نقوش سیرتؐ سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ سیرتؐ کا مطالعہ ہی لوگوں نےترک کر دیا ہے۔ اب تو گھروں میں سیرت کی کتابیں تک دکھائی نہیں دیتیں جبکہ ان کا مطالعہ ہمیں ہر اعتبار سے مالامال کرتا ہے۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 4:27 PM IST | Maulana Sayed Mohammad Rabey Hasani Nadwi | Mumbai
نقوش سیرتؐ سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ سیرتؐ کا مطالعہ ہی لوگوں نےترک کر دیا ہے۔ اب تو گھروں میں سیرت کی کتابیں تک دکھائی نہیں دیتیں جبکہ ان کا مطالعہ ہمیں ہر اعتبار سے مالامال کرتا ہے۔
رسول مقبول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین تھے، انسانوں کی ہدایت اور راہ حق کی نشاندہی اور وضاحت کے لئے رب العالمین کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ آپؐ کی زندگی کا کام و پیغام دین حق کا پہنچانا اور شریعت اسلامی کی وضاحت تھی لیکن آپؐ رسول ہونے کے ساتھ ساتھ انسان تھے، انسانی احساسات، تأثرات اور معاملات سے آپؐ کو بھی اسی طرح واسطہ پڑتا تھا، جس طرح کسی انسان کو پڑتا ہے۔ دعوت دین کی راہ میں آپؐ کو صعوبتیں پیش آتی تھیں، آپؐ ان صعوبتوں کو انسان ہونے کے ناطے محسوس کرتے تھے۔ اہل تعلق سے محبت ، حوادث پر رنج، خوشی کے موقع پر مسرت آپؐ کو بھی انسانوں کی طرح ہوتی تھی۔ جہاں ان احساسات و تاثرات کے اظہار کا آپؐ موقع محسوس کرتے ، ان کا اظہار بھی فرمایا کرتے تھے ۔
یہ بھی پڑھئے: فتح اور قانون قدرت
آپؐ نے ایک موقع پر خواتین کی نزاکت کی کیفیت کا لحاظ اس عبارت سے لگایا کہ جب ایک مرتبہ دورانِ سفر ایک حدی خواں کو آہستہ چلنے کی ہدایت دیتے ہوئے آپؐ نے خواتین کو آبگینوں سے تشبیہ دی۔ اسی طرح ایک موقع پر آپؐ کا یہ فرمانا کہ’’آج کا دن ایسا ہے کہ اس کا سلسلہ بعد میں چلے گا‘‘ ذرا اس طرز ادا کو دیکھئے ، کتنے اچھے طریقہ سے کسی قضیہ کے کسی نہ کسی شکل میں جاری رہنے کا امکان بتایا گیا ہے۔
یہ تو جملے تھے ، آپ ﷺ کے اس خطبہ کو دیکھئے جو آپ ﷺ نے ہوازن سے واپسی پر مال غنیمت کی تقسیم میں بعض غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے دیا، اور آپؐ کی مختلف دعاؤں کو دیکھئے، کیسی باریکی اور نفسیاتی کیفیت کا لحاظ اور تاثرات کی سچی ادائیگی ملتی ہے، اس میں اپنی عبدیت اور پروردگار کی عظمت کا پورا احساس اُجا گر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حج کی حقیقی جہت یہ ہے کہ دل کی دُنیا میں حرم ِ بندگی کی تشکیل ہو!
