Inquilab Logo Happiest Places to Work

یاد رہے، ہر تکلیف ہاتھ سے نہیں پہنچتی، بعض زبان سے پہنچائی جاتی ہے اور بعض خاموش رویوں سے!

Updated: August 14, 2026, 4:21 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

معاشرے کی اصل خوب صورتی اس کی عمارتوں، سڑکوں یا بازاروں سے نہیں ناپی جاتی؛ اس کا اصل حسن اس بات میں پوشیدہ ہوتا ہے کہ وہاں ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ کس قدر امن، احترام اور انصاف سے پیش آتا ہے۔

Learn to control your reactions, and no one will be hurt. Picture: INN
رویوں پر قابو پانا سیکھ لیجئے، کسی کو تکلیف نہیں پہنچے گی۔ تصویر: آئی این این

معاشرے کی اصل خوب صورتی اس کی عمارتوں، سڑکوں یا بازاروں سے نہیں ناپی جاتی؛ اس کا اصل حسن اس بات میں پوشیدہ ہوتا ہے کہ وہاں ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ کس قدر امن، احترام اور انصاف سے پیش آتا ہے۔ اگر کسی شخص کو گھر میں اپنی زبان سے، بازار میں اپنے رویے سے، دفتر میں اپنے اختیار سے، تعلیمی ادارے میں اپنی طاقت سے یا انٹرنیٹ پر اپنی انگلیوں سے دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی آزادی مل جائے، تو بظاہر زندہ اور ترقی یافتہ معاشرہ اندر سے زخمی ہوسکتا ہے۔ ایذا رسانی اسی اندرونی زخم کا نام ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: قرآن و حدیث کی روشنی میں جین زی سے برتاؤ

ایذا رسانی کو عموماً صرف مارپیٹ، گالی گلوچ یا کسی واضح تشدد تک محدود سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ اس کی حقیقت کہیں زیادہ وسیع ہے۔ کسی کو دھکا دینا جسمانی ایذا ہے، مگر کسی کو بار بار حقیر سمجھ کر بولنا بھی ایذا ہے۔ کسی کو زخمی کرنا ظلم ہے، مگر کسی کی عزتِ نفس کو روزانہ چند جملوں سے زخمی کرنا بھی ظلم سے کم نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جسم کا زخم دکھائی دیتا ہے اور دل کا زخم اکثر خاموش رہتا ہے۔ یہی خاموشی بعض اوقات ایذا رسانی کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ ایذا رسانی کبھی فرد تک محدود نہیں رہتی؛ وہ سماجی شکل بھی اختیار کر لیتی ہے۔ کسی شخص کو جان بوجھ کر دوستوں سے الگ کرنا، اس کی ساکھ خراب کرنا، دوسروں کو اس کے خلاف بھڑکانا یا اسے اجتماعی طور پر حقیر بنانا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ امتیازی سلوک بھی اسی ذہنیت کی پیداوار ہے، جب رنگ، نسل، زبان، جنس، قومیت، طبقے یا کسی شناخت کی بنیاد پر کسی انسان کی قدر گھٹا دی جائے۔ کسی انسان کو اس کی خوبی یا کردار سے نہیں بلکہ اس کی پیدائشی یا سماجی شناخت سے ناپنا انصاف کے بنیادی اصول کو ہی الٹ دیتا ہے۔ 

سوال یہ ہے کہ انسان دوسرے انسان کو تکلیف کیوں دیتا ہے؟ اس کا کوئی ایک سبب نہیں۔ کبھی غصہ سبب بنتا ہے، کبھی حسد، کبھی انتقام، کبھی احساسِ برتری اور کبھی اپنی کمزوری کو چھپانے کی خواہش۔ بعض لوگ اختیار ملتے ہی یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ طاقت انہیں دوسروں کی عزت پامال کرنے کا حق بھی دے دیتی ہے۔ حالانکہ اختیار کی اصل آزمائش یہی ہے کہ طاقت رکھنے والا کمزور کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ جسے کوئی روک نہ سکتا ہو، اس کا خود کو روک لینا ہی کردار کی پہلی علامت ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: استاد کا درجہ بلند، لیکن کیا ہم نے طریقۂ نبویؐ سے درس دینا سیکھا ہے؟

گھر اور تربیت بھی اس رویے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جو بچہ ہر اختلاف کا جواب چیخ، گالی یا مار سے دیکھتا ہے، وہ ممکن ہے اختلاف کو گفتگو کے بجائے طاقت سے حل کرنا سیکھ لے۔ اس کے برعکس جس گھر میں غلطی کی اصلاح احترام کے ساتھ کی جائے، وہاں اختلاف بھی دشمنی نہیں بنتا۔ تربیت دراصل آنے والے معاشرے کی خاموش تعمیر ہے۔ آج بچوں کے ساتھ دانستہ یا نادانستہ کیا گیا برتاؤ کل ان کے ہاتھوں سے معاشرے میں ظاہر ہوگا۔ 

یہاں قانون کی ضرورت بھی سامنے آتی ہے۔ بعض صورتیں واضح طور پر جرم ہوتی ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے۔ مگر قانون ہر برائی کے دروازے پر پہرہ نہیں دے سکتا۔ کوئی شخص قانون کے خوف سے گالی نہ دے، یہ ایک درجہ ہے؛ اور کسی کی عزت کو اپنا حق ہی نہ سمجھنا دوسرا درجہ۔ پہلا بیرونی روک ہے، دوسرا اندرونی اصلاح۔ ایک مضبوط معاشرے کو دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

اصلاح کا آغاز گھر سے، تعلیم کا آغاز کردار سے اور معاشرتی امن کا آغاز زبان سے ہو سکتا ہے۔ کسی کے بارے میں بولنے سے پہلے یہ سوچنا کہ یہی بات اپنے بارے میں سننا کیسا لگے گا، شاید اخلاقی زندگی کا ایک سادہ مگر مؤثر اصول ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جاننا اور جینا میں فرق ہے، دین کو جاننا ہی نہیں، جینا بھی چاہئے!

