غور کیجئے کہ رب العالمین نے اپنی کتاب قرآن مجید کی سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۲۰۸؍ میں یہ حکم کیوں دیا کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ؟
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 4:44 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai
غور کیجئے کہ رب العالمین نے اپنی کتاب قرآن مجید کی سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۲۰۸؍ میں یہ حکم کیوں دیا کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ؟
غور کیجئے کہ رب العالمین نے اپنی کتاب قرآن مجید کی سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۲۰۸؍ میں یہ حکم کیوں دیا کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ؟ اس میں ’’کافہ‘‘ کا لفظ کیوں وارد ہوا جس کا معنی ’’پورے کے پورے‘‘ اخذ کیا گیا؟ رب العالمین کا حکم یہ بھی ہوسکتا تھا کہ اے ایمان والو اسلام میں داخل ہوجاؤ۔ پورے کے پورے داخل ہونے کی بات کیوں کہی گئی؟ ہمارا قیاس کہتا ہے کہ پروردگار جانتا تھا کہ جس انسان کو اُس نے پیدا کیا وہ اسلام میں داخل ہوا بھی تو آدھا ادھورا داخل ہوگا (سوائے چند لوگوں کے جو پورے کے پورے داخل ہوئے)۔ اگر ہم اپنا جائزہ لیں تو یہ قیاس یقین میں بدل جاتا ہے۔ ہم میں سے چند ایک کو چھوڑ کر جو تقویٰ والی زندگی گزارتے ہیں، بقیہ تمام ’’پورے کے پورے‘‘ داخل نہیں ہوئے۔ ہوئے ہوں تو بتا دیجئے۔ ہم آدھے ادھورے داخل ہوئے ہیں اور شاید اس عہد کے ساتھ کہ نماز پڑھیں گے مگر دو تین وقت کی، روزہ رکھیں گے مگر روحِ روزہ کی فکر کئے بغیر، حلال کی پابندی کو لازمی جانیں گے مگر چند ایک باتوں ہی میں یہ التزام رکھ پائیں گے کیونکہ ہمارے خیال میں ہر معاملے میں اس کا التزام ممکن نہیں ہے، مثلاً بینک میں رقم رکھتے ہیں جس سے بینک سرمایہ کاری کرتا ہے اور منافع کماتا ہے، وہ اس منافع میں سے ہمارا حصہ دیتا ہے جو انٹریسٹ کہلاتا ہے مگر ہے تو منافع! اِس طرح، ہم اپنی عقل بھی خوب لگاتے ہیں اور سہولتیں تلاش کرتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ’’پورے کے پورے‘‘ داخل نہیں ہوتے۔ کیا یہ ٹھیک طریقہ ہے ہمارا؟
یہ بھی پڑھئے: آئیے، ہم اپنی اصلاح کیلئے خود ایسی کوشش کریں جس میں کامیاب ہوسکیں
ابھی شادیوں کا موسم آئے گا۔ یہ موسم بڑی تام جھام لے کر آتا ہے۔ ایک ایک شہر میں کئی کئی شادیاں ہوتی ہیں اور بعض اوقات اتنی شادیاں ہوتی ہیں کہ دعوت پانے والا شخص فوراً کیلنڈر دیکھنے لگتا ہے کہ جا پائے گا یا نہیں کیونکہ وہ کسی اور شادی کیلئے پہلے سے کمٹ کرچکا ہوتا ہے۔ پھر بھی کچھ لوگ دن میں دو تا تین شادیوں میں شرکت کے ذریعہ اپنے سماجی تعلقات کا بھرم رکھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہ موسم تام جھام لے کر اس لئے آتا ہے کہ آج کے دور میں کوئی بھی شادی چند ہزار یا ایک دو لاکھ میں نہیں ہوتی بلکہ کم سے کم کئی لاکھ میں ہوتی ہے۔ ہم سے اُمید کی جاتی ہے کہ ہم سادگی سے شادی کریں۔ اس پر ہمارا اتفاق ہے مگر ’’دل ہے کہ مانتا نہیں‘‘ کے مصداق لوگ باگ سادگی سے شادی کرنے کے بجائے سادگی سے یہ کہتے ہوئے ملتے ہیں کہ ’’شادی ہے تو خرچ تو ہوگا‘‘ اور پھر جو خرچ شروع ہوتا ہے تو لگتا ہے دولہا دولہن کے والدین خود بھی خرچ ہوجائینگے۔ بہت سوں کی استطاعت ہوتی ہے بہت سوں کی نہیں ہوتی مگر خرچ سب کرتے ہیں، کوئی دس لاکھ میں شادی نمٹاتا ہے کوئی ایک کروڑ تک پھونک دیتا ہے جبکہ اسلام کی نظر میں شادی صرف نکاح اور ولیمہ تک محدود ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: خداوند قدوس نے آپؐ کو بڑی متاثر کن نرم گفتاری اور دانائی عطا فرمائی تھی!
