چاہتا ہے کہ تین ہو جائیں۔ اگر ایک لاکھ کا مالک ہے تو چاہتا ہے کہ دو لاکھ کا مالک ہو جاؤں، جب دو لاکھ کا مالک ہو جاتا ہے تو چاہتا ہے کہ تین کا مالک ہو جاؤں، الی آخرہٖ۔ اس طرح اس کی یہ خواہش بڑھتی رہتی ہے، ختم نہیں ہوتی، یہاں تک کہ مالی بڑھوتری اور زیادتی کی خواہش میں ایسا اندھا ہو تا ہے کہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس مال کے حصول کی وجہ سے کسی کو اذیت پہنچ رہی ہے، کسی کی عزت جارہی ہے، ارے! کسی کی عزت تو کیا اس اندھے پن میں اسے اپنی عزت کے ضیاع کا بھی خیال نہیں رہتا۔ بس مال آنا چاہئے، خواہ کسی طرح بھی ہو۔ نہ حلال دیکھتا ہے، نہ حرام دیکھتا ہے، بس لگا ہوا ہے۔ یہ صبح شام محنت، یہ سردی گرمی کی بے فکری، قوت لا یموت اور بقدر ضرورت کمانے کے لئے نہیں۔ یہ اسی کثرت وزیادتی کے لئے ہے۔ یہ مالی زیادتی اگر سود سے حاصل ہوتی ہے تو سود لیتا ہے، حالاں کہ قرآن پاک میں صاف موجود ہے کہ سود کھانے والے سے اللہ کا کھلا اعلان جنگ ہے، سود کو اللہ مٹاتا ہے۔ مشاہدہ ہے کہ سود سے جو مال آتا ہے برکت واطمینان والا نہیں ہوتا، کبھی کسی ناگہانی مصیبت یا بیماری میں لگ جاتا ہے اور کبھی مقدمہ میں لگ جاتا ہے اور آخرت کا وبال تو الگ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: نوافل میں قعدہ اولیٰ، عقیقہ کا سوال، دوسرے کی کمپنی کا نام استعمال کرنا
لوگوں کو حضورؐ کا قول: ”سود سے مال میں کمی آتی ہے اور صدقہ سے زیادتی ہوتی ہے“ سمجھ میں نہیں آتا، کہتے ہیں ! ”مولوی صاحب! سو پر دس ملتے ہیں تو ایک سو دس ہو جاتے ہیں “ مال بڑھ گیا اور سو سے پانچ دیئے تو پچانوے ہوگئے، مال کم ہوگیا۔
صادق مصدوقؐ کا قول حق اور سچ ہے، ہماری آنکھیں جو دیکھ رہی ہیں یہ غلط ہے، ہمارا دماغ جو سوچ رہا ہے یہ غلط ہوسکتا ہے۔ یہ اس ذاتِ گرامیؐ کا قول ہے جس کے قول میں غلطی کا شائبہ نہیں کہ اس کا قول وحی الٰہی ہے۔ یہ اس ذاتِ اقدسؐ کا قول ہے جسے تمام احوال کی خبر ہے۔ ہماری اس بیچاری آنکھ کو کیا معلوم۔ یہ اس ذاتِ گرامیؐ کا قول ہے جسے دشمنوں اور ظالموں نے بھی صادق وامین کہا، ساحر کہا، شاعر کہا، مجنون کہا، پاگل دیوانہ کہا، لیکن اس صداقت ِ عظمیٰ کو وہ بھی خائن وکاذب نہ کہہ سکے۔ ہماری آنکھیں خطا کرتی ہیں، آنکھ سے دیکھے ہوئے میں دن رات غلطی ہوتی ہے۔ ڈرائیور دیکھ کر گاڑی چلاتا ہے، لیکن آئے دن حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ایکسیڈنٹ ان کے آنکھ بند ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتے، آنکھیں کھلی ہی ہوتی ہیں، خود غور سے دیکھتے ہیں، بڑے چوکنا رہتے ہیں، دیکھنے کے اعلیٰ انتظامات بھی ہوتے ہیں اور حادثہ سے بچنے کی پوری کوشش بھی کی جاتی ہے، لیکن پھر بھی آنکھ خطا کرتی ہے اور حادثات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ اس آنکھ کے دیکھے ہوئے پر یقین کیے ہوئے، ہائے۔
ہرن سمجھ کر نشانہ لگاتا ہے، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ ارے یہ ہرن نہیں یہ تو آدمی تھا۔ ایسی آنکھ پر اعتماد کیے ہوئے ہو جو آدمی کو ہرن سمجھ کر انسان کی جان لے لیتی ہے۔
ایک ڈاکیہ ہمارے دارالعلوم میں تار لے کر آیا، کہتا ہے ”کتابے دین“ کا تار ہے، سارے مدرسے میں ڈھونڈتا ہے اور پوچھتا ہے، حالاں تار پر ’’قطب الدین‘‘ لکھا تھا۔ آنکھ سے دیکھ رہا تھا، لیکن غلطی ہوئی۔
ایک آدمی حساب کرتا ہے اور دو دو چھ کہتا ہے، غلطی ہوئی ہے، ساری رات پریشان ہوتا ہے، صبح دوبارہ کرتا ہے اور حساب صحیح ہو جاتا ہے۔ تو یہ پہلی بار کی غلطی آنکھ بند ہونے کی وجہ سے نہیں ہوئی، آنکھ کھلی تھی، لیکن آنکھ سے غلطی ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: حج بدل کا ذکر تو کتابوں میں ہے مگر عمرہ بدل دَور حاضر کی اصطلاح ہے
بچہ قاعدہ پڑھتا ہے، غلطی کرتا ہے، قاری صاحب کہتے ہیں دیکھ کر پڑھ۔ بچہ پھر غلطی کرتا ہے، قاری صاحب کہتے ہیں کہ ارے! آنکھیں کھول، دیکھ کر پڑھ اور ایک تھپڑ رسید کرتے ہیں۔ بچہ صحیح پڑھنے لگتا ہے، پہلے بار بار غلطی آنکھ بند ہونے کی وجہ سے نہیں ہورہی تھی۔
غرض جس طرح ہمارا دیکھنا ناقص ہے، اسی طرح دوسرے حواس بھی ناقص ہیں، لیکن حضورؐ کا قول پکا ہے، اس میں غلطی اور خطا کا ذرہ برابر بھی احتمال نہیں ہے، ہماری آنکھ سے دیکھا ہوا غلط ہوسکتا ہے، حضورؐ کا قول غلط نہیں ہوسکتا، حضورؐ کا قول ہے کہ صدقہ سے مال میں زیادتی ہوتی ہے اور سود سے کمی ہوتی ہے، یہ سچ ہے، حق ہے۔ صحابہ کرامؓ حضورؐ کے اقوال کو خوب سمجھتے تھے، اس لئے ہر قول پر فوراً من وعن عمل کرتے تھے، چناں چہ سالہا سال سے سود لینے والوں نے ممانعت سن کر سود لینا چھوڑ دیا، بلکہ سابقہ اور گزشتہ بھی نہ لیا اور کثرت سے صدقہ وخیرات کرتے تھے۔ سخاوت وفیاضی ہر صحابیؓ کی زندگی میں ملتی ہے۔
عدی ؓبن حاتم نے کہا: ’’اس گھر سے برتن خالی نہیں جاتے ‘‘
عدی بن حاتمؓ، صحابی ٔ رسولؐ ہیں۔ عدیؓ سے ایک شخص نے کہا کہ ہمارے ہاں شادی ہے اس لئے برتن چاہئے۔ پوچھا کتنے؟ کہا بڑے پیمانے پر۔ عدی نے دن تاریخ معلوم کر لی اور کہا کہ انتظام ہو جائے گا۔ وہ شخص مطمئن ہوگیا۔ شادی میں پانچ روز رہے، چار، دو، ایک، یہاں تک کہ عین شادی کا دن آگیا اور اب تک برتن نہ آئے، وہ شخص سخت پریشان، لیکن دیکھتا کیا ہے کہ عین شادی کے دن برتن بہترین کھانوں سے پُر پہنچ گئے۔ وہ شخص بہت خوش ہوا کہ چلو پکوانے کے انتظامات، تکلیف اور خرچ سے بھی بچ گئے۔ کبھی بعد میں اس شخص نے کہا کہ حضرت! ہم نے تو صرف برتنوں کے لئے کہا تھا۔ عدیؓ نے کہا کہ ’’اس گھر سے برتن خالی نہیں جاتے۔ ‘’صحابہ کرامؓ اور اولیائے عظام ؒ کی زندگیوں میں اس قسم کے ہزاروں واقعات ملتے ہیں۔