ایک معاشرہ اس وقت محفوظ نہیں ہوتا جب وہاں جرم کم دکھائی دے؛ وہ اس وقت محفوظ ہوتا ہے جب انسان اپنے آپ کو دوسرے انسان کے لئے خطرہ نہیں بلکہ امان سمجھنے لگے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کسی کو تکلیف پہنچانے کے بعد کتنی سزا مل سکتی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ایسا دل کیوں پیدا نہ ہو جو کسی بے قصور کو تکلیف پہنچانے سے پہلے ہی رک جائے۔ جس دن انسان کی طاقت دوسرے کے خوف کے بجائے اس کے اطمینان کا سبب بننے لگے گی، زبان زخم دینے کے بجائے سہارا دینے لگے گی، اختلاف نفرت کے بجائے سمجھ پیدا کرے گا اور خاموش لوگ ظلم کے تماشائی بننے کے بجائے حق کے گواہ بنیں گے، اسی دن معاشرہ صرف قانون سے نہیں، کردار سے محفوظ ہوگا۔ 

انسان ہونے کا شاید سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ انسان دوسرے انسان کیلئے کیا ہے: ایک خوف، ایک بوجھ، ایک زخم یا ایک امان؟ اس سوال کا جواب ہر شخص اپنے قول، اپنے اختیار اور اپنے روزمرہ رویے سے دے رہا ہے۔ 

گھر میں ایذارسانی
ایک گھر کا تصور کیجئے،جہاں ایک فرد ہر بات پر دوسرے کو طعنہ دیتا ہے۔ کھانے میں ذرا سی کمی ہو تو طنز، لباس پسند نہ آئے تو تحقیر، کسی کام میں ناکامی ہو تو سب کے سامنے مذاق۔ باہر سے دیکھنے والا شاید کہے کہ گھر میں تو کوئی مارپیٹ نہیں، پھر مسئلہ کیا ہے؟ مگر سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص ہر روز اپنے ہی گھر میں اپنی قدر و قیمت کھوتا رہے تو اس کے اندر کیا باقی رہ جائے گا؟ جسم سلامت رہ سکتا ہے، مگر شخصیت آہستہ آہستہ ٹوٹ سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اپنے گناہوں کا بار تقدیر کے ذمہ لگانا ایک خطرناک فکری مغالطہ ہے

مذہبی ایذارسانی
مذہبی ایذا رسانی زیادہ حساس معاملہ ہے۔ کسی شخص کو اس کے عقیدے، مذہبی شناخت یا عبادت کی وجہ سے تنگ کرنا صرف ایک فرد کی دل آزاری نہیں؛ یہ معاشرے میں باہمی احترام کے بنیادی اصول کو مجروح کرتا ہے۔ اختلافِ عقیدہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، مگر اختلاف کا وجود تحقیر کا جواز نہیں بن سکتا۔ اگر اختلاف کی وجہ سے انسان دوسرے انسان کی عزت چھیننے لگے تو اختلاف علم کا مسئلہ نہیں رہتا، طاقت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

ایذارسانی کی نئی قسم
زمانہ بدلتا ہے تو ایذا رسانی کے ذرائع بھی بدل جاتے ہیں۔ کبھی کسی کو خط کے ذریعے بدنام کیا جاتا تھا، آج ایک پوسٹ، تصویر یا ویڈیو چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ سائبر ایذا رسانی نے ظلم کو ایک نئی رفتار دے دی ہے۔ کسی کی نجی معلومات پھیلانا، جعلی الزام لگانا، بلیک میل کرنا یا مسلسل توہین آمیز پیغامات بھیجنا اس کے ذہنی سکون کو گھر بیٹھے نشانہ بنا سکتا ہے۔ انگلیاں چھوٹی ہیں، مگر ان سے کیا جانے والا نقصان بہت بڑا ہو سکتا ہے۔

اسلامی تعلیمات 
 اسلام نے انسانی عزت کو دینی ذمہ داری بنایا ہے۔ قرآن نے تمسخر، عیب جوئی، برے القاب اور بلاوجہ ایذا سے روکا اور رسولؐ نے مسلمان کی خوبی یہ بتائی کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں۔ اس میں ایک گہری بات پوشیدہ ہے: عبادت انسان کو صرف اپنے رب سے تعلق نہیں سکھاتی، بندوں کے حقوق کی حفاظت بھی سکھاتی ہے۔ اگر زبان ذکر سے تر ہو مگر اسی زبان سے انسانوں کی عزت پامال ہوتی رہے، تو اصلاح ابھی ادھوری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK