Inquilab Logo Happiest Places to Work

حج بدل کا ذکر تو کتابوں میں ہے مگر عمرہ بدل دَور حاضر کی اصطلاح ہے

Updated: August 14, 2026, 4:32 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)حج بدل کا ذکر تو کتابوں میںہے مگر عمرہ بدل دَور حاضر کی اصطلاح ہے جس کا کتب فقہ میں کہیں کوئی ذکر نہیں (۲) اوقاف اور زکوٰۃ کی رقم (۳) لے پالک کا شرعی حکم (۴) سودی نظام اور حدیث رسولؐ۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے: جس شخص کو کسی دوسرے کی طرف سے حجِ بدل کرنا ہو، اس کے لئے پہلے اپنا حج ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کیا عمرۂ بدل کے لیے بھی یہی حکم ہے؟ یعنی کیا کسی دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنے والے شخص کے لیے پہلے اپنا عمرہ ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟ نور محمد، ممبئی

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: حج بدل کے لئے کسی بھی مسلمان کو بھیجا جاسکتا ہے مگر افضل یہ ہے کہ ایسے کسی شخص کو بھیجاجائے جو پہلے اپنا فریضہ حج ادا کرچکا ہوکیونکہ جو حج کرچکا ہو اول تو اسے تجربہ ہونے کی بنا پر غلطی کا امکان کم ہوگا نیز غریب کے لئے زمانہ حج میں مکہ مکرمہ پہنچنے پر کئی مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں اسی وجہ سے علماء نے لکھا ہے کہ جس نے اپنا حج فرض ادا کرلیا ہو حج بدل کے لئے اس کو بھیجنا افضل ہے (تاہم اگر ایسے کو بھیجا اور اس نے حج بدل صحیح طرح سے کرلیا تو جس کی طرف سے گیا ہے اس کا فرض ادا ہوجائیگا)بغیر اپنا فرض ادا کیے حج بدل کو جانے والے کے لیے البتہ یہ مسئلہ ہے کہ اگر خود اس پر حج فرض ہوچکا ہے تو اپنا فریضہ ادا کرنے سے پہلے اس کا حج بدل کے لئے جانا مکروہ تحریمی (قریب بہ حرام)ہے ورنہ خلاف اولیٰ بہر حال ہے۔ حج بدل کا ذکر تو کتابوں میں موجود ہے مگر عمرہ بدل دَور حاضر کی اصطلاح ہے جس کا کتب فقہ میں کہیں کوئی ذکر نہیں۔ بہر حال اگر اس نے پہلے حج نہیں کیا لیکن حج اس پر فرض ہے تو پہلے اسے اپنا حج فرض کرلینا چاہئے حج فرض نہیں تب بھی یہی بہتر ہے حج کرچکا ہے مگر عمرہ نہیں کیا(مثلا صرف حج افراد کیا ہو)تو عمرہ میں حرج نہیں، کسی دوسرے کی طرف سے عمرہ کرسکتا ہے واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: اپنے گناہوں کا بار تقدیر کے ذمہ لگانا ایک خطرناک فکری مغالطہ ہے

اوقاف اور زکوٰۃ کی رقم 

کیا زکوٰۃ کے پیسوں سے مسجد کے لئے مائیک یا مائیک کے لئے مشین خرید سکتے ہیں ؟ نعیم الدین، یوپی 

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے کہ کسی مستحق کو دے کر مالک بنادیا جائے (مستحق زکوٰۃ جو صحیح مصرف ہو اس کے سرپرست یا نمائندےکو دینے سے بھی وہ مالک شمار ہوگا)اس طرح مستحق کو مالک بنا دینے کے بعد زکوٰۃ ادا ہوجائیگی اور اسے اختیار ہو گا کہ جہاں چاہے اپنی ضرورت میں خرچ کرے۔ نقد رقم کے علاوہ زکوٰۃ کی رقم سے اس کی ضرورت کا سامان خرید کر بھی دیا جاسکتا ہے (یہاں تک کہ غریب کے مکان کی مرمت اور تعمیر بھی زکوٰۃکی رقم سے کرادی جائے تو بھی زکوٰۃ ادا ہوجائیگی مگر شرط یہ ہے کہ مکان غریب مستحق ِ زکوٰۃ ہی کا ہو ) مسجد فرد واحد کی ملکیت نہیں ہوتی، بشمول مسجد تمام اوقاف خالص اللہ رب العزت کی ملک ہوتے ہیں اس لئے مساجد(یا مدارس وغیرہ)کی تعمیر یا دیگر ضروریات میں خرچ کرنے میں مستحق کو مالک بناکر دینے کی شرط مفقود ہے اسلئے زکوٰۃ بھی ادا نہ ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے صراحت کے ساتھ لکھ دیا ہے کہ زکوٰۃ سے مسجد کی تعمیر نہیں کی جاسکتی۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

لے پالک کا شرعی حکم 

حضرت مفتی صاحب ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ بھائی نے اپنی بہن کا بچہ گود لیا ہے تو اس بچے کی جنم پتری میں اس کے باپ کا نام جائز ہے یا جس نے گود لیا ہے اس کا جائز ہے اور آدھار کارڈ میں کس کا نام جائز ہے ؟ عبد التواب، یوپی 

یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، ہر تکلیف ہاتھ سے نہیں پہنچتی، بعض زبان سے پہنچائی جاتی ہے اور بعض خاموش رویوں سے!