ہم ’’پورے کے پورے‘‘ داخل ہوتے تو شادی کو نکاح و وَلیمہ تک محدود رکھتے مگر ہمارے خیال میں شادی شادی نہیں ہوتی جب تک خرچ نہ ہو، کھانے میں تین چار اسٹارٹرس کے ساتھ دس بارہ یا اس سے کہیں زیادہ ائیٹم نہ ہوں۔ ہم نے بہتوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ شادی میں تو سب ارمان نکالیں گے۔ ارمان کا قصہ یہ ہے کہ تنہا نہیں نکلتا ارمانوں کی بارات نکلتی ہے جس میں ایک سے بڑھ کر ایک ارمان شامل ہوتا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک ارمان کا معنی ہے ایک سے بڑھ کر ایک خرچ۔
ہمیں اس تفصیل میں نہیں جانا ہے بلکہ اس تحریر کے ذریعہ یہ پیغام دینا ہے کہ شادی کو اگر سادگی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے پر اکتفا نہیں کیا گیا تو پھر اخراجات کیلئے ہزار بہانے ازخود میسر آجائیں گے۔ وطن عزیز میںشادیوں کو معاشی نقطۂ نظر سے دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اب یہ انڈسٹری ۱۳۰؍ بلین ڈالر کی ہوچکی ہے۔ یہ رقم ہندوستانی کرنسی میں۱۲؍ لاکھ بلین روپے کے مساوی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں برادران وطن کا حصہ آبادی کے اعتبار سے بھی اور خرچ کے اعتبار سے بھی زیادہ ہے مگر مسلم آبادی (۱۸؍ فیصد) کے حساب سے جوڑیں تو مسلم شادیوں کی انڈسٹری کے فروغ پانے کا احساس ہوگا کیونکہ۱۳۰؍ بلین کا ۱۸؍ فیصد ۲۱؍ کھرب روپے تو ہو ہی گیا۔ سوچئے تو یقین نہیں آئے گا کہ کیا واقعی ہم شادیوں پر اتنی رقم خرچ کرتے ہیں؟ اگر اس کا نصف بھی مان لیں تو ۱۰؍ کھرب تو خرچ ہو ہی رہا ہوگا۔ دس کھرب سے قوم کی ترقی کی جدوجہد کو معاشی ضرورتوں کے تحت رکنا نہیں پڑے گا یہ تو بالکل طے ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فتح اور قانون قدرت
کیا ہم اسلام میں ’’پورے کے پورے‘‘ داخل نہیں ہوسکتے؟ اگر داخل ہوجائیں تو ’’شادی میں ہونے والے خرچ‘‘ کو ’’سادگی میں ہونے والا خرچ‘‘ بنانے میں دیر نہیں لگے گی۔ اس طرح ہم فضول خرچی سے بچیں گے اور ہم سے قرآن کریم کے اس حکم کی تعمیل ہوگی جس میں اہل ایمان سے کہا گیا ہے کہ ’’ حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بیشک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