قرآن و حدیث میں دنیا کو دھوکے کی ٹٹی اور متاع ِ غرور کہا گیا ہے لیکن ہم اس سے بچنے کے بجائے اس میں سرتا پا ڈوب گئے ہیں جبکہ ہم بھی اور دنیا بھی فانی ہے۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 5:11 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai
قرآن و حدیث میں دنیا کو دھوکے کی ٹٹی اور متاع ِ غرور کہا گیا ہے لیکن ہم اس سے بچنے کے بجائے اس میں سرتا پا ڈوب گئے ہیں جبکہ ہم بھی اور دنیا بھی فانی ہے۔
اسلامی تعلیمات میں یہ بات ہر انسان کے لئے واضح کردی گئی ہے کہ وہ یہاں صرف ایک مختصر مدت گزارنے آیا ہے۔ انسان کے یہاں آنے کا مقصد دنیاوی مال ودولت جمع کرنا نہیں ہے بلکہ اپنے خالق ومالک کی عبادت کرنا اور اپنی آخرت کے لئے نیک اعمال کا توشہ ساتھ میں لینا ہے۔ اور پھر اس کے ساتھ ہی ’’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے‘‘ کی قید بھی لگادی گئی ہے تاکہ انسان یہ بات اچھی طرح سمجھ جائے کہ دنیا کی دولت، نام، سونا، چاندی ، آل اولاد، دوست یار، عزیز واقارب ، رشتہ دار، سیر سپاٹا، بنگلے، جائیداد، عہدے، طاقت، جوانی غرضیکہ ہرچیز یہاں کی کچھ دیر کی ہےاور یہ دنیا کی زندگی مجموعی طورپر ’پل بھر کا تماشا‘ ہے۔
ان تعلیمات کا مقصد ایک ہی ہے: انسان یہ بات اچھی طرح جان لے کہ دنیا اس کا ابدی ٹھکانہ نہیں ہے۔ وہ چاہ کر بھی ایک مدت سے زیادہ یہاں ٹھہر نہیں پائے گا۔اللہ عزوجل نےقرآن مجید میں اس دنیا وی زندگی کو ’’دھوکے کا سامان‘‘ قرار دیا۔ انسان یہ بات اچھی سے سمجھ لے، اس کے لئے اللہ عزوجل نے سورۃ الحدید میں ایک بہترین مثال کے ذریعہ یہی بات بیان کی ہے:’’ جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے اور ظاہری آرائش ہے اور آپس میں فخر اور خود ستائی ہے اور ایک دوسرے پر مال و اولاد میں زیادتی کی طلب ہے، اس کی مثال بارش کی سی ہے کہ جس کی پیداوار کسانوں کو بھلی لگتی ہے پھر وہ خشک ہو جاتی ہے پھر تم اسے پک کر زرد ہوتا دیکھتے ہو پھر وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے، اور آخرت میں (نافرمانوں کے لئے) سخت عذاب ہے اور (فرمانبرداروں کے لئے) اللہ کی جانب سے مغفرت اور عظیم خوشنودی ہے، اور دنیا کی زندگی دھوکے کی پونجی کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘ (سورہ الحدید:۲۰)
یہ بھی پڑھئے: حالات کا تقاضا ہے کہ فکرِ رضا کا اعادہ کیا جائے، اسے رسمی نہ بنایا جائے
قرآن مجید کے احکامات کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت میں بھی دنیاوی زندگی کے متعلق یہی تعلیمات ملتی ہیں۔ بیشمار احادیث میں اپنے قول سے، اور اپنی حیات طیبہ میں اپنے عمل سے آپؐ نے اس دنیا میں زندگی گزارنے کا طریقہ ہم پر واضح فرمادیا۔ ایک حدیث پاک میں مختصر لیکن نہایت مؤثر الفاظ میں آپؐ نے واضح کردیا ہے کہ امت ِ مسلمہ کو اس دنیا میں زندگی گزارنےکے لئے کون ساراستہ اختیار کرنا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:’’دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم اجنبی ہو یا راستہ چلنے والے مسافر۔‘‘
یہ الفاظ ’’اجنبی‘‘ اور ’’مسافر‘‘ اگر ہر انسان اپنے ذہن میں پیوست کرلے ، ان کی اہمیت کو سمجھ لے اور اس کی فکر کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر فیصلے اور ہر عمل میں یہ دو الفاظ اگر باربارچھلکنے لگیں تو انسان کے لئے زندگی جینا بالکل اسی طرح آسان ہوجائے جس آسانی اور خوشگواری کے ساتھ اس نے اپنا بچپن گزارا تھا۔ دنیا کی پریشانی اپنے آپ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی، یہ توحضرت انسان ہے جو کبھی لالچ کی وجہ سے، تو کبھی اپنی غلط سوچ کی وجہ سے دنیا بھر کی فکریں خود پر لادے گھومتا رہتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں کہیں ایک میسج مطالعے میں آیا تھا کہ ’’ہم ساری زندگی خود کو سنوارتے ہیں کہ لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کسی کو کسی کی حقیقی پروا نہیں ہے، لوگ اخیر میں صرف اتنا ہی کہتے ہیں: انّا للہ وانا الیہ راجعون۔ ‘‘اسی لئے اسلام اپنے ماننے والوں کو دنیاوی بکھیڑوں سے پاک رہنے اور اللہ عزوجل اپنے بندے کے متعلق، اس کے اعمال کے متعلق کیا کہے گا اس بات کو دھیان میں رکھ کر زندگی گزارنے کی تلقین کرتا ہے۔ اوراس طرح کی زندگی اس وقت ہی گزاری جاسکتی ہے جب انسان دنیا میں رہے لیکن دنیا کی محبت سے دور رہے۔
مذکورہ تعلیمات کو سمجھنے اور اسلام کے بتائے ہوئے طریقۂ زندگی کو جاننے کے بعد ہمیں اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ جب ایک انسان اس دنیا میں ایک اجنبی اور مسافر کی طرح زندگی گزارتا ہے تو آخرت کی تیاری میں اور آخرت میں تو اس کو یقیناً بیشمار فوائد پہنچیں گے ہی، لیکن اس کو یقیناً دنیاوی فائدے بھی ملیں گے اور اس کی دنیاوی زندگی بھی نہایت ہنستے کھیلتے اور مسکراتے ہوئے آسانی کے ساتھ گزرجائےگی۔
مثال کے طور پر سب سے پہلے دنیا کے سارے غم اس کو ہیچ اور بے وقعت محسوس ہوں گے۔ اس لئے کہ وہ ان مشکلات کو اس عینک سے دیکھے گا کہ سب عارضی اور وقتی ہیں۔ یہ خیال انسان کے دل میں پائی جانے والی ہر فکر اور پریشانی کا تریاق اور علاج ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ آج کے دور کا مادہ پرست انسان جودیوانہ وار دنیاوی مال ومتاع کے پیچھے بھاگاجارہا ہے، اگر وہ خود کو اس دنیا میں مسافر سمجھے تویقینا ً وہ تھکے گا، رکے گا، آرام کرے گااور سازوسامان کے ساتھ کچھ سکون حاصل کرنے کی بھی کوشش کرے گا۔ پھر انسان کو وہ مقام حاصل ہوگا جس کو اللہ عزوجل نے ’’اے اطمینان والی جان‘‘کہا ہے۔ ایک ایسا دل جس میں دنیا کے بکھیڑے نہ ہوں گے اور ان کے سبب پیداہونے والی فکریں بھی نہ ہوں گی۔ وہ دل ایسا ہوگا کہ اللہ عزوجل اسے دنیاوی نعمتیں دے گا تو شکرکرے گا، اللہ عزوجل نہیں دے کر آزمائے گا تو صبر کرے گا،لیکن بہرصورت اس دل میں چین، اطمینان او ر سکون کا بسیرا رہے گا۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: نوافل میں قعدہ اولیٰ، عقیقہ کا سوال، دوسرے کی کمپنی کا نام استعمال کرنا
ایک اور بات یہ ہے کہ دنیاوی مال ومتاع کی حرص نہ ہونے کی وجہ سے انسان لوگوں کے درمیان محبوب بھی بن جاتا ہے۔انسان کویہ بات جان لینا چاہئے کہ لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے کا ایک نسخہ یہ بھی ہے کہ انسان مال ودولت کی محبت اپنے دل میں نہ رکھے۔نبی کریم ؐ کی ایک حدیث اس نکتے کو بہت عمدہ انداز میں واضح کرتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا:’’دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور لوگوں کے مال سے بے نیاز رہو، لوگ تم سے محبت کریں گے۔ ‘‘
ان تعلیمات کے ساتھ ایک اور بات جو عام طور پر اسفار میں تجربے اور مشاہدے میں آئی ہے وہ بیان کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسافر جس کے پاس سازوسامان کم ہوتا ہے، اس کا سفر بڑی آسانی کے ساتھ کٹ جاتا ہے۔ نہ اس کو سواری میں چڑھنے میں دقت ہوتی ہے نہ اترنے میں۔ اس کو دوران سفر چورڈاکوؤں کا ڈر بھی نہیں لگا رہتا۔ بس اسی مثال اور اسی اصول کو اگر ہم اپنی زندگی کے لئے بھی برتیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ دنیا کے اس سفر میں بھی انسان جتنا ہلکا پھلکا رہے گا اور دنیاداری کا بوجھ جتنا کم سے کم رکھے گا، اتنا ہی آسان اور پریشانیوں سے پاک رہے گا۔