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: عربوں میں یہ رواج تھا کہ لے پالک (جسے گود لیا جائے اس)کو حقیقی اولاد کا درجہ حاصل ہوتا تھا یہاں تک کہ گود لینے کی ولدیت سے ہی اسے پہچانا جاتا تھا چنانچہ حضرت زیدؓ جو حضورؐ کے لے پالک تھے ان کو بھی زید ابن محمدؐ کہا جاتا تھا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس کی ممانعت فرمادی۔ ارشاد ربانی ہے کہ اپنے لے پالکوں کو اپنی اولاد نہ کہو۔ نیز ارشاد ہے ان کو ان کے حقیقی والدین کے نام سے پکارو۔ ایک مقام پر بڑی وضاحت سے کہاگیا ہے کہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو اللہ نے تمہاری اولاد کا درجہ نہیں دیا۔ ان تصریحات سے صاف ظاہر ہےکہ گود لئے ہوئے بچے بچیاں حقیقی اولاد کے حکم میں نہیں ہیں لہٰذا گود لینے والے کی ولدیت، ان کو حاصل نہیں ہوگی بلکہ جو حقیقی والدین ہیں ولدیت، کے خانےمیں انہی کا نام درج کیا جائیگا۔ اس لئے جنم پتری اور آدھار کارڈ وغیرہ میں ہر جگہ حقیقی باپ ہی کا نام ہونا چاہئے البتہ پالنے والا سرپرست (گارجین ) کی حیثیت سے اپنا نام دے سکتا ہے مگر نسب میں تبدیلی کی شرعاً کوئی گنجائش نہیں۔ و اللہ اعلم وعلمہ اتم

سودی نظام اور حدیث رسولؐ

کیا کسی حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب سود عام ہو جائےگا ورنہ کم از کم غبار سے تو کوئی محفوظ نہ رہےگا؟ کیا یہ معتبر روایت ہے اور پیشینگوئی کس زمانے کے لئے ہے نیز جب اتنا عموم ہوگا تو بہت لوگ نہ چاہتے ہوئےاس میں مبتلا ہوں گے ان کے لئے کیا حکم ہوگا ؟ محمد عمران، ممبئی

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: اس مفہوم کی روایت تو منقول ہے اور بے اصل بھی نہیں۔ در اصل اس کا تعلق اشراط الساعہ یعنی قیامت کی علامات سے ہے، وہ بھی قرب قیامت کی علامات سے جن کا آغاز ہوچکا ہے۔ آج معیشت کا سودی نظام پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، خاص کر بینکنگ جس کی بنیاد ہی سودی لین دین پر ہے اور تقریباً ہر آدمی بینک سے لین دین پر مجبور کی طرح ہوگیا ہے۔ جو کاروباری لوگ ہیں ان کے لئے تو بینک اکاؤنٹ کاروباری ضرورت ہے لیکن مزدور طبقہ بھی بینک اکاؤنٹ کا محتاج ہے۔ اس سب میں سود نہیں تو اس کا غبار بہر حال معاملات میں دخل انداز ہے، تاہم غنیمت ہے کہ آج بھی بہت سے لوگ بچنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سود در سود کی وجہ سے کئی لوگ انجانےمیں اس غبار سے محفوظ نہیں رہ پاتے بلکہ اب مزاج یہ بنتا جارہا ہے کہ سود کی رقم جیب میں آنے کے بعد بعض حضرات حیلوں بہانوں سے ذاتی استعمال کے جواز کی صورتیں تلاش کرنے لگے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں اس لعنت اور اس کی وعید سے محفوظ رکھے۔ جولوگ بچنے کی کوشش کریں گے اگر مجبوراً اس کے غبار سے محفوظ نہ رہے تو امید ہے کہ وہ عنداللہ جوابدہی سے بری الذمہ قرار پائیں گے کیونکہ ہر ایک اس کا مکلف نہیں کہ کسی پہاڑ کی کھوہ میں جاکر اس ماحول سے خود کو بچائے، انسان ہے تو معاشرتی ضرورتوں کی بنا پر اسے انسانوں کے درمیان ہی رہنا ہے اس لئے اس منکر سے بچنے کی کوشش اسے جوابدہی سے ضرور محفوظ رکھے گی۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK