ہجرتِ مدینہ کے بعد اسلام کو یہودیوں سے سابقہ پڑا۔ یثرب کے اصلی باشندے گو انصار تھے۔ لیکن عملاً اس علاقے کے اقتدار پر یہود کا قبضہ تھا۔ تجارت و زراعت پر انہی کا تسلط تھا۔ تعلیمی اور معاشرتی اعتبار سے بھی یہ زیادہ مستحکم تھے۔
EPAPER
Updated: August 14, 2026, 4:59 PM IST | Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri | Mumbai
ہجرتِ مدینہ کے بعد اسلام کو یہودیوں سے سابقہ پڑا۔ یثرب کے اصلی باشندے گو انصار تھے۔ لیکن عملاً اس علاقے کے اقتدار پر یہود کا قبضہ تھا۔ تجارت و زراعت پر انہی کا تسلط تھا۔ تعلیمی اور معاشرتی اعتبار سے بھی یہ زیادہ مستحکم تھے۔
ہجرتِ مدینہ کے بعد اسلام کو یہودیوں سے سابقہ پڑا۔ یثرب کے اصلی باشندے گو انصار تھے۔ لیکن عملاً اس علاقے کے اقتدار پر یہود کا قبضہ تھا۔ تجارت و زراعت پر انہی کا تسلط تھا۔ تعلیمی اور معاشرتی اعتبار سے بھی یہ زیادہ مستحکم تھے۔ الغرض مذہب، معیشت اور سیاست کے میدان میں یہود کا سکہ رواں تھا۔ یہ بنیادی طور پر کافر نہ تھے بلکہ اہل کتاب میں سے تھے۔ لیکن موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کو اس وقت تقریباً۱۹؍ سو سال گزر چکے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: معافی کا فلسفہ کیا ہے؟ اللہ نے اس میں کتنی برکت رکھی ہے!
تورات لفظاً و معناً ہر طرح محرف ہو چکی تھی بلکہ اس سے پہلے اور بعد کی آسمانی کتابیں اور صحیفے بھی تحریف کا شکار ہو چکے تھے۔ دینِ حق اور نبوت کو انہوں نے نسل اسرائیل کی وراثت سمجھ رکھا تھا۔ یہودیت پر انہیں بہت ناز تھا۔ اور اسی نسلی تفاخر اور متعصبانہ زعم نے انہیں گمراہی سے ہمکنار کر دیا تھا۔ جو تعلیمات الٰہیہ جس قدر بھی صحیح صورت میں موجود تھیں ان کا اخفاء اور خود تراشیدہ تاویلات کے ذریعے ان کی معنوی تحریف ان کا شیوہ تھا۔ مزید برآں ان کے علماء اور سردار بھی اعتقادی گمراہی کے علاوہ عملی تباہی اور گراوٹ کی انتہا کو پہنچ چکے تھے۔ حق پوشی، خود پسندی اور مفاد پرستی کے باعث نہ وہ اپنی اصلاح کے لئے تیار تھے اور نہ ہی کسی ہادی و رہنما کی بات سننے کو، بلکہ راہِ حق کی طرف بلانے والوں کا تمسخر، ان کی مخالفت و مزاحمت اور ان کے خلاف سازش و کینہ پروری ان کی سیرت کا جزو لا ینفک بن چکی تھی۔ فی الحقیقت یہ ایک ایسی بگڑی ہوئی اُمت تھی جس کی اعتقادی اور عملی اصلاح کی کوئی صورت ظاہراً نظر نہیں آتی تھی۔ کیونکہ یہ لوگ اپنی تمام علمی، اعتقادی، عملی اور اخلاقی خیانتوں کے باوجود خود کو سب سے بڑا دین دار، دانش مند، ہدایت یافتہ اور بخشش کا مستحق طبقہ تصور کرتے تھے۔ حالانکہ انہوں نے خدا کے انعام کو ٹھکرا کر اس کے غضب کو دعوت دی تھی اور نتیجۃً تمام نعمتوں سے محروم ہو چکے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سب سے پہلے ان کی اصلاح اور انکے اعتقادی اور عملی بگاڑ کے اثرات کو زائل کرنا تھا۔ کیونکہ مدینہ میں سب سے زیادہ ذی اثر اور ذی حیثیت لوگ یہی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سورہ بقرہ کی تعلیمات کا بیشتر حصہ یہود ہی سے متعلق ہے۔ عامۃ الناس اور ملت اسلامیہ کیلئے بھی ان مخصوص تعلیمات کی اہمیت کچھ کم نہیں کیونکہ یہودیت صرف ایک مذہب ہی نہیں بلکہ ایک مستقل ذہنیت بن چکی ہے جس کا مشاہدہ ہم آج بھی مختلف کرداروں کے روپ میں کر سکتے ہیں۔
مدنی دور میں منافقین کا طبقہ بھی نمایاں طور پر معرضِ وجود میں آ گیا تھا۔ اسلام کو کھلی مخالفت و مزاحمت کا سامنا تو آغازِ دعوت کے وقت سے ہی تھا اور اہلِ اسلام اس سلسلے میں بے پناہ مصائب شدائد برداشت کرتے چلے آئے تھے لیکن ہجرت مدینہ کے بعد ایک نئی طرز کی مخالفت بھی بڑے زور و شور سے شروع ہو گئی اور یہ تھی ’’منافقت‘‘۔ کچھ لوگوں نے زبان سے اقرار کر لیا، ظاہراً اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئے اور مسلمانوں کے ہمراہ اسلامی تحریک میں شامل ہونے کا دعویٰ کرنے لگے لیکن یہ لوگ فی الحقیقت ’’منافق‘‘ تھے اور منافقین بھی کئی اقسام کے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: صحابۂ کرام ؓ، حضورؐ کے رفقاء ہی نہیں، شریعت کے محافظ اور امت کیلئے معیارِ حق بھی ہیں
منافقین کی اَقسام
پہلی قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کے برحق ہونے کے قائل تھے لیکن اس کی خاطر نہ اپنے مفادات کی قربانی کے لئے تیار تھے اور نہ مصائب و آلام کو برداشت کرنے کے لئے لہٰذا کچھ خود غرضی و مفاد پرستی اور کچھ بزدلی ان کے سچا مسلمان ہونے کے راستے میں حائل تھی۔
دوسری قسم ایسے منافقین کی تھی جو دل سے قطعاً اسلام کے منکر تھے اور محض سازش اور فتنہ و شر کے لئے اسلامی صفوں میں گھس آئے تھے۔ یہ اسلام کے بہت بڑے دشمن تھے۔
تیسری قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کے اقتدار و حکومت کے باعث مفاد پرستانہ خواہشات کے تحت اسلام سے وابستہ ہو گئے تھے۔ لیکن مخالفینِ اسلام سے بھی اپنا تعلق بدستور قائم رکھے ہوئے تھے تاکہ دونوں طرف سے حسب ِ موقع فوائد بھی حاصل کر سکیں اور دونوں طرف کے خطرات سے بھی محفوظ رہیں۔
چوتھی قسم ایسے منافقین کی تھی جو ذہنی طور پر اسلام اور کفر کے درمیان متردد تھے۔ نہ انہیں اسلام کی حقانیت پر کامل اعتماد تھا اور نہ وہ اپنے سابقہ کفر یا جاہلیت پر مطمئن تھے۔ وہ اوروں کی دیکھا دیکھی مسلمان ہو گئے تھے لیکن اسلام ان کے اندر راسخ نہیں ہوا تھا۔
پانچویں قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کو حق سمجھتے ہوئے دل سے اس کے قائل تو ہو چکے تھے لیکن پرانے اوہام و عقائد اور رسم و رواج کو چھوڑنے، دینی اور اخلاقی پابندیوں کو قبول کرنے اور اوامر و نواہی کے نظام پر عمل پیرا ہونے کیلئےان کا نفس تیار نہیں ہو رہا تھا۔
چھٹی قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کو توحید، احکامِ الٰہی اور آخرت وغیرہ پر ایمان لانے کی حد تک تو تسلیم کرتے تھے لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی اور وفاداری سے گریزاں تھے۔ نہ وہ حضور ؐ کی عظمت و سیادت دل سے ماننے کو تیار تھے اور نہ آپؐ کی حاکمیت و شفاعت۔ اس میں وہ اپنی ہتک اور ذلت محسوس کرتے تھے۔ چنانچہ وہ تعلق نبوی ؐ کے بغیر ذاتِ ربانی تک رسائی حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔
اسلام اپنے پیروکاروں کو تمام منافقین کی پہچان کروانا چاہتا تھا تاکہ وہ مسلمانوں کی صفوں میں موجود رہ کر اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ نہ پہنا سکیں۔ اس لئے سورہ بقرہ نے اس سلسلے میں اہم اشارات فراہم کئے تاکہ حق و باطل میں امتیاز کا صحیح شعور پیدا ہو سکے۔ اس کا دوسرا رکوع اس ضمن میں بطورِ خاص نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دُنیا دھوکے کی جگہ ہے ،یہاں مسافر بن جائیے، زندگی آسان گزرے گی
سورہ البقرہ کی آیات ۸؍تا۲۰؍ میں ارشاد ہوتا ہے:’’اور لوگوں میں سے بعض وہ (بھی) ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر اور یومِ قیامت پر ایمان لائے حالانکہ وہ (ہرگز) مومن نہیں ہیں۔ وہ اللہ کو (یعنی رسولؐ کو)اور ایمان والوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر (فی الحقیقت) وہ اپنے آپ کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے، پس اللہ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے، اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد بپا نہ کرو، تو کہتے ہیں : ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں - آگاہ ہو جاؤ! یہی لوگ (حقیقت میں ) فساد کرنے والے ہیں مگر انہیں (اس کا) احساس تک نہیں۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (تم بھی) ایمان لاؤ جیسے (دوسرے) لوگ ایمان لے آئے ہیں، تو کہتے ہیں کیا ہم بھی (اسی طرح) ایمان لے آئیں جس طرح (وہ) بیوقوف ایمان لے آئے؟جان لو بیوقوف (درحقیقت) وہ خود ہیں لیکن انہیں (اپنی بیوقوفی اور ہلکے پن کا) علم نہیں۔ اور جب وہ (منافق) اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم (بھی) ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم یقیناً تمہارے ساتھ ہیں، ہم (مسلمانوں کا تو) محض مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ انہیں ان کے مذاق کی سزا دیتا ہے اور انہیں ڈھیل دیتا ہے (تاکہ وہ خود اپنے انجام تک جا پہنچیں ) سو وہ خود اپنی سرکشی میں بھٹک رہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی لیکن ان کی تجارت فائدہ مند نہ ہوئی اور وہ (فائدہ مند اور نفع بخش سودے کی) راہ جانتے ہی نہ تھے۔ ان کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس نے (تاریک ماحول میں ) آگ جلائی اور جب اس نے گرد و نواح کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کا نور سلب کر لیا اور انہیں تاریکیوں میں چھوڑ دیا اب وہ کچھ نہیں دیکھتے۔ یہ بہرے، گونگے (اور) اندھے ہیں پس وہ (راہِ راست کی طرف) نہیں لوٹیں گے۔ یا ان کی مثال اس بارش کی سی ہے جو آسمان سے برس رہی ہے جس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (بھی) ہے تو وہ کڑک کے باعث موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں، اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ یوں لگتا ہے کہ بجلی ان کی بینائی اچک لے جائے گی، جب بھی ان کے لئے (ماحول میں ) کچھ چمک ہوتی ہے تو اس میں چلنے لگتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں، اور اگر اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل سلب کر لیتا، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ‘‘