مؤثر اور فصیح طرز ادا اور دل کو متحرک کر دینے والی تعبیر ، دعوت دین کے کام کے لئے ایک ضروری اور مؤثر ذریعہ تھا، امت کی رہنمائی اور تعلیم و تزکیہ کے لئے بھی اس کی ضرورت تھی، چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی صلاحیت آپؐ کو بدرجہ اتم عطا فرمائی گئی تھی۔ بہرحال آپ ﷺ کی فصاحت اور حسن ادا، آپ ؐ کی گفتگو ،خطابت، نصیحت اور اپنے رب کے سامنے اظہار عاجزی، حمد و مناجات میں کھلے طریقہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ آپؐ کی فصاحت کلام و حسن بیان پر سب کو اتفاق ہے۔ عربوں میں صحت کلام و فصاحت کے لئے جن اسباب و ذرائع کی ضرورت ہوتی تھی ، وہ بھی آپؐ کو بدرجہ اتم حاصل تھے۔ آپؐ فصیح ترین قبیلہ قریش میں پیدا ہوئے، پھر قبیلہ بنی سعد میں رضاعت کا زمانہ گزارا ،یہ قبیلہ فصیح قبائل میں شمار کیا گیا ہے، پھر پاکیزہ زندگی اور پاکیزہ خیالات و احساسات آپ ﷺ کا طرز رہا، پھر نبوت ملی تو بلاغت و اعجاز بیان کا معیاری کلام قرآن مجید آپؐ پر اتارا جانے لگا جو آپؐ کا اصل معلم و مربی تھا، آپؐ کا قلب و ذہن اور آپ ﷺ کا اسلوب بیان، سب نے اس آسمانی معلم سے کسب فیض کیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں جہاں مناجات اور دعائیں ہیں، وہیں قابل قدر اشخاص اور محبین کے ساتھ محبت و تعلق کے بلیغ جملے ہیں اور اغیار سے گفتگو میں جو کلام فرمایا ہے، اس میں موقع محل کی نزاکت کا موثر لحاظ ہے۔ آپؐ نے بنی عبد قیس سے جو آپ ؐ کے قبیلہ قریش کی نظر میں اغیار تھے، ملاقات کے لئے آنے پر زیادہ دلداری اور ملاطفت کا اظہار مؤثر و دلنواز اسلوب میں بیان فرمایا: مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى یعنی ’’آپؐ لوگوں کو بہت بہت خوش آمدید، آپ کو کوئی بے احترامی کا معاملہ نہیں ملے گا ، اور نہ آپ کو آنے پر افسوس ہوگا ۔‘‘
اتنا ہی نہیں، آپؐ کی زبان مبارک سے متعدد موقعوں پر ایسے جملے نکلے ہیں جو کہاوت اور مثل بن گئے اور آج تک ضرب الامثال کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
مسلمانوں کی بڑی خصوصیت اور اہم صفت قرآن مجید میں یہ بتائی گئی ہے کہ:
’’تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (سورہ آل عمران: ۱۱۰)
یہ بھی پڑھئے: دینی تعلیم پر مشتمل ’گرمائی کلاسیز‘ کا اہتمام کیجئے
مسلمانوں کی یہ صفت و خصوصیت قرآن مجید میں صرف بتائی ہی نہیں گئی ہے بلکہ اس کا باقاعدہ حکم دیا گیا ہے کہ تم میں ایک تعداد ایسی ہونی چاہئے کہ جو اچھی باتوں کی طرف دعوت دیتی ہو اور نیکی کی تلقین کرتی ہو اور اچھی بات کی ہدایت کرتی ہو اوربری بات سے منع کرتی ہو۔ قرآن کے الفاظ ہیں:’’اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں۔‘‘ (سورہ آل عمران:۱۰۴)
مسلمانوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کی کامیابی کا راز اسی صفت میں رکھا گیا ہے۔ اس پر عمل کرنے کی بنا پر وہ دنیا میں ہر جگہ پھیلے ہیں۔ ہم کو اپنے حالات اور واقعات کے سلسلہ میں اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہئے، قرآن مجید میں آتا ہے:’’اور جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو اُس (بد اعمالی) کے سبب سے ہی (پہنچتی ہے) جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی ہوتی ہے حالانکہ بہت سی(کوتاہیوں) سے تو وہ درگزر بھی فرما دیتا ہے۔‘‘