آپؐ نے سنا’’ آپؐ کی رحیم ذات مجھے بچائے گی‘‘ اور معاف فرما دیا
حدیث پاک کا دوسرا جملہ کہ عفو یعنی معاف کرنے سے عزت میں زیادتی ہوتی ہے، لیکن آدمی قوت، قبیلے کی تعداد اور خاندان کی کثرت کی وجہ سے یہ بات سمجھ نہیں پاتا اور عفو سے کام لینا گویا اپنی بزدلی اور بے عزتی سمجھتا ہے اور کثرت نفراسے انتقام پر ابھارتی ہے۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے سائے میں آرام فرما رہے تھے، تلوار قریب ہی درخت میں لٹک رہی تھی، ایک کافر آیا، تلوار ہاتھ میں لے کر کہنے لگا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! اب آپ کو اس تلوار سے کون بچائے گا؟ آپ ؐنے فرمایا ”اللہ“۔ وہ ششدر اور حیران رہ گیا اور تلوار ہاتھ سے گر پڑی، حضور ؐ نے تلوار اٹھالی اور فرمایا کہ اب تجھے اس تلوار سے کون بچائے گا؟ وہ کافر تھرا گیا اور کہا کہ آپ ہی کی رحیم ذات۔ حضور ؐ نے اسے معاف کردیا۔ وہ کافر اتنا متاثر ہوا کہ ایمان لے آیا۔
مکہ کی تیرہ سالہ زندگی میں کفار قریش نے مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیں، آرے سے جسم کو چیرا، آگ میں لٹایا، رسوں میں باندھ کر گھسیٹا، غرض ہر طرح کے مظالم ڈھائے، لیکن جب مکہ فتح ہوا اور حضورﷺاور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مکہ میں داخل ہوئے تو کسی سے انتقام نہ لیا، حالاں کہ پرانے مظالم کا بدلہ لے سکتے تھے اس کے برخلاف، عام معافی کا اعلان کردیا گیا۔ ایسی مثال تاریخ نہیں پیش کرسکتی، پھر اسی عفو کی برکت سے لوگ جوق در جوق کفار حلقہ اسلام میں داخل ہوئے۔
’’اے اللہ! جس طرح تو انہیں غرق کرنے پر قادر ہے اسی طرح انہیں ہدایت دینے پر قادر ہے،تو انہیں ہدایت دے دے‘‘ایک دفعہ ایک کشتی میں کچھ اوباش اور من چلے سفر کررہے تھے، سازورنگ اور مستی کا ہر سامان موجود تھا، ایک ”سر پٹ“ (یعنی ایسا شخص جس پر مستی کے وقت چپت لگائیں) کی ضرورت تھی۔ کشتی رکی، قریب میں ویرانے میں حضرت ابراہیم بن ادہم بلخی رحمۃ اللہ علیہ مراقب نظر آئے۔ لڑکے خوش ہوئے اور پکڑ کر کشتی میں لے گئے اور چاروں طرف سے چپت لگانا شروع کردیا، اللہ جل شانہ کو غصہ آیا اور ابراہیم بن ادہمؒ کے دل میں القاء کیا کہ کہو تو ساری کشتی کو غرق کردوں؟ تو عرض کیا کہ ’’اے اللہ! جس طرح تو انہیں غرق کرنے پر قادر ہے اسی طرح انہیں ہدایت دینے پر قادر ہے،تو انہیں ہدایت دے دے۔ ‘‘اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت دی اور وہ سب اولیاء ہوگئے۔