(سورہ الشوریٰ: ۳۰)
یعنی اپنے پروردگار کے احکام سے روگردانی اور برے اعمال اختیار کرنے کا نتیجہ ہوتا ہے، اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے بہت کچھ معاف بھی کر دیتا ہے، یعنی ہمارے بہت سے گناہوں کی گرفت نہیں کرتا ۔ ذرا ہم اپنے گریباں میں جھانکیںکہ ہم اللہ تعالیٰ کی مرضی اور حکم کے خلاف کتنی حرکتوں اور بری عادتوں میں مبتلا ہیں۔ ہم کو غور کرنا چاہئے اور اللہ کے غضب کو بلانے والی چیزوں سے بچنا چاہئے، ظالم کا مقابلہ اسی جگہ پر ہے اس کو ضرور سزاملنی چاہئے اور وہ ان شاء اللہ ملے گی لیکن ہم دینی و اخلاقی لحاظ سے خودکو دیکھیں کہ ہم نے اللہ کے غضب والے کام تو نہیں کئے؟ اگر کئے ہیں تو ان کی اصلاح کریں اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اس طرح اس کی ناراضی سے بیچ سکیں گے اور اس کی رحمت ومدد کے مستحق بن سکیں گے اور جب اس کی مدد ہو گی تو کوئی بھی ہم کو کچھ بھی گزند نہیں پہنچا سکے گا۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: قران، تمتع اور افراد: حج کی تین اقسام ہیں
حضرت ابراہیم ؓ کی وفات پر اظہار افسوس
آپﷺ نے اپنے صاحبزادہ حضرت ابراہیم ؓکی وفات پر اپنے تاثر ورنج کا اظہار فرمایا، جس میں ایک طرف آپؐ کی عبدیت اور احتیاط کا پورا اظہار ہے تو دوسری طرف انسانی تاثر کے سچے اظہار کے لئے بہت فصیح اور مؤثر طرز ادا ہے۔ اس موقع پر آپؐ نے فرمایا تھا: ’’دل رنجیدہ ہے، آنکھ میں آنسو آ رہے ہیں، لیکن ہم وہی کہتے ہیں جس سے رب راضی ہو، ہم تمہاری جدائی سے اے ابراہیم رنجیدہ ہیں۔‘‘ ذرا حقیقت کی عکاسی دیکھئے اور طرز ادا کی احتیاط دیکھئے اور محسوس کیجئے کہ یہ کس پایہ کا ادب ہے۔
تمثیلات ِ نبویؐ
آپؐ کی گفتگو اور خطاب کو دیکھئے تو وہاں ادبی حسن و تاثیر کی خوبصورت اور خوب سیرت جھلک ملتی ہے جو دلوں کو موہ لیتی ہے۔ آپؐ کا حضراتِ انصار سے مؤثر خطاب، آپؐ کا حجۃ الوداع کے موقع پر خطاب ، آپؐ کی وہ دلنشیں تشریح جو آپؐ نے یہ مثال دے کر کہ ’’برا کام کرنے والوں کو اگر ان کے رفقاء نے ان کے برے کام سے نہ روکا تو ان کی ایسی مثال ہوگی کہ کسی دو منزلہ کشتی پر اوپر بیٹھے لوگ نچلی منزل میں بیٹھے لوگوں کو اگر دیکھیں کہ وہ دریا سے پانی لینے کے لئے اپنی منزل کے پیندے میں سوراخ کر رہے ہیں اور وہ دوسروں کی مصیبت سمجھ کر ان سوراخ کرنے والوں کو نہ روکیں گے تو دونوں منزل کے سوار تباہ ہو جائیں گے۔‘‘ اسی طرح آپؐ نے اس رہنمائی کی وضاحت کرتے ہوئے جو آپؐ تمام لوگوں کے لئے لائے اور کچھ نے مانا کچھ نے نہیں۔ آپ نے نہایت آسان اور دلنشیں اسلوب میں مثال دیتے ہوئے فرمایا:
” بارش کا پانی زمین پر بہتا ہے، مقامی زمین کو سیراب کرتے ہوئے دور کے لوگوں کو بھی بہہ کر پہنچتا ہے۔ اس طرح دونوں زمینوں کو فائدہ پہنچاتا ہے، لیکن کچھ زمین سپاٹ پتھر کی طرح ہوتی ہے، پانی سے فائدہ نہیں اٹھاتی بلکہ اِدھر اُدھر بہا کر ضائع کر دیتی ہے‘‘ آپؐ نے اس مثال سے زمینوں کے حقیقی فائدہ اٹھانے والے اور اس علم کو ضائع کر دینے یا نا قابل قبول سمجھنے والوں سے بڑے سہل اور بلیغ انداز میں تشبیہ دی